#اداریہ

بسنت منانے کی مشروط اجازت

Fahad 01

أج کا اداریہ

پنجاب حکومت نے بسنت منانے پر عائد پابندی ختم کرنے کا اعلان کیا ہے تاہم پتنگ اڑانے کی کڑی شرائط کا نوٹیفیکیشن گزشتہ روز جاری کیاگیا ۔
ڈی سی لاہور کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق لاہور کی حدود میں 6، 7 اور 8 فروری 2026 کو بسنت منائی جا سکے گی، یعنی پتنگ بازی کی صرف انھی تاریخوں میں اجازت ہو گی۔
پتنگ اور ڈور بنانے والے مینوفیکچررز کی رجسٹریشن کے لیے ای-بز ایپ اور آن لائن پورٹل فعال کر دیا گیا ہے۔ پتنگ بازی کا سامان فروخت کرنے کے لیے یکم سے 8 فروری 2026 کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔
ڈی سی کے حکم کے مطابق چرخیاں بنانے اور بیچنے پر مکمل پابندی ہو گی جبکہ ڈور صرف ’پنے‘ کی شکل میں استعمال ہو گی اور لازم ہے کہ یہ صرف کاٹن سے بنی ہو۔ حکام کا کہنا ہے کہ نائلون، پلاسٹک اور دھاتی تار کے استعمال پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔
تمام مینوفیکچررز اور سیلرز کو اپنی ڈیجیٹل رجسٹریشن کا عمل مکمل کرنا ہوگا۔ موٹر سائیکل سواروں کے لیے بائیک پر حفاظتی تار لگوانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ پتنگ اور گڈے کا سائز مقررہ حد سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے اور اس کی خلاف ورزی پر کارروائی کا عندیہ دیا گیا ہے
پولیس اور ضلعی افسران کو ممنوع ڈور بیچنے والوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
ڈی سی لاہور کی جانب سے جاری کردہ ایس او پیز کے مطابق پتنگ کا سائز 4.5 گٹھی سے زیادہ نہیں ہو سکتا جبکہ ڈیڑھ تاوے کے بڑا گڈا نہیں اڑایا جا سکتا
کائٹ فلائنگ آرڈیننس 2025 کے تحت حکومت کا کہنا ہے کہ اب مخصوص ایام اور مقامات پر قواعد و ضوابط کے تحت پتنگ اڑنے کی اجازت ہو گی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ پتنگ اڑانے کے لیے استعمال ہونی والی ڈور دھاگے کی بنی ہونی چاہیے اور کیمیکل یا دھاتی ڈور کے استعمال پر مکمل ممانعت ہو گی۔
آرڈیننس کے تحت اجازت کے باوجود بھی پتنگ بازی میں کیمیکل یا دھاتی ڈور استعمال کرنے والوں کو بھاری جرمانہ اور سزائیں ہوں گی۔
اس آرڈیننس کے تحت پتنگ سازوں، پتنگ بازی میں استعمال ہونے والا سامان فروخت کرنے والوں، خریداروں اور کائٹ فلائینگ ایسوسی ایشن کو پابند بنایا گیا ہے کہ وہ اپنی رجسٹریشن کروائیں اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں
آرڈیننس میں کہا گیا ہے کہ 18 سال سے کم عمر بچوں کی پتنگ بازی کرنے کی اجازت نہیں ہو گی اور کم عمر بچوں کو پتنگ اڑانے پر پہلی مرتبہ پچاس ہزار روپے جرمانہ ہو گا اور اگر انھوں نے ایسا دوبارہ کیا تو انھیں ایک لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔
اس آرڈیننس کے اجرا پر سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔ سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر کئی افراد #BasantReturns کے ہیش ٹیگ سے اپنے پیغامات پوسٹ کر رہے ہیں تو بعض شہری اسے موت کا کھیل بھی قرار دے رہے ہیں۔ بہت سے لوگ بسنت منانے کی مشروط اجازت پر اگرچہ شاداں ہیں تاہم کہیں نہ کہیں ایس اوپیز کی خلاف ورزی اور لوگوں کے گلے پر دھاتی ڈور پھرنے کے خدشات سے خائف بھی نظر أتے ھیں۔
کہاجارہاہے کہ جہاں حکومت نے پتنگ بازی کی مشروط اجازت دی ہے وہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اس بات کو یقینی بنائے کہ قواعد و ضوابط کے تحت پتنگ بازی ہو۔
ماضی میں بھی حکومت نے پتنگ بازی پر پابندی کو یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات کیے تھے۔
اس پر پابندی کے قانون کی منظوری کے بعد لاہور سمیت صوبہ بھر میں انسداد پتنگ بازی ایکٹ کی خلاف ورزی پر درجنوں مقدمات درج کیے گئے تھے۔
اس مرتبہ بھی حکومت کا کہنا ہے کہ مشروط اجازت کے تحت اب بھی پتنگ بازی کے قواعد کی خلاف ورزی کو ناقابل ضمانت جرم قرار دیا گیا ہے۔
آرڈیننس کے تحت بغیر حکومتی اجازت کے پتنگ اڑانے پر تین سے پانچ سال قید ہو سکتی ہے جبکہ جیل کے ساتھ زیادہ سے زیادہ بیس لاکھ تک جرمانہ بھی ہو سکتا ہے۔
آرڈیننس کے تحت تیر دھار منجھا یا ڈور جیسے عموماً کیمیکل اور شیشہ پیس کر بنایا جاتا سے اُس کے استعمال کو ممنوع قرار دیا گیا ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کو کم سے کم پانچ اور زیادہ سے زیادہ سات سال قید کی سزا سنائی گئی ہے جبکہ پچاس لاکھ جرمانہ بھی ادا کرنا پڑے گا۔
بغیر اجازت یا ری جسٹریشن کروائی بغیر پتنگ بازی، تیاری، فروخت، نقل و حمل پر 5 لاکھ سے 50 لاکھ تک جرمانہ ہوگا
پتنگ بازی کی مخالفت میں اضافہ اُس وقت شروع ہوا جب جدت اور مقابلے بازی کی دوڑ نے اس شوق کو باقاعدہ ٹورنامنٹس میں تبدیل کر دیا۔
ایسے میں جب آپس کے مقابلے سخت ہوئے تو پھر زور آزمائی کے لیے تکنیک سے زیادہ جدت پر انحصار کرتے ہوئے ایسی ڈور بنائی گئیں اور استعمال کی گئیں جن میں دھاگے کے بجائے کیمیل دھات اور شیشے استعمال ہونے لگی اور پھر یہی پتنگ بازی کی پابندی کی وجہ بنے۔
جان لیوا حادثات کے سبب حکومتِ وقت نے بسنت کا تہوار منانے کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے پتنگ بازی پر سختی سے پابندی عائد کر دی۔
پنجاب میں سنہ 2006 میں اس وقت کی صوبائی حکومت نے پہلی مرتبہ پتنگ بازی اور بسنت منانے پر پابندی عائد کی اور اسے بعد ازیں 2007 میں قانونی شکل دی گئی اور چند برس قبل حکومت پنجاب نے پتنگ بازی کے قوانین میں مزید سختی کرتے ہوئے پتنگ بازی اور پتنگ سازی کو قانوناً جرم قرار دے دیا ہے۔
اس حوالے سے پنجاب اسمبلی سے پتنگ بازی کی ممانعت کا ترمیمی بل 2024 منظور ہونے سے صوبے میں پتنگ بازی پر مکمل پابندی عائد ہو گئی ہے۔
اس قانون میں ترمیم کے بعد پتنگ بازی کو ناقابل ضمانت جرم قرار دیا گیا ہے۔ پتنگ اڑانے والے کو تین سے پانچ سال قید یا 20 لاکھ جرمانہ یا دونوں کی سزا ہو گی۔
اسی طرح پتنگ بازی، تیاری، فروخت، نقل و حمل پر 5 لاکھ سے 50 لاکھ تک جرمانہ عائد کیا گیا۔ پابندی کا اطلاق پتنگوں ، دھاتی تاروں،

بسنت منانے کی مشروط اجازت

31/12/2025 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے