#کالم

ایک یادگار ادبی شام

Untitled 3

تحریر: ڈاکٹر عمرانہ مشتاق
میں مختلف ادبی و فکری تنظیموں سے وابستہ رہنے کا اعزاز رکھتی ہوں۔ اس وقت تفکر ادبی فورم کی چیئرپرسن کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہوں، اور اہلِ قلم جس اعتماد، محبت اور خلوص کے ساتھ مجھ سے وابستگی کا اظہار کرتے ہیں، وہ میرے لیے باعثِ فخر بھی ہے اور باعثِ شکر بھی۔
ادبی تنظیم “روش” ماضی میں لاہور میں نہایت فعال اور متحرک رہی، اور اس دور میں مجھے اس کی صدر کے طور پر خدمات انجام دینے کا موقع ملا۔ بعد ازاں بانیِ روش، ثناءاللہ شاہ، چشتیاں منتقل ہو گئے اور مختلف وجوہات کی بنا پر یہ ادبی قافلہ کچھ عرصے کے لیے غیر فعال ہو گیا۔ ایک طویل وقفے کے بعد ثناءاللہ شاہ صاحب نے “روش” کو ازسرِنو منظم اور فعال کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسی تجدیدِ عہد کے تحت مجھے چیئرپرسن مجلسِ مشاورت، جبکہ میری صاحبزادی، معروف شاعرہ فاطمہ احمد کو صدرِ پاکستان، روش مقرر کیا گیا۔
اسی خوش آئند ادبی پیش رفت اور روش چشتیاں سے وابستہ اہلِ قلم و شعرا کے اعزاز میں، میں اور فاطمہ احمد نے مشترکہ طور پر اپنے گھر پر ایک تعارفی و تعلقاتی تقریب کا اہتمام کیا، جس میں ایک نیم غیر رسمی مگر نہایت دل نشیں مشاعرہ اور ضیافت بھی شامل تھی۔
“روش” اردو ادب، بالخصوص پاکستان کی ادبی و فلاحی تنظیموں میں ایک باوقار، منفرد اور سرکردہ نام ہے۔ یہ وہ تنظیم ہے جس نے قلمکاروں کو محض اظہار کا پلیٹ فارم فراہم نہیں کیا بلکہ ان کے معاشی، معاشرتی اور مالی مسائل کے حل کو بھی اپنے منشور اور عملی جدوجہد کا حصہ بنایا۔ اس تاریخی حیثیت رکھنے والی ادبی تحریک کے بانی، ثناءاللہ شاہ، ایک درخشاں ادبی خانوادے کے چشم و چراغ ہیں۔
اسی یادگار ادبی سفر کی ایک حسین کڑی کے طور پر منعقد ہونے والے اس مشاعرے کی صدارت ملکِ پاکستان کے نامور نقاد، نثر نگار، شاعر اور ادبی فلاحی تنظیم “سائبان” کے بانی و مرکزی رہنما، محترم حسین مجروح نے فرمائی۔
مہمانانِ خصوصی میں محترمہ آپا حمیدہ شاہین، عدیل برکی اور حاجی عبدالستار (مرکزی سرپرستِ اعلیٰ، روش) کی تشریف آوری ہمارے لیے باعثِ اعزاز بنی، جبکہ مہمانانِ اعزاز میں ڈاکٹر صغیر صفی، ڈاکٹر پونم، ڈاکٹر مختار عزمی اور سلیم ساگر شامل تھے۔
مشاعرے میں جن ممتاز شعرا و ادبا نے شرکت فرما کر محفل کو چار چاند لگائے، ان میں ممتاز راشد لاہوری، اظہر عباس، افتخار شوکت ایڈووکیٹ، افضل پارس، ڈاکٹر عمرانہ مشتاق، عمار اقبال، ولایت احمد فاروقی، سعادت علی سعدی، بدر سعید، انابیغ علی، فاطمہ احمد، اللہ داد پراچہ، جمیل احمد اور عقیل عباس شامل تھے۔
محفل کی موسیقیت میں معروف گلوکار خالد بیگ نے اپنے سحر انگیز انداز میں محمد رفیع کے دو دل موہ لینے والے گیت سنا کر سماں باندھ دیا۔
اس ادبی و ثقافتی شام میں جن معزز شخصیات کی شرکت نے ہمیں عزت بخشی، ان میں پرنس اقبال گورائیہ، پیرزادہ طارق شریف، ماضی کی معروف اداکارہ امروزیہ، جاوید علاءالدین (ایم پی اے رینالہ خورد)، راجہ منور، صفدر علی خان (نامور صحافی)، اورنگزیب (ایف ایم 95)، کرنل جمیل، محمد اسد چشتی، ڑیب صاحبہ، سید انوار شاہ (ڈائریکٹر سنی پارک) اور مہر راشد (چیئرمین علامہ اقبال ٹاؤن) شامل تھے۔
اس محفل کی شاندار نظامت کے لیے ڈاکٹر دانش عزیز کا خصوصی شکریہ ادا کرتی ہوں، جن کی مہارت، شائستگی اور نظم و ضبط نے مشاعرے کو ایک بے مثال حسن اور روحانیت سے بھرپور بنایا۔ ان کی موثر نظامت کے بغیر یہ محفل اتنی کامیاب اور یادگار نہیں بن سکتی تھی۔
مشاعرے کے بعد شرکائے محفل کے اعزاز میں ضیافت کا اہتمام بھی کیا گیا، اور یوں یہ خوبصورت ادبی شام محبت، خلوص اور یادگار لمحات کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچی۔
میں دل کی گہرائیوں سے ان تمام معزز مہمانوں، شعرا، ادبا، فنکاروں اور احباب کی شکر گزار ہوں جنہوں نے اپنی قیمتی موجودگی سے اس تقریب کو کامیاب اور یادگار بنایا۔ بالخصوص ان دوستوں کا تہِ دل سے شکریہ ادا کرتی ہوں جو شدید سردی اور دھند کے باوجود چشتیاں، بہاولپور اور اوکاڑہ جیسے دور دراز شہروں سے تشریف لائے۔ یہ محفل میرے لیے محض ایک تقریب نہیں بلکہ اعتماد، محبت، اخلاص اور ادب سے وابستگی کا ایک حسین اور ناقابلِ فراموش اظہار تھی۔

ایک یادگار ادبی شام

سخت سردی اور حفظانِ صحت

ایک یادگار ادبی شام

نئے صوبے پرانے جھگڑے

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے