#کالم

لفظ، فکر اور دانش کی تصویرڈاکٹر لبنیٰ ظہیر

Untitled 1

تحریر : منشا قاضی

علم جب وقار سے ہم آغوش ہو، فکر جب تجربے کی دہلیز پر دستک دے، اور قلم جب ذمہ داری کا بوجھ اپنے شانوں پر اٹھائےتو ایسی شخصیت جنم لیتی ہے جو صرف ایک فرد نہیں رہتی بلکہ ایک عہد، ایک روایت اور ایک سمت بن جاتی ہے۔ ڈاکٹر لبنیٰ ظہیر اسی روشن روایت کا نام ہیں؛ وہ نام جو پاکستان میں میڈیا، ابلاغیات، تدریس اور صحافت کے میدان میں وقار، فہم اور توازن کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ میڈیا اور ابلاغیات کی دنیا میں کچھ نام محض تعارف کے محتاج نہیں ہوتے، وہ اپنے علم، تجربے اور کردار سے خود اپنا حوالہ بن جاتے ہیں۔ ڈاکٹر لبنیٰ ظہیر کا شمار بھی انہی شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے لفظ، تصویر اور آواز کو محض اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ سماجی شعور، فکری ارتقا اور قومی بیانیے کی تشکیل کا وسیلہ بنایا۔ جامعہ پنجاب، لاہور کے شعبہ فلم اینڈ براڈکاسٹنگ کی پروفیسر اور چیئرپرسن کی حیثیت سے وہ آج علمی وقار، فکری دیانت اور پیشہ ورانہ بصیرت کی ایک روشن مثال ہیں۔
ڈاکٹر لبنیٰ ظہیر کا تعلق اس نسلِ اساتذہ سے ہے جس نے تعلیم کو صرف درس گاہ تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے عملی زندگی، میڈیا کے بدلتے رجحانات اور عالمی تناظر سے جوڑ کر پیش کیا۔ میڈیا اسٹڈیز اور کمیونیکیشن کے میدان میں آپ کا نام نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی احترام سے لیا جاتا ہے۔ کم و بیش چالیس تحقیقی مضامین کی اشاعت اس بات کی گواہی ہے کہ آپ کی فکری جستجو محض تدریس تک محدود نہیں بلکہ تحقیق اور علم کی توسیع کا ایک مسلسل سفر ہے۔
آپ کی علمی زندگی کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ آپ نے بیسیوں قومی و بین الاقوامی کانفرنسوں، سیمینارز اور علمی اجلاسوں میں شرکت کر کے پاکستان کے علمی اور فکری تشخص کو دنیا کے سامنے پیش کیا۔ ناروے، جاپان، ترکی، آذربائیجان، انڈونیشیا، مراکش، ملائیشیا اور دیگر کئی ممالک میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے آپ نے نہ صرف ابلاغیات اور میڈیا کے جدید مباحث پر گفتگو کی بلکہ ایک مہذب، باشعور اور فکری طور پر مضبوط قوم کا تعارف بھی کرایا۔ غیر ملکی جامعات میں بطور کلیدی مقرر (Keynote Speaker) آپ کے لیکچرز اس امر کا ثبوت ہیں کہ آپ کی آواز سرحدوں کی محتاج نہیں۔
ڈاکٹر لبنیٰ ظہیر کی شخصیت کا ایک منفرد پہلو یہ ہے کہ وہ روایتی اساتذہ کے برعکس تدریس کے ساتھ ساتھ عملی صحافت سے بھی گہرا تعلق رکھتی ہیں۔ میڈیا اور صحافت میں آپ کا تجربہ دو دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط ہے۔ نوائے وقت، جنگ میڈیا گروپ اور دیگر معتبر صحافتی اداروں سے وابستگی نے آپ کو میڈیا کے عملی تقاضوں، اخلاقی ذمہ داریوں اور زمینی حقائق سے ہم آہنگ رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی تدریس محض نظری نہیں بلکہ عملی بصیرت سے بھرپور ہوتی ہے۔
پی ٹی وی نیوز پر پانچ برس تک پرائم ٹائم ٹاک شو کی میزبانی آپ کے کیریئر کا ایک اہم باب ہے۔ اس دور میں آپ نے نہایت سنجیدگی، توازن اور فکری پختگی کے ساتھ قومی و بین الاقوامی امور پر گفتگو کو ایک مہذب اور بامقصد رخ دیا۔ آپ کا اندازِ گفتگو، سوال کرنے کا سلیقہ اور مختلف نقطہ ہائے نظر کو احترام کے ساتھ جگہ دینا آپ کی پیشہ ورانہ بلوغت کا مظہر رہا۔
آپ پیمرا کونسل آف کمپلینٹس پنجاب کی چیئرپرسن کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی ہیں، اور اس کونسل کی پہلی خاتون چیئرپرسن ہونے کا اعزاز بھی آپ ہی کے حصے میں آیا۔ یہ منصب محض ایک عہدہ نہیں بلکہ اعتماد، دیانت اور غیر جانبداری کا امتحان ہے، جس پر آپ پورا اترتی دکھائی دیتی ہیں۔ میڈیا کے ضابطہ اخلاق، عوامی شکایات اور آزادیِ اظہار کے نازک توازن کو برقرار رکھنا ایک مشکل ذمہ داری ہے، جسے آپ دانشمندی سے نبھا رہی ہیں۔
تحریر ڈاکٹر لبنیٰ ظہیر کی شخصیت کا ایک اور روشن پہلو ہے۔ کئی برس تک روزنامہ جنگ میں مستقل کالم نگاری کے ذریعے آپ نے سماجی، سیاسی اور ابلاغی مسائل پر فکر انگیز گفتگو کی۔ ان دنوں روزنامہ "نئی بات” میں باقاعدگی سے شائع ہونے والے آپ کے کالم نہ صرف حالاتِ حاضرہ کا تجزیہ ہوتے ہیں بلکہ قاری کو سوچنے، سوال اٹھانے اور رائے قائم کرنے کی دعوت بھی دیتے ہیں۔ آپ کی تحریر میں دلیل کی مضبوطی، زبان کی شائستگی اور فکر کی گہرائی نمایاں طور پر جھلکتی ہے۔
کتاب دوستی اور تصنیف بھی آپ کی علمی زندگی کا اہم حصہ ہے۔ آپ کی دو کتب پہلے ہی علمی و ادبی حلقوں میں پذیرائی حاصل کر چکی ہیں، اور اب آپ کی تیسری کتاب منظرِ عام پر آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ کا تخلیقی اور تحقیقی سفر مسلسل جاری ہے۔ یہ کتب نہ صرف میڈیا کے طلبہ بلکہ اس شعبے سے وابستہ ہر سنجیدہ قاری کے لیے رہنمائی کا سامان فراہم کرتی ہیں۔
ڈاکٹر لبنیٰ ظہیر کی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی کا اعزاز ملنا دراصل علم، تحقیق، صحافت اور قومی خدمت کے ایک طویل اور بامعنی سفر کی توثیق ہے۔ یہ اعزاز صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ اس فکر کا اعتراف ہے جو علم کو طاقت اور میڈیا کو ذمہ داری سمجھتی ہے۔
ڈاکٹر لبنیٰ ظہیر محض ایک استاد، صحافی یا دانشور نہیں بلکہ ایک عہد کا نام ہیں، ایسا عہد جہاں میڈیا محض خبر نہیں بلکہ شعور کی تشکیل کا ذریعہ ہے، اور تعلیم محض نصاب نہیں بلکہ کردار سازی کا عمل۔ ان کی زندگی اور خدمات نئی نسل کے لیے ایک روشن مثال ہیں کہ علم، عمل اور اخلاق جب یکجا ہو جائیں تو تاریخ میں نقش چھوڑ جاتے ہیں۔ ڈاکٹر لبنیٰ ظہیر علم، ابلاغ اور قیادت کا وہ معتبر حوالہ ہیں جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ گذشتہ روز رحمٰن فاوْنڈیشن کے زیر اہتمام گردوں کی صفائی کے مرکز ماڈل ٹاؤن کا دورہ کیا اور مریضوں کی عیادت کی اور فاوْنڈیشن کے چئیرمین ڈاکٹر وقار احمد نیاز سے ملاقات ہوئی ۔ عجوبہ ء روزگار معالج کی حیرت انگیز تحقیقی و طبی سہولتوں اور سریع

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے