#کالم

نئے صوبے پرانے جھگڑے

new desing hjk

افکارِ تازہ ڈاکٹر افتخارالحق
نئے صوبے پرانے جھگڑے
رفتہ رفتہ یہئ زنداں میں بدل جاتے ہیں
اب کسی شہر کی بنیاد نہ ڈالی جائے

فراز نے شہروں کے بے ہنگم پھیلاؤ سے جڑے مسائل کی لمبی داستان دو مصرعوں میں سمو دی ہے ۔ اگر شعر کے متن کی معنوی توسیع کی جائے تو شہر کی جگہ صوبوں پر بھی اسی شاخسانے کا اطلاق ہوگا ۔ تقسیمِ ہند کے وقت ہندوستان کے صرف چھ صوبے تھے لیکن اب وہاں کل اٹھائیس خود مختار صوبے / ریاستیں اور آٹھ یونین ٹیریٹریز ہیں جو مرکزی حکومت کے تحت انتظامی اکائیاں ہیں ۔ یعنی آزادی سے لے کر اب تک انتظامی اکائیوں / صوبے وغیرہ کی تعداد میں بھارت نے چھ گنا اضافہ کیا تاکہ ماضی کے چھ صوبے اتنے بڑے نہ ہو جائیں کہ شدید انتظامی مشکلات پیدا ہونے لگیں ۔
اس کے برعکس پاکستان میں آزادی کے وقت تین بڑی حد تک خود مختار صوبے تھے : پنجاب ، سندھ اور صوبہ سرحد /خیبر پختونخوا جب کہ بلوچستان ، شمالی اور قبائلی علاقہ جات کے ساتھ چند سال بعد آزاد کشمیر خصوصی انتظامی اکائیوں کا درجہ رکھتے تھے ۔ بیچارے بلوچستان کو 1970 تک صوبے کا درجہ عطا نہ کیا گیا ۔ پھر اچانک 2012 میں گلگت بلتسان نامی کو نیم صوبہ نما خطہ بنا دیا گیا ۔ کچھ سال بعد شاید حکومتِ وقت کو اس غلطی کا احساس و ادراک ہوا تو قبائلی علاقہ جات کو خیبر پختونخوا میں ضم کر دیا گیا ۔ اس اعلان پر اس وقت کی حکومت تک راقم نے اپنے مفصل تحفظات پہنچانے کی کوشش کی کہ اس طرح دہشت گردی کا ایک طویل سلسلہ شروع ہونے کا شدید اندیشہ ہے ۔ بہت سے تاریخی اور منطقی جواز بھی پیش کیے لیکن :
زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد
کی مثال صادق آتی رہی ۔ اب سال 2026 کے آغاذ تک اس نئے اور بڑے صوبے سے خوارج، تحریکِ طالبانِ پاکستان اور فتنہ الہند وغیرہ جیسے منحوس و ملعون ناموں سے ہر پاکستانی شناسا ہو چکا ہے۔سمجھ نہیں آتی کہ اربابِ اقتدار کو کیسے قائل کیا جائے کہ پنجاب ، سندھ اور خیبر پختونخوا کو تقسیم کر کے نئے صوبے بنانا ناگزیر ہے اور اس کی مخالفت کرنے والوں سے سیاسی مذاکرات کر کے انھیں قائل کرنا وقت کی ضرورت ہے ۔
اس بابت سندھ کی طرف سے اتنی زبردست مخالفت کی صدا بلند ہوتی ہے جیسے سندھ کو دو یا زائد صوبوں میں تقسیم کرنا شاید شرک کے مترادف کوئی گناہِ کبیرہ ہے ۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ہر صاحبَِ علم و حکمت کو بخوبی پتا ہے اور وہ ہے پون صدی گزرنے کے باوجود مقامی اور غیر مقامی سندھی کے تصور کو شعوری طور پر برقرار رکھنا ۔ کراچی اور لاہور آبادی اور رقبے کے اعتبار سے اتنا حجم رکھتے ہیں کہ انھیں اپنی جگہ صوبوں کا درجہ دینے میں تاخیر نہیں کرنی چاہئیے ۔ لاہور کے شمال مشرقی اضلاع سے لے کر فیصل آباد تک ایک صوبہ ، فیصل آباد کے جنوب سے سندھ کی سرحد تک کے اضلاع پر مشتمل سرائیکی صوبہ اور شمال مغربی پنجاب میں پوٹھواری صوبہ بنانے میں قباحت نہیں بلکہ سہولت ہی سہولت ہے۔ سندھ میں کراچی کو صوبہ بنا کر حیدر آباد سمیت دیگر اضلاع پر مشتمل کم از کم ایک الگ صوبہ بنانا ممکن ہے ۔ بعینہِ خیبر پختونخوا میں قبائلستان کے علاوہ ہندکو بولنے والوں پر مشتمل الگ صوبہ بنانا ازحد ضروری ہے ( اور اس بابت گزشتہ دنوں کچھ اطلاعات / افواہیں گردش میں تھیں)۔
نئے صوبوں کی مخالفت میں سندھ کے تحفظات کا تذکرہ ہو چکا ۔ باقی صوبوں کا عمومی اور تعلیم یافتہ طبقہ اپنے تئیں یہ دلیل دیتا ہے کہ نئی انتظامی مشینری سے اخراجات اور سول سرونٹس / افسرِ شہنشاہی کے اختیارات بہت بڑھ جائیں گے ۔ اگر اس مفروضے کو درست مان لیا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ حکومتوں اور پارلیمنٹ کی ذمہ داری کی تعریف کیا ہے۔ ایسے فیصلوں پر کوئی راتوں رات عمل تھوڑی ہوتا ہے ۔ عقلمند اور مخلص حکومتیں ہمیشہ صاحبانِ بصیرت و سیاست سے ایسے اہم امور پر مشاورت کرتی ہیں ۔ جب بھارت میں نئے صوبے بن رہے تھے ، اس وقت بھارت کی معاشی ترقی ہمارے مقابلے میں کسی طور زیادہ نہیں تھی بلکہ 1960 کی دہائی میں تو ہماری معاشی ترقی بھارت سے کوئی تین گنا ( تین سو فیصد ) تھی ۔ ایسی اقتصادی صورت میں بھارت کیسے نئے صوبے بناتا چلا گیا ، اس سوال کا جواب پانا انتہائی اہم ہے۔
آخر میں اپنی تجاویز کے حق میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بے مثال حکمت کی مثال دینا ضروری ہے ۔ مدنی دور کے اختتام تک مدینہ کا شہر بطحا ، بنی ساعدہ اور بقیع الغرقد تک پھیل چکا تھا ۔ سو یہ دیکھتے ہوئے آپ نے مدینہ کے حرم کی حدود جبلِ عیر سے جبلِ ثور اور الحرہ الشّرقیہ سے الحرہ الغربیہ تک متعین فرمائیں تاکہ اس علاقے کی حرمت دھیان میں رکھی جائے ۔ اس کے بعد رسول اللہ نے حکم دیا کہ مدینہ کی حدود اس سے آگے نہ بڑھنے پائیں اور صراحت سے حکم دیا کہ آبادی بڑھ جائے تو نیا شہر آباد کیا جائے تاکہ نظم و نسق کے مسائل پیدا نہ ہوں ۔کتنی حیرت کی بات ہے کہ غیر مسلم ممالک حکمتِ نبوی سے استفادہ کرتے ہیں اور “ اسلامی جمہوریۂ پاکستان “ کے کچھ باشندے اس استفادے سے ارادی طور پر اجتناب کرتے ہیں ۔اللہ ہمیں اپنے گمبھیر مسائل کو سمجھنے اور ان کا حل ڈھونڈنے کی توفیق عطا فرمائے ۔

نئے صوبے پرانے جھگڑے

ایک یادگار ادبی شام

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے