#اداریہ

پاکستان کے دفاعی سازو سامان کی مانگ میں اضافہ

Fahad 01

أج کا اداریہ

گزشتہ برس مئی کے مہینے میں ہونے والی پاک بھارت جھڑپوں کے بعد پاکستان کے دفاعی سازوسامان میں کی اھمیت و افادیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے پاکستان کے جنگی طیارے خاص طورپر جے۔ایف 17 تھنڈر کی مانگ بڑھی ہے۔ بھارت کے ساتھ چار روزہ تنازع کے دوران پاکستان نے نہ صرف چینی ساختہ فوجی سازوسامان کی موثر صلاحیت ثابت کی بلکہ اپنے مقامی طور پر تیار کردہ ہتھیاروں جیسے جے ایف 17 تھنڈر لڑاکا طیارہ، الخالد مین بیٹل ٹینک اور فتح سیریز گائیڈڈ ملٹی لانچ راکٹ سسٹم کی صلاحیتوں کا بھی بھرپور مظاہرہ کیا۔
بالخصوص جے ایف 17 تھنڈر نے گزشتہ سال مئی اور 2019 میں بھارت کے ساتھ جھڑپوں کے دوران اپنی جنگی صلاحیت منوائی۔ گزشتہ برس کی جنگ میں اس طیارے کو بھارتی فضائیہ کے جدید ایس 400 زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل نظام کو آدم پور میں تباہ کرنے کا کریڈٹ دیا گیا۔ جے ایف 17 نے دبئی ایئر شو میں بھی نمایاں کارکردگی دکھائی۔
گزشتہ ہفتے وزیر دفاع خواجہ أصف نے ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی اسلحہ سازی کی صنعت کی کامیابی ملکی معیشت کا رخ بدل سکتی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ ہمارے طیارے جنگ میں آزمائے جا چکے ہیں اور اتنے آرڈرز مل رہے ہیں کہ پاکستان کو چھ ماہ میں آئی ایم ایف کی ضرورت نہ پڑے۔
ذیل میں مئی 2025 کے بعد پاکستان کے ان دفاعی معاہدوں اور مذاکرات کی مختصر ٹائم لائن دی جا رہی ہے جو دوست ممالک کے ساتھ طے پائے یا زیرِ غور ہیں
عراقی فضائیہ کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل مہند غالب محمد راضی الاسدی نے پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کے دورۂ عراق کے دوران ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے مئی میں بھارت کے خلاف پاک فضائیہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا اور جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کے حصول میں دلچسپی کا اظہار کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق عراقی فضائیہ کے سربراہ نے پاک فضائیہ کی عالمی معیار کی تربیت سے فائدہ اٹھانے اور جے ایف 17 تھنڈر اور سپر مشاق تربیتی طیاروں میں خصوصی دلچسپی ظاہر کی
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تقریباً 2 ارب ڈالر کے سعودی قرضوں کو جے ایف 17 لڑاکا طیاروں کے معاہدے میں تبدیل کرنے پر بات چیت جاری ہے۔ پاکستانی ذرائع کے مطابق مجموعی معاہدے کی مالیت 4 ارب ڈالر ہو سکتی ہے، جس میں اضافی دفاعی سازوسامان بھی شامل ہوگا
یہ بھی معلوم ھواہے کہ ترکیہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان موجود باہمی دفاعی معاہدے میں شمولیت کا خواہاں ہے، جس سے مشرق وسطیٰ اور اس سے آگے ایک نیا سیکیورٹی اتحاد وجود میں آ سکتا ہے اور طاقت کے توازن میں تبدیلی آ سکتی ہے
بلومبرگ کی تازہ رپورٹ کے مطابق معاملے سے واقف افراد کے حوالے بتایا گیا ہے کہ مذاکرات ایک اعلیٰ مرحلے پر پہنچ چکے ہیں اور معاہدہ ہونے کا قوی امکان ہے
بلومبرگ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ اس اتحاد کی توسیع منطقی ہے کیونکہ جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور حتیٰ کہ افریقہ میں ترکیہ کے مفادات سعودی عرب اور پاکستان سے ہم آہنگ ہو رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ترکیہ اس معاہدے کو سیکیورٹی اور دفاعی صلاحیت مضبوط بنانے کے ایک ذریعے کے طور پر بھی دیکھ رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکا کی قابلِ اعتماد حیثیت اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نیٹو سے وابستگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں، حالانکہ امریکا کے تینوں ممالک سے مضبوط عسکری تعلقات ہیں
انقرہ میں قائم تھنک ٹینک ٹیپاو کے اسٹریٹجسٹ نہات علی اوزجان کے مطابق، اس اتحاد میں سعودی عرب کی مالی طاقت، پاکستان کی جوہری صلاحیت، بیلسٹک میزائل اور افرادی قوت جبکہ ترکیہ کا عسکری تجربہ اور ترقی یافتہ دفاعی صنعت شامل ہو سکتی ہے۔
بلومبرگ کے مطابق اوزجان نے کہا کہ جب امریکا خطے میں اپنے اور اسرائیل کے مفادات کو ترجیح دے رہا ہے تو بدلتی صورتحال اور علاقائی تنازعات کے اثرات ممالک کو نئے اتحاد اور سیکیورٹی میکنزم بنانے پر مجبور کر رہے ہیں۔
بلومبرگ کے مطابق اگر ترکیہ اس اتحاد میں شامل ہوتا ہے تو یہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں ایک نئے دور کی نشاندہی کرے گا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ برسوں کی کشیدگی کے بعد دونوں ممالک اقتصادی اور دفاعی تعاون کو فروغ دے رہے ہیں اور اسی ہفتے انقرہ میں پہلا بحری اجلاس بھی منعقد ہوا۔
پاکستان کے حوالے سے بلومبرگ نے نشاندہی کی کہ ترکیہ پاکستان نیوی کے لیے کارویٹ جنگی جہاز تیار کر رہا ہے اور پاکستان فضائیہ کے ایف 16 طیاروں کی اپ گریڈیشن میں بھی شریک ہے۔ اس کے علاوہ ترکیہ دونوں ممالک کے ساتھ ڈرون ٹیکنالوجی بھی شیئر کر رہا ہے اور چاہتا ہے کہ وہ اس کے پانچویں جنریشن کے کان فائٹر جیٹ پروگرام میں بھی شامل ہوں۔
رپورٹ کے مطابق یہ سہ فریقی دفاعی مذاکرات پاکستان اور بھارت کے درمیان مئی میں ہونے والی چار روزہ فوجی جھڑپ کے بعد طے پانے والی جنگ بندی کے تناظر میں سامنے آئے ہیں
پاکستان اور بنگلہ دیش کی فضائیہ کے سربراہان کے درمیان جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کی ممکنہ خریداری پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے بنگلہ دیشی ہم منصب کو پاک فضائیہ کی حالیہ پیش رفت سے آگاہ کیا اور تربیت و تکنیکی تعاون کی یقین دہانی کرائی
پاکستان نے لیبیا کو روایتی فوجی سازوسامان کی فروخت کے لیے اربوں ڈالر کا معاہدہ طے کیا۔ رائٹرز کے مطابق اس معاہدے میں جے ایف 17 لڑاکا طیاروں اور سپر مشاق تربیتی طیاروں کی فروخت بھی شامل ہے
ایک پاکستانی عہدیدار کے مطابق یہ معاہدہ زمینی، بحری اور فضائی سازوسامان پر مشتمل ہے اور ڈھائی برس میں مکمل ہوگا۔
یہ معاہدے اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان کی دفاعی صنعت تیزی سے عالمی سطح پر اپنی شناخت بنا رہی ہے اور جے ایف 17 تھنڈر اس کامیابی کا مرکزی ستون بنتا جا رہا ہے۔

پاکستان کے دفاعی سازو سامان کی مانگ میں اضافہ

10/01/2025 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے