#کالم

احساس کے انداز 

Untitled 5

اختیار کا آئینہ  تحریر :۔ جاویدایازخان

بینک ملازمت  میں آدھی صدی بطور ایک بااختیار سینئر  افسرکے طور پر گزارنے کے بعد جب ریٹائر ہوا تویہ سوچ کر فخر محسوس ہوتا تھا کہ پوری زندگی لوگوں کی خدمت اورمدد کرتے ہوۓ گزری ہے۔یہ فخر کا احساس لیے بھی بھی تھا کہ اس دوران بےشمار لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کیں اور ناجانے کتنے ہی لوگوں کو ملازمت حاصل کرنے اور ان کی تربیت اور ترقی کے لیے رہنمائی اور مدد فراہم کی ۔یاد رہے کہ بینک ملازمت دراصل لڈو کی گیم سانپ اور سیڑھی کی مانند ہوتی ہے جہاں ترقی اور بلندی کی سیڑھیا ں انسان کو بڑے عہدۓ تک پہنچاتی ہیں تو  وہیں ایک سانپ بڑی بلندی سے کاٹ کر کسی وقت بھی زیرو کر دیتا ہے ۔ ترقی اور تنزلی کے بے شمار واقعات دیکھنے کو ملے بڑۓ عہدۓ پر تکبر اور خبط عظمت کے مظاہرۓ بھی دیکھے،بڑے بڑے عہدوں پر چھوٹے لوگ اور چھوٹے چھوٹے عہدوں پر بڑے بڑے لوگ بھی دیکھنے کو ملے اور تنزلی اور پریشانی میں منت سماجت اور خوشامد بھی دیکھنے کو ملی تو بڑے عہدوں پر تکبرکی فرعونیت بھی دکھائی دی ۔ میں نے لوگوں کو ہمیشہ عہدہ اور ترقی ملنے پر مبارکباد کے ساتھ ساتھ احترام بھی دیا اور مشکل لمحات میں دل جوئی اور ہمدردی کے ساتھ ساتھ اسے پھر سے کھڑا کرنے کے لیے پورا پورا  ساتھ بھی  دیا ۔اسی لیے میرا خیال تھا کہ لوگ اپنے عروج و زوال میں عزت اور مددکرنے کو یاد رکھیں گے اور ان کے دلوں میں احترام  کی ایک شمع ہمیشہ روشن ضرور رہے گی ۔سانپ اور سیڑھی کا یہ نا ختم ہونے والا  کھیل ہمیشہ جاری رہتاہے ۔ایسے ہی بینک ملازمت کے دوران بہت سے لوگوں کو ہیرو سے زیرو اور زیرو سے ہیرو بنتے دیکھا ۔پائی پائی کو محتاج کاروباری لوگوں کو  دنوں میں ارب پتی اور اربوں پتی سرمایہ داروں کو لمحوں میں قلاش ہوتے دیکھا ۔کہتے ہیں کہ زوال سے بڑا امتحان عروج ہوتا ہے اور اکثر لوگ عروج میں ہی فیل ہوۓ ہیں ۔

میرۓ سابقہ کالمز "خبط عظمت "اور "زعم پارسائی ” کے حوالے سے میرۓ ایک دوست مہر فیض صاحب نے گذشتہ روز مجھ سے پوچھا کہ جاوید صاحب یہ عام لوگ عہدے،اختیار اور مرتبے پاکر تکبر اور خبط عظمت کا شکار کیوں ہو جاتے ہیں؟ پھر یہی لوگ تنزلی اور زوال میں یکایک عاجزی اور انکساری کا پیکر بنے کیوں نظر آتے ہیں ؟ ان کا تھوڑا   سا بھی اختیار انسانیت پر بھاری کیوں پڑ جاتا ہے ؟کرسی کی گفتگو عام آدمی کو خاموش کیوں دیکھنا چاہتی ہے ؟ اختیار یا عہدہ ملتے ہی رویہ تکبرانہ کیوں ہو جاتا ہے ؟ کسی دفتر کا ایک بااختیار  چپڑاسی یا کلرک  بھی  کیوں سیدھے منہ بات کرنا گوارہ نہیں کرتا  ؟ ان کا یہ سوال ہمارۓ معاشرتی ،نفسیاتی اور اخلاقی ڈھانچے کی گہرائیوں میں اتر تا ہےاور وضاحت طلب ہے ۔اختیار یا عہدہ ملتے ہی انسانی رویےمیں پیدا ہونے والی تبدیلی دراصل ہمارۓ اجتماعی مزاج ،نفسیاتی کمزوریوںاور سماجی تربیت کی کمیابی کو بے نقاب کرتی ہے ۔یہ موضوع محض اخلاقی تنقید نہیں بلکہ انسانی فطرت کے اس تضاد کی عکاسی ہے جو طاقت کے لمس سے جاگ اٹھتا ہے ۔جب کسی کے فیصلوں سے دوسرۓ متاثر ہوں تو آہستہ آہستہ یہ گمان جنم لیتا ہے کہ "میں زیادہ جانتا ہوں ” اس لیے زیادہ اہم ہوں یہی وہ لمحہ ہے جہاں ذمہ داری برتری کا لبادہ اوڑھ لیتی ہے ۔طاقت کا وہم اور خود اعتمادی کا ابال ،معاشرتی تربیت کی کمی ،احساس عدم تحفظ ،اختیارات کا نشہ ،احتساب کی عدم موجودگی ،مذہب اور دین سے دوری ،اور خوشامد پسندی کی چاہت کسی بھی انسان کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ وہ "خاص ” ہے اور یہی احساس تکبر کی دلدل میں دھکیل دیتا ہے ۔ عہدوں کے ساتھ اکثر تعریف ،سلامی اور خوشامد  بھی ساتھ آتی ہے مگر تنقید کم ہو جاتی ہے اور عہدہ خدمت کی بجاۓ شناخت بن جاتا ہے ۔کہتے ہیں کہ اختیار انسان کے باطن کا آئینہ ہوتا ہے ۔جیسے روشنی آئینے میں چہرے کی جھریاں تک دکھا دیتی ہے ایسے ہی عہدہ یا اختیار انسان کے کردار کی جھریاں نمائیاں کردیتا ہے ۔جو انسان اندر سے عاجز ہو اس کے لہجے میں نرمی کی مزید  چمک جھلکتی ہے اور جو اندر سے کھوکھلا ہو وہ اختیار کے پردۓ کے پیچھے اپنے خوف اور کمزوریوں کو تکبر میں چھپاتا ہے ۔ اختیار دوسروں میں خوف پیدا کرتا ہے جسے بعض لوگ احترام سمجھنے لگتے ہیں  اور یہی غلط فہمی تکبر کی جڑ بن جاتی ہے ۔ادبی طور پر تکبر کو ہمیشہ ایک دھواں کہا گیا ہے جو پہلے لباس میں بس تھوڑی سی شکن ڈالتا ہے پھر لہجے میں سختی پیدا کرتا ہے اور آخر کار دل اور دماغ میں اندھیرۓ بھر دیتا ہے ۔یہ دھواں اتنا ہلکا ہوتا ہے کہ پہچانا نہیں جاسکتا  لیکن اتنا گہرا کہ خود انسان کی بصیرت کو دھندلا دیتا ہے ۔یہ تکبر دولت ،عہدے ،اختیار یا حسن و خوبصورتی کا ہی نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک ذہنی فتور ہوتا ہے جو کسی بھی وجہ سے کسی بھی شخصیت کے جسم اور دماغ میں داخل ہو جاتا ہے اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت چھین لیتا ہے کہ ہر  اختیار آزمائش ہے انعام نہیں ہے ۔جو انسان اختیار اور عہدۓ کے بعد بھی نرم گفتار ،سادہ مزاج اور قابل رسائی رہے وہی دراصل اختیار کا اہل ہوتا ہے ۔باقی تو عہدۓ اونچے ہوں یا نہ ہوں اصل بلندی انسان کی عاجزی اور جھکنے میں ہوتی ہے ۔یاد رہے کہ عہدہ ،اختیار اور عاجزی اگر ساتھ ساتھ ہوں تو انسانی خدمت کسی عبادت سے کم نہیں ہوتی ۔ٍ​ٍٍ

مجھے کئی مرتبہ ایسی صورتحال کا سامنا پڑتا ہے جب کوئی پرانا جاننے والا  یا تو پہچانتا نہیں اور اگر پہچان لے تو کوشش کرتا ہے کہ پرانی بات نہ ہو ۔مجھے دیکھ کر اسے اپنے کمزور لمحے یا  زندگی کے مشکل دن یاد آتے ہیں ۔جبکہ  میرے ذہن میں وہی  پرانا سراپا ہوتا ہے ۔وہی پرانی بےتکلفی اور حجت کی توقع ہوتی ہے جبکہ وقت بدل چکا ہوتا ہے اور مجھے تو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ وہ اب کسی بڑے عہدےیا رتبے پر پہنچ چکا ہے ۔ایسے ویسے کیسے کیسے  ہو گئے اور کیسے کیسے ایسے ویسے ہو گئے ؟ یہی نظام قدرت ہے ۔گذشتہ دنوں ایک بینک کے بڑے افسر کو  پرانے تعلق کی بنا پر کسی ایک حق دار کی ایک جائز  سفارش کرنی پڑی تو وہ کہنے لگا خان صاحب میں سفارش  کے سخت خلاف ہوں جو میرٹ ہو گا وہی کرونگا   تو مجھے یاد آیا کہ ایک مرتبہ جب وہ بینک کے ایک  گڑبڑ کیس میں پھنس کر میرے پاس مدد اور سفارش کے لیے آیا تھا اور میں نے اسے ناصرف حوصلہ دیا بلکہ اس کا مسئلہ بھی حل کرادیا  یہی نہیں اسے دوبارہ نوکری بھی دلانے میں مدد کی تھی ۔فرق صرف یہ پڑا کہ وہ آج کرسی کی دوسری جانب بیٹھا تھا اور میں دوسری جانب سائل کی کرسی پر موجود تھا ۔چند سال میں وقت کیسے اور کتنی تیزی سے بدلتا ہے ۔مجھے اندازہ ہو رہا تھا ۔اسی طرح بہت سے لوگ صرف اس لیے ملنا یا میرا فون اٹھانا پسند نہیں کرتے کہ میں ان کے ماضی سے واقف ہوں اور ماضی کا آئینہ چہرے بھولتا نہیں ۔اس کے برعکس بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جو آج پہلے سے زیادہ عزت و احترام سے پیش آتے ہیں  اور بار بار پرانی باتیں دہراتے ہوۓ اپنے مشکو ر ہونے کا اظہار برملا کرتے ہیں ۔کہتے ہیں کہ یہ اپنے اپنے ظرف کی بات ہوتی ہے ۔ایسے مثالی رویے آج بھی موجود ہیں ۔اپنے اندر اعلیٰ ظرفی کے جراثیم پیدا کریں ابتدا میں گو ذرا مشکل ہوتا ہے لیکن رفتہ رفتہ عادت بن جاتی ہے اور جب عادت مزاج میں ڈھل جاۓ تو آپ اس اعلیٰ ظرفی کے عادی بنتے چلے جاتے ہیں اور یہ اعلیٰ ظرفی آپ کو بہت جلد نمائیاں مقام دیتی ہے ایسا امتیاز جس سے ہر کوئی خیر اور بھلائی کی توقع رکھتا ہے مثالیں تو بہت ہیں لیکن روزمرہ زندگی میں ہم نے دیکھا ہے کہ جس ڈالی پر جتنا برگ وبار آتا ہے وہ اتنا ہی عاجزی سے جھکی ہوتی ہے ۔بس کوشش کریں کے اپنے اندر جھک جانے کی عادت ڈالیں ۔اپنے کہنے کو ہی کامل نہ سمجھیں بلکہ سننے ِ،دیکھنے ،سمجھنے اور قبول کرنے پر بھی اپنے آپ کو آمادہ کریں ۔یاد رکھیں جھکتے ہمیشہ انسان ہی ہیں اکڑتے تو مردے ہیں ۔

جو اعلیٰ ظرف ہوتے ہیں ہمیشہ جھک کے ملتے ہیں 

صراحی سرنگوں ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانہ 

ہمارے اباجی کہتے تھے کہ دوسروں کی اپنے سے اونچا مقام پانے پر ستائش ،تعریف ،اس کی حوصلہ افزائی اور خود پیچھے رہ کر اگلے کو راستہ دینا خود پردے کے پیچھے رہ کر اسٹیج اس کے حوالے کردینا ،دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنا ،اپنی شخصیت کو گمنام رکھ کر کسی کے لیے کامیابیوں کے دروازے کھولنا اور اس کی کامرانیوں کے لیے دعائیں ،اس کے سامنے ہی سب سے اس کی صلاحیتوں کی تعریف ،یہ تمام عوامل بڑے حوصلے کا تقاضا رکھتے ہیں ۔سمندر جتنا وسیع ظرف رکھنا ایک ایسا وصف ہے جو ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتا لیکن مسلسل محنت اور لگن سے پیدا کیا جاسکتا ہے ۔کیونکہ معاشرے انسانوں سے ہیں اور افراد کی پہچان اور شناخت ان کی قابلیت ،صورت ،عہدہ سے زیادہ ان کے رویے میں پوشیدہ ہوتی ہے ۔

احساس کے انداز 

17/01/2026 Daily Sarzameen Lahore

احساس کے انداز 

سخت سردی اور حفظانِ صحت

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے