صرف ایک قائدِ اعظم : قیامِ پاکستان اور مسلم سیاسی قیادت کا فقدان
افکارِ تازہ ڈاکٹر افتخارالحق
ہر سال 25 دسمبر بانیِ پاکستان کی سالگرہ بہت جوش و خروش سے منائی جاتی ہے ۔ تقریبات کا اہتمام ہوتا ہے جس میں اہلِ قلم و سیاست زور و شور سے تقاریر کرتے ہیں اور “ قائد کاپاکستان” مقبول ترین نعرے کے طور پر تقاریر میں استعمال ہوتا ہے۔ تاہم ایک نہایت اہم پہلو جسے شعوری یا غیرارادی طور پر نظر انداز کیا جاتا ہے ، وہ ہے تحریکِ پاکستان میں ایک سے زائد عظیم سیاسی رہنماؤں کا نہ ہونا۔
آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام کانگریس بننے کے اکیس سال بعد 1906 میں ہوا اور اتفاق سے اسی سال قائدِ اعظم محمد علی جناح نے کانگریس میں شمولیت اختیار کی ۔ مسلم لیگ کے بانیوں میں سے سوائے سر آغا خان سوم کے کوئی بھی لیڈر بعد میں خاطر خواہ شہرت پانے سے محروم رہا ۔قائد نے بالآخر 1913 کے اوائل میں کانگریس میں رہتے ہوئے مسلم لیگ کی رکنیت بھی حاصل کر لی ۔ ایسا کرنا ان دنوں معیوب نہیں سمجھا جا سکتا تھا۔ شمولیت کے ساتھ ہی قائد نے مسلم لیگ کی قیادت کو سمجھایا کہ انگریزوں سے غیر مشروط وفاداری کا نعرہ ترک کر کے کانگریس کے ساتھ مل کر ابتدائی آزادی / سیلف رُول کا مطالبہ کرے کیونکہ ان دنوں قائد ہندو-مسلم متحدہ جدوجہدِ آزادی کے قائل تھے ۔ اب 1913 سے لے کر 1947 تک ہمیں قائدِ اعظم کے علاوہ ہمیں ان کے قد کے برابر تو کیا ، نصف قامت کا بھی کوئی رہنما نظر نہیں آتا اور یہ نکتہ ہماری سیاسی تاریخ میں بے حد اہم ہے ۔
اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ خود مسلم لیگ کے اندر اختلافات کی فضا سرِ شفیع اور ان کے ہم خیال لوگوں کے طفیل ایک عرصہ برقرار رہی۔پھر 1939 میں کانگریسی صوبائی حکومتوں کے خاتمے پر مسلم لیگ بڑی حد تک واحد مسلم سیاسی پارٹی کے طور پر ابھرتی چلی گئی ۔ اس سے پہلے یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ قائد نے دوسری گول میز کانفرنس کے بعد مسلم لیگ کی اندرونی فضا سے تنگ آ کر عارضی طور پر سیاست ترک کر کے لندن میں پھر سے صرف وکالت کا شعبہ اختیار کر لیا تھا ۔ علامہ اقبال کے خلوص کو سلام کہ انھوں نے مسلسل خطوط لکھ کر قائد کو واپس ہندوستان آ کر مسلم قیادت کے لیے آمادہ کیا ۔ اس کا مطلب یہ کہ 1930 کے عشرے میں بھی قائد کے علاوہ ہندوستان بھر میں کوئی اتنا قدآور سیاسی لیڈر تھا ہی نہیں ۔ اُدھر کانگریس گاندھی ، نہرو اور ابوالکلام آزاد جیسے پائے کے سیاستدانوں سے بھری پڑی تھی۔ اس پر المیہ یہ کہ 1930 کے عشرے کے وسط تک قائد کو تپِ دق / Tuberculosis جیسے مہلک مرض کی تشخیص ہو چکی تھی۔پھر 1940 میں قرار دادِ پاکستان کی منظوری کے بعد قائد کو ایک اور مزاحمتی محاذ پر لڑنا پڑا یعنی علمائے کرام نے مطالبۂ پاکستان کی شدید مخالفت 1947 تک جاری رکھتے ہوئے اس عظیم لیڈر کی یہ حالت کر دی :
حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں
اب 1942 کے کرپس مشن پلان سے لے کر تین جون 1947 پلان تک ہمیں سوائے قائدِ اعظم کے ان کی ٹکر کا کوئی مسلم لیگی رہنما ڈھونڈے سے نہیں ملتا ۔
یہی وجہ ہے کہ پہلی دستور ساز اسمبلی آئین بنانے میں ناکام رہی اور قائد کی وفات کے ساتھ ہی ہماری سیاست پر سول سرونٹس وغیرہ جیسے غیر سیاسی عناصر کا نہ صرف اثر بلکہ غلبہ ہوتا چلا گیا ۔نتیجتاً پاکستان اپنی سلور جوبلی منانے سے کوئی آٹھ ماہ قبل ہی دو لخت ہو گیا ۔ اس سے پہلے ( اور بعد میں بھی) اگر کسی قابل سیاست دان نے ابھرنے کی کوشش بھی کی تو اس سے غالباً ایسی سنگین غلطیاں ہوئیں کہ اسے منظرِ عام سے غائب ہونا پڑا یا اپنی مقبولیت سے ہاتھ دھونا پڑے ۔ اس تمام منظر نامے کا تقاضا ایک تو یہ ہے کہ پاکستان میں مرکزی دھارے کی دو تین سیاسی جماعتیں کافی ہیں اور چھوٹی چھوٹی علاقائی جماعتوں کو بڑی جماعتوں سے الحاق کر لینا چاہئیے تاکہ مشترکہ عظیم سیاسی قیادت کے ابھرنے کا سامان بہم ہو ۔ دوسرا اہم سبق یہ سیکھنا چاہئیے کہ سیاسی مسائل کو سیاسی انداز میں مفاہمت اور تحمل کی پالیسی اپنا کر حل کرنے کے کلچر کو فروغ دینا چاہئیے ۔ تیسری اہم بات یہ کہ ہمیں اپنی تاریخ سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے تاکہ خاکم بدہن پھر سے ہمارا جغرافیہ ہمیں بھلانا نہ شروع کر دے ۔دعا ہے ہماری موجودہ سیاسی قیادت اپنی عملی خدمات سے لیڈر شپ کے فقدان کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے ختم کر دے ۔






