طاقت ور ترین ادارے میں خود احتسابی کا عمل
قیام پاکستان سے لیکر آج تک یہ بات عوامی حلقوں میں زور و شور سے کہی جاتی رہی ہے. کہ ملک کا ایک طاقت ور ترین ادارہ ملک کی قسمت کا فیصلہ کرتا ہے. اس کی طرف سے کیے گئے بعض غلط فیصلہ جات کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑتا ہے. ماضی میں متعدد بار جمہوری حکومتوں کو محض پسند و ناپسند کی بنیاد پر رخصت کیا جاتا رہا ہے. جس سے ملکی ترقی کا سفر مسلسل تنزلی کا شکار رہا ہے. ہم سے بعد میں آزاد ہونے والے ممالک آج ترقی کی دوڑ میں ہم سے بہت آگے نکل چکے ہیں. دیر آئے درست آئے. اس طاقت ور ترین ادارے نے بالآخر اپنی غلطیوں کے ازالہ کے لیے اپنے اندر چھپی کالی بھیڑوں کو چن چن کے باہر کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے. اس خود احتسابی کے عمل سے اس ادارے کی نیک نامی میں بلاشبہ اضافہ ہو گا. اس نے گزشتہ روز اپنے ادارے کے ایک اہم ترین عہدیدار کو چودہ سال کی سزا سنائی ہے. جس پر اپنے اختیارات کے غلط استعمال سمیت دیگر الزامات بھی عائد تھے. ان کا ٹرائل مکمل شفافیت سے سر انجام پایا. انہیں دوران ٹرائل مکمل صفائی کا موقع فراہم کیا گیا. مگر وہ اپنی صفائی میں کچھ ثابت نہ کر سکے. اس ایک کردار سے پتہ چلتا ہے. کہ کس طرح سے اپنے ذاتی مفادات کی غرض سے ملکی مفادات کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے. پاکستان کی قابل ترین سیاسی قیادت کو قید و بند میں ڈالا گیا.پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا ، محترمہ بے نظیر بھٹو کو شہید کروا دیا گیا. مطلب جو بھی ان کو پسند نہ ہوتا. اسے نا صرف حکومت سے ہاتھ دھونے پڑتے. بلکہ بسا اوقات تو زندگی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے. انہیں طاقت ور لوگوں کی طرف سے اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ کے لیے نئی سیاسی جماعتوں کو معرض وجود میں لایا گیا. اور ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعتوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا. ان لوگوں کی وجہ سے پاکستان کی عوام کو حادثاتی سیاسی قیادت کا بھی سامنا کرنا پڑا. جو بالکل نااہل تھی. اس نے ملک کا بیڑا غرق کرکے رکھ دیا. مگر ان لوگوں کی تجوریاں ضرور بھری. جو ان کو لیکر آئے تھے. ان کا مقصد ہی نااہل اور غیر تجربہ کار سیاسی قیادت کو ملکی بھاگ دوڑ دیکر کر کرپشن کرنا تھا. یہ سلسلہ کئی صدیوں سے چلا آ رہا ہے. مگر اب اس ادارے کی مخلص اور ایماندار قیادت نے اپنے ادارے میں خود احتسابی کے عمل کا آغاز کیا ہے. جو کہ یقینی طور پر قابل ستائش ہے. اس خود احتسابی کے عمل سے عوام میں اس ادارے کی نیک نامی میں یقینی طور پر اضافہ ہو گا. انسان طاقت کے نشہ میں فرعون بن جاتا ہے. وہ یہ بھول جاتا ہے. کہ ایک ذات پاک اوپر بیٹھی ہے. جو سب کچھ دیکھ رہی ہے. اور بہترین انصاف کرنے والی ہے. جب وہ انصاف کا فیصلہ کرتی ہے. تو پھر بڑے بڑے فرعون ذلت و رسوائی کی دھول چاٹتے ہیں. پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد محترم میاں محمد نواز شریف کی حکومت کو ناجائز طریقہ سے ختم کیا گیا. ان کو زبردستی جلا وطن کیا گیا. ان کو اپنی والدہ کی تدفین میں شامل نہیں ہونے دیا گیا. ان کی شریک حیات محترمہ کلثوم نواز جس اذیت سے اس دنیا سے رخصت ہوئی . ان کی بیٹی محترمہ مریم نواز شریف کو ان کی آنکھوں کے سامنے گرفتار کیا گیا. ان سب زیادیتوں پر اس مرد آہن نے بس ایک تاریخی فقرہ کہا تھا. کہ میں اپنا فیصلہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر چھوڑتا ہو. آج دنیا نے دیکھ لیا. کہ میاں محمد نواز شریف اپنے اوپر لگے تمام بے بنیاد الزامات سے سرخرو ہوکر واپس عوام میں موجود ہیں. ان سے زیادتی کرنے والے ذلت و رسوائی سے دوچار ہیں. یہ ہے مکافات عمل. جس سے کوئی ظالم بچ نہیں سکتا. طاقت کے نشہ میں کوئی ایسی غلطی نہ کرے. کہ جس کی سزا اس دنیا میں ذلت و رسوائی کی صورت میں ملے. اس ادارے کی موجودہ قیادت قابل تحسین کی مستحق ہے. جس نے اپنے ادارے کو ہر طرح سے پاک صاف کرنے کے پختہ عزم کا برملا اظہار کیا ہے. اللہ تعالیٰ انہیں اپنے نیک مقصد میں کامیابی عطا فرمائے. آمین






