#کالم

پاکستان فرسٹ۔۔۔ دو ٹوک فیصلہ

Untitled 14

جمع تفریق ۔۔ناصر نقوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہنے والے ہمیشہ سے یہ کہتے آ ئے ہیں کہ زیادہ سمجھدار اور زیادہ بے وقوف میں کوئی خاص فرق نہیں ہوتا کیونکہ دونوں کسی کی نہیں سنتے، اسی طرح کچھ کھونے کے بعد ہی پتہ چلتا ہے کہ کتنا قیمتی تھا ،جو چلا گیا ، خواہ وہ وقت ہو، انسان ہو کہ کوئی رشتہ۔۔ ایک سوچ یہ بھی ہے کہ انسان کو ہمیشہ اس بات کے لیے تیار رہنا چاہیے کہ جب دنیا میں کوئی بڑا چھوٹا انسان ضروری نہیں تو پھر ہر چیز سے دستبردار ہونے کی ہمت ہونی چاہیے کیونکہ اصل شعور اسے ہی کہا جاتا ہے جو پا لینے کا نہیں ،چھوڑ دینے کا حوصلہ دیتا ہے ،اگر گزرے سال کا ہی جائزہ لیں تو واضح دکھائی دے گا کہ کچھ خواب تھے ،جو خواب ہی رہے ،کچھ خواہشیں تھیں، جو حسرتیں بنی، کچھ ڈر تھے، جو سچ ہوئے، کچھ لوگ تھے ،جو بچھڑ گئے، کچھ اپنے تھے، جو اجنبی ہوئے لیکن الحمدللہ زندگی کسی شخص، مقام پر ختم نہیں ہوتی ، آ پ کی مرضی، منصوبہ بندی، حالات کا جبر اور واقعات کے اثرات اپنی جگہ۔۔ پھر بھی مالک کائنات کی عطا کردہ زندگی امانت ہے اس خاص وقت تک کے لیے جس کا کسی کو علم نہیں ہے آ پ ،مجھے اور کسی کو جو کچھ بھی ملا اسے قسمت کا کارنامہ کہیں کہ رب کائنات کی عطا ،اس کی حفاظت بھی کریں اور صبر و شکر بھی،، اس لیے کہ ہم سب اس کے٫٫ کیئر ٹیکر،، سے زیادہ کچھ بھی نہیں ،پھر کس بات کا گھمنڈ ۔۔اسی طرح دھرتی ماں بھی ہمارے بزرگوں کی قربانیوں کا ثمر ہے اس کی فکر بھی ہمیں ہی کرنی چاہیے کیونکہ بد نظر ،بد نیت اور حاسد کسی بھی صورتحال میں مملکت پاکستان کو مستحکم ہوتا نہیں دیکھنا چاہتے لہذا اس خواہش میں اپنے ہوں کہ پرائے سب کے سب ناقابل معافی ہیں، ہماری فورسز، عوام اور ریاست دہائیوں سے جانی و مالی قربانیاں دے رہی ہے ہم نے ان پوشیدہ اور مکار دشمنوں کو ایک سے زیادہ مرتبہ شکست دے کر دھرتی کو امن کا گہوارہ بھی بنایا لیکن ازلی دشمن اور محسن کش ہمسایہ بھائیوں نے ہی نہیں ،ماضی کے غلط فیصلوں نے ایسے حالات پیدا کر دیے کہ 2025 پورا سال دہشت گردی کی اددھم دیکھی گئی، یہ الگ بات ہے کہ ہماری عسکری اور سیاسی قیادت نے دونوں کو ایسا منہ توڑ جواب دیا کہ اب ہاتھوں میں ہاتھ اور آ نکھوں میں آ نکھیں ڈال کر مقابلہ کرنے کے قابل نہیں رہے تو ٫٫پراکسی وار،، کو ہتھیار بنانے کی ناکام کوشش میں مصروف ہیں اب آ پ ڈی ۔جی۔ آ ئی۔ ایس ۔پی آ ر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کی بڑی پریس بریفنگ کے مختلف پہلوؤں پر غور کریں انہوں نے یہ بھی بتایا کہ دھمکی دی گئی جا رہی ہے کہ٫٫ معرکہ حق ،، میں جو ہوا سو ہوا، اس مرتبہ بھارت اور افغانستان مشترکہ حکمت عملی سے پاکستان کو سبق سکھائیں گے جس کے جواب میں احمد شریف کا پیغام تھا کہ ہم اس ٫٫ایڈونچر،، کا چیلنج بھی قبول کرتے ہیں ایسا بھی کر کے دیکھ لیں جبکہ بھارتی جنرل بخشی کہتے ہیں ،مودی بزدل اور عاصم منیر دور اندیش جنرل۔۔ اس لیے جب تک عاصم منیر کو گرایا نہیں جائے گا بھارت پاکستان کا مقابلہ نہیں کر سکتا ،ان کا دعوی ہے کہ مودی نے اپنی سیاست چمکانے کے لیے بغیر کسی منصوبہ بندی کمزور بنیاد پر پاکستان کے لیے محاذ کھولا اور نتائج سب کے سامنے ہیں کہ بڑا ملک ،بڑی فوج ہونے کے باوجود بھی بھارت کی جگہ ہسائی ہوئی، ایسے میں جنرل چشتی کو کون سمجھائے کہ جنرل عاصم منیر قسمت کے دھنی ہیں،ان کی اندرون ملک جتنی مخالفت ہوئی قدرت نے انہیں اتنا ہی زیادہ عزت سے نواز دیا ،عزت و ذلت منجانب اللہ تعالی ہے اس وقت پاکستان اور عاصم منیر کا ستارہ عروج پر ہے لہذا مودی جی جو مرضی کر لیں، وہ پاکستان اور عاصم منیر کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ،جنرل بخشی نے یہ الزام بھی لگایا کہ مودی نے ذاتی اور پارٹی مفادات کے لیے امبانی اور ایڈوانی جیسے دوستوں کو امیر ترین سے امیر تر بنا دیا لیکن بھارت کے دفاع کے لیے کوئی مثبت حکمت عملی نہیں کی ،
ڈی جی احمد شریف نے 2025 کا جائزہ اعداد و شمار کے مطابق پیش کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ سال 75ہزار175 آ پریشن خفیہ اطلاعات پر کیے گئے ایک ھزار225 شہادتیں ہوئیں اور 2597 خوارج جہنم واصل جبکہ ملک بھر میں 5397 دہشت گردی کے واقعات ہوئے جن میں 27 خودکش حملے بھی شامل ہیں ان میں دو خواتین بھی تھیں، اس میں سے 16 حملے خیبرپختونخوا میں ہوئے، حالات بتا رہے ہیں کہ فتنہ الخواریج اور فتنہ ہندوستان کا گڑھ افغانستان ہے پاکستان نے شواہد کے ساتھ افغان طالبان حکومت کو سب کچھ بتایا لیکن جب کوئی نتیجہ نہیں نکلا تو مجبورا کاروائی کی اور اس کے بعد سرحدیں بھی بند کر دیں، جس کے نتیجے میں دہشت گردی میں کمی آ ئی ان کا کہنا تھا کہ صدر، وزیراعظم، تین صوبائی وزرائے اعلی، تمام سیاسی قومی جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ دہشت گردی کا ہر قیمت پر خاتمہ ملک و ملت کے لیے ضروری ہے اس لیے ٫٫نیشنل ایکشن پلان،، پر عمل در آ مد ھونا چاھئے لیکن ایک وزیر اعلی کہتے ہیں کا آ پریشن کی اجازت نہیں دیں گے تو کیا خواریج کی بیعت کر لی جائے یاخارجی نور ولی کو وزیراعلی لگا دیں ،2021 میں برسر اقتدار سیاسی جماعت نے دہشت گردوں کو سہولت فراہم کی ،افغان حکومت کہتی ہے کہ تحریک طالبان پاکستان ہماری ہے تو پھر ان کے خلاف کاروائی پر اعتراض کیسا؟
دہشت گردوں نے ہر جماعت اور اس کے رہنماؤں کو نشانہ بنایا لیکن ایک جماعت محفوظ رہی، اس لیے کہ وہ ان کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتے ہیں اس جماعت کا بانی کہتا ہے کہ ہم اور ہماری حکومت بے اختیار تھی لیکن اسی نے ہمیں بتایا کہ آ رمی چیف قوم کا باپ ہوتا ہے کیا یہ مذاق کی بات نہیں ،قوم کا حقیقی باپ بابائے قوم حضرت قائد اعظم

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے