#کالم

شاہراہِ عرفان صدیقی … !!!

new desing342

تحریر: ارشد شاہد

مرحوم سینیٹر عرفان صدیقی کی راہِ حیات وہ شاہراہِ عمل ہے جو ہر پاکستانی کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ یہ وہ شعورِ بیدار ہے جو ہمیں سچائی، عاجزی، ہمدردی اور انسانیت کی جانب لے جاتا ہے۔ یہ وہ احساسِ پاک ہے جو ہمیں امن، سلامتی، محبت اور شائستگی کا سبق دیتا ہے۔ یہ وہ آوازِ ضمیر ہے جو ہمیں خلوص، وفا، صبر اور درگزر پر قائم رکھتی ہے۔ یہ وہ حسنِ اخلاق ہے جو ہمیں اپنے مخالفین کے لیے بھی نرم خوئی، تحریم، تکریم اور تعظیم سکھاتا ہے۔ یہ وہ معراجِ انسانیت ہے جو ہمیں رنگ، نسل، ذات، معاش اور مرتبے کی تفریق سے بالاتر ہو کر ہر انسان کو برابری کی سطح پر عزت و احترام کی تلقین کرتی ہے۔ یہ وہ روحِ وطنیت ہے جو ہمیں اپنی مٹی، وطن اور ہم وطنوں سے محبت کا درس دیتی ہے۔ یہ وہ نعرہِ بیداری ہے جو ہمیں ظلم، ناانصافی اور جبر کے خلاف کھڑے ہونے کی جرأت بخشتا ہے۔ یہ وہ دستِ شفقت ہے جو ہمیں اپنے سے کمزور، بے سہارا اور محروم طبقے کا خیال رکھنے کی ترغیب دیتا ہے۔ یہ وہ نغمہِ وفاداری ہے جو ہمیں اپنے وعدوں، قولوں اور فرائض کی پاسداری کی یاد دلاتا ہے۔ یہ وہ فلسفہِ زیست ہے جو ہمیں سکھاتا ہے کہ سکونِ قلب کا اصل معیار دوسروں کی خوشی، کامیابی اور حوصلہ افزائی میں ہے نہ کہ اپنے ذاتی مفاد میں۔ یہ وہ نعرہ عشق و مستی ہے جو ہمیں یہ یقین دلاتا ہے کہ انسان کی دنیا و آخرت کی کامیابی اور نجات صرف اور صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت، عشق اور اطاعت میں پِنْہاں ہے۔
نہ کسی امیر کی جستجو ہے نہ رہنما کی تلاش ہے
مرے کاروان نگاہ کو ترے نقش پا کی تلاش ہے

مرحوم سینیٹر عرفان صدیقی 19 دسمبر 1943ء کو راولپنڈی کے مضافاتی علاقے ڈھوک بدھال میں ایک معروف علمی، ادبی اور مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے اور 10 نومبر 2025ء کو مختصر علالت کے بعد اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، آمین۔ آپ کا سلسلۂ نسب خلیفہ اول سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے جو رسول اللہ ﷺ کے یارِ غار تھے۔ آپ کے پردادا مرحوم قاضی لطف الدین جید عالم دین اور صاحب ثروت شخصیت تھے۔ انہوں نے 1870ء میں اپنے ذاتی خرچ سے گاؤں میں زمین خرید کر اس پر جامع مسجد تعمیر کروائی جو آج بھی قائم ہے۔ آپ کے دادا مرحوم قاضی غلام قادر علم و فضل کا پیکر تھے۔ انہوں نے عالم دین ہونے کے ساتھ منشی فاضل بھی کر رکھا تھا۔ آپ کے والدِ مرحوم قاضی عبدالحق اپنے دور کے مشہور عالمِ دین، خطیب، شاعر اور خوشنویس تھے۔ انہوں نے مشہور زمانہ خطاط مرحوم عبدالمجید پرویں رقم سے خطاطی سیکھی اور بعدازاں ان کے ساتھ مل کر علامہ اقبال کے کئی شاعری مجموعوں کی کتابت بھی کی تھی۔ آپ کے چچا مرحوم قاضی نذیر احمد سکول ہیڈ ماسٹر اور علاقے کے معروف ماہر تعلیم تھے جنہوں نے ناصرف ہزاروں شاگردوں کو تعلیم سے روشناس کرایا بلکہ وہ مرحوم سینیٹر عرفان صدیقی کے لیے بھی علم، راہنمائی اور حوصلہ افزائی کا ایک بہت بڑا سرچشمہ تھے۔ آپ کے ماموں مرحوم مولانا نعیم صدیقی، مولانا مودودی رحمة اللہ علیہ کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے اور خود بھی ایک بڑے عالم دین اور بیسیوں کتابوں کے مصنف تھے۔ ان کی مشہور زمانہ کتاب "محسنِ انسانیت” آج بھی پاکستان میں سیّرت النبی ﷺ پر سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔ یوں مرحوم سینیٹر عرفان صدیقی کو علم و دانش، شاعری و ادب، خوشنویسی و خطاطی، تحریر و تقریر، دینِ اسلام سے محبت اور عشق رسول ﷺ اپنے آباء و اجداد سے ورثے میں ملا تھا۔
تربیت سے تیری مَیں انجم کا ہم قسمت ہُوا
گھر مِرے اجداد کا سرمایۂ عزّت ہُوا

مرحوم سینیٹر عرفان صدیقی نے ابتدائی تعلیم ہائی سکول بندہ سے حاصل کی۔ بعدازاں پنجاب یونیورسٹی لاہور سے اردو ادب میں ماسٹر اور تعلیم و تدریس میں بیچلر ڈگری حاصل کرنے کے بعد شعبۂ تعلیم سے منسلک ہو گئے۔ پچیس سالہ شاندار تدریسی خدمات کے بعد آپ نے 1989ء میں ملک کے ممتاز تعلیمی ادارے "سر سید کالج راولپنڈی” سے رضاکارانہ ریٹائرمنٹ لےلی۔ آپ دو سال کے لیے "او پی ایف” میں بطور ڈائریکٹر ایجوکیشن بھی خدمات سر انجام دیتے رہے۔ شعبۂ تعلیم سے ریٹائرمنٹ کے بعد آپ نے صحافت اور ریڈیو پاکستان کو اپنا مشغلہ حَیات بنایا۔ آپ کا کالم “نقشِ خیال” لاکھوں پاکستانیوں کے دلوں کی دھڑکن تھا۔ “نقشِ خیال” خوبصورت شاعرانہ اردو نثر کی وجہ سے اتنا زیادہ مقبول ہوا کہ متعلقہ اخبارات کی سرکولیشن اس پر منحصر ہونے لگی۔ بلا مبالغہ کچھ لوگ تو اخبار صرف "نقش خیال” پڑھنے کے لیے خریدتے تھے۔ آپ نے بطور لکھاری، فیچر نگار اور ڈرامہ نویس سو سے زائد ریڈیو ڈرامے تحریر کیے جنہیں عوام میں بے حد پذیرائی ملی۔ آپ بیسیوں کتابوں کے مصنف ہیں جن میں نقشِ خیال، دائروں میں سفر، جادونگری، حَرْفِ حَق، قافلہ سخت جاں، متاع لوح و قلم، بھید بھری آواز، مکہ مدینہ، کالم کہانی، جو بچھڑ گئے، قلم کو ہتھکڑی، سائفر سے فائنل کال تک اور شاعری مجموعہ گریز پا موسموں کی خوشبو زیادہ مشہور ہیں۔ آپ کی تحریریں، تقریریں اور ڈرامے ہمیشہ محرُوم، مظلُوم اور جَبْر و اِسْتِبْداد کی چکی میں پسے ہوے غریب عوام کی آواز تھیں۔
کسی کا درد ہو دل بیقرار اپنا ہے
ہوا کہیں کی ہو سینہ فگار اپنا ہے

مرحوم سینیٹر عرفان صدیقی شعبہ تعلیم سے صحافت، ریڈیو پاکستان، سیکرٹری صدر پاکستان، مشیر وزیرِ اعظم پاکستان اور بطور سینیٹر چیئرمین قائمہ کمیٹیز سینیٹ آف پاکستان، جن عہدوں پر بھی فائز رہے دل میں پاک وطن، عوام اور دین اسلام کی محبت کا جذبہ غالب رہا۔ جناب میاں محمد نواز شریف کے تیسرے دورِ حکومت میں، جنوری 2014ء میں جب آپ مشیر وزیرِ اعظم پاکستان بنے تو علمی، ادبی، تاریخی اور ثقافتی اداروں کی بدحالی کا جان کر آپ کو بہت دکھ ہوا۔ آپ نے سابق صدر پاکستان مرحوم ممنون حسین سے مل کر وزیرِ اعظم پاکستان کی رہنمائی سے

شاہراہِ عرفان صدیقی … !!!

09/01/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے