کیا نوشتۂ دیوار وہی ہے جو نظر آ رہا ہے ؟
افکارِ تازہ
ڈاکٹر افتخارالحق
پورے ملک میں اس وقت ایک حساس عسکری ادارے کے اعلیٰ افسر کو قیدِ بامشقت کی سزا میڈیا اور عوام کا محبوب موضوع بنا ہوا ہے ۔ یہ بھی عجب اتفاق ہے کہ اسی اہم فیصلے کے ساتھ ہی 23 سخت شرائط کے ساتھ آئی ایم ایف نے تازہ قرض سے پاکستان کو فیض یاب کرنے کا فیصلہ بھی سنا دیا ہے جب کہ ورلڈ بنک نے چالیس کروڑ کے قرضے کا اضافی طوق بھی ہماری معیشت کی گردن کے گرد کسنا شروع کر دیا ہے۔ آئی ایم ایف کی شرائط میں روپے کو ڈالر کے مقابل “ لچکدار “ رکھنے اور زرعی درآمدات پر ٹیکس میں چھوٹ نہ دینے کی شرائط شامل ہیں ۔
بظاہر ان اہم واقعات کی کڑیاں آپس میں ملتی دکھائی نہیں دیتیں اور نہ یہ سمجھ آتا ہے کہ یہ سب کس کی “نیازمندی” کا فیض ہے کیونکہ کامل علم تو اسی ذات کو ہے جو حمیدُ مّجید ہے۔ اب تک کے دھواں دھار تبصروں، خبروں اور سیاسی پنڈتوں کے مطابق اس تاریخ ساز فیصلے کے بعد سیاسی معاملات میں غیر سیاسی عناصر کی مداخلت وغیرہ کم/ ختم ہونے کے امکانات قوی ہوتے جائیں گے اور اس پر عمومی عوامی ردِ عمل بھی خاصا خوشگوار ہے ۔ تاہم نسبتاً حقیقت پسند مبصرین اب بھی اس فیصلے کو محسن نقوی کے اس شعری عدسے کے توسط سے دیکھ کر کچھ اور اندیشہ ہائے دوردراز میں مبتلا دکھائی دے رہے ہیں:
اس شب کے مقدر میں سحر ہی نہیں محسن
دیکھا ہے کئی بار چراغوں کو بجھا کر
بہرحال امید رکھنی چاہیئے کہ وطنِ عزیز کے لیے اللہ کی ذات کوئی بہتری کا رستہ ہی نکالے تاکہ مسلسل عدم استحکام ، بے یقینی اور افواہ سازی کی حبس آلود شام سے معاشی ترقی اور آزادانہ سیاسی عمل کی صبح کی جانب اس یقین کے ساتھ ہر خطرے سے محفوظ سفر شروع ہو سکے :
دل نا امید تو نہیں ناکام ہی تو ہے
لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے
ہر مخلص و محبِ وطن پاکستانی کی تمنا ہے کہ یہاں سیاسی عناصر اور تمام ریاستی اداروں میں کوئی ایسا تحریری / آئینی معاہدہ ہوجائے جس کے تحت فریقین اپنے اپنے دائرۂ کار میں مصروف رہیں اور غیر سیاسی اداروں کی توانائی سیاسی معاملات کے سدھار میں لگانے کی نوبت ہی نہ آئے یعنی سیاستدان اور سول سرونٹس پوری دیانتداری سے اپنا کام کرتے رہیں ۔ اب ذرا مزید غور سے حالیہ سیاسی منظرنامے کا جائزہ لیا جائے تو متذکرہ عدالتی فیصلے سے حکومت پر ذمے داریوں کا بوجھ بڑھنے کے ساتھ اسے ایک اور سنہری موقع بھی ملا ہے کہ یہ اپنی کارکردگی سے عوام کو واقعی متاثر کرے ۔ اس کے لیے اسے ان مرکزی شعبوں پر توجہ دینا ہوگی :
بجلی کے بحران پر ہنگامی بنیادوں پر قابو پانا
عام آدمی کی قوتِ خرید میں فوری اور دیرپا بہتری کے اقدامات
بلوچستان میں بلا تاخیر ایسے ترقیاتی منصوبے شروع کرنا جن سے اس نظر انداز شدہ صوبے کے عوام کا مرکزی حکومت اور پنجاب پر اعتماد بحال ہو۔
کرپشن پر قابو پانے کے لیے ایسے اقدامات کرنا جو اتنے شفاف ہوں کہ آئی ایم ایف کو ڈھونڈنے سے بھی اس کی جھلک دکھائی نہ دے ۔
حالیہ رپورٹوں کے مطابق پولیس کا شعبہ بدقسمتی سے ایک بار پھر اس مسئلے میں سرِ فہرست ہے ۔ افسوس اس پر ہوتا ہے کہ پولیس کی موجودگی میں کھلم کھلّا نا انصافی کے واقعات ہو جاتے ہیں ۔ مثلاً سندھ میں گیارہ دسمبر کو ہونے والا ایک واقعہ تمام چینلز پر دکھایا گیا جس میں ایک صوبائی وزیر اور پولیس حکام کی موجودگی میں ایک بزرگ مرد پر بے پناہ تشدد کیا گیا اور مزید افسوس اس پر ہے کہ یہ المیہ عدالتی احاطے میں ہوا ۔گو یہ معاملہ سندھ اسمبلی میں اٹھایا بھی گیا اور شرجیل میمن صاحب نے اس بابت فوری اقدامات کی یقین دہانی بھی کرائی ہے، دیکھنا یہ ہوگا کہ کتنی جلد اور کتنے نتیجہ خیز اقدامات لیے جاتے ہیں اور ان کی تفصیل انھی ٹی وی چینلز پر دکھائی بھی جاتی ہے ۔ حیرت اور افسوس اس پر بھی ہے کہ کچھ دن پہلے پنجاب میں ایک کم عمر ڈرائیور نے دو بہنوں کو سکوٹی پر اتنے زور سے ٹکر ماری کہ دونوں ہلاک ہو گئیں ۔ اس معاملے کو جتنی سرعت سے دبایا گیا وہ اپنی جگہ تشویشناک ہے :
نہ مدعی نہ شہادت ، حساب پاک ہوا
یہ خونِ خاک نشیناں تھا رزقِ خاک ہوا
کاش اس معاملے کی مکمل تفصیلات منظرِ عام پر لائی جائیں تاکہ یہ حقیقت کھل سکے کہ واقعی کسی دباؤ وغیرہ کے بغیر ہی اتنی جلدی تمام مسئلہ نمٹا دیا گیا یا یہ ریمنڈ ڈیوس سیریز کا ایک اور واقعہ ہے۔انصاف کی بالادستی کا براہِ راست تعلق معاشی خوشحالی اور عوامی احساسِ تحفظ کے ساتھ ہوتا ہے ۔
تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ افغان-بھارت اتحاد کی مشترکہ پاکستان مخالف کاوش سے دہشت گردی ان تمام اہداف کو حاصل کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ تاہم یہ بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ حکومت اگر بیک وقت یہ تمام اقدامات شروع کرے اور اپنے اخراجات پر قابو پانے کی سعی کرے تو کامیابی کی شرح کا تناسب کہیں زیادہ کیا جا سکتا ہے۔حکومتی اخراجات کم کرنے کا فوری آسان طریقہ یہ ہے کہ بیرونی دوروں پر مختصر سے مختصر ٹیم وزیرِ اعظم صاحب کے ساتھ جائے کیونکہ اپوزیشن سمیت بیشتر عوام بھی ان اخراجات پر تحفظات کا اظہار کرتے رہتے ہیں ۔ شاید اس کی ایک بڑی وجہ ان متعدد بیرونی دوروں کے خاطر خواہ نتائج داخلہ سطح پر فی الوقت سامنے نہیں آ رہے ۔امید ہے حکومت حسبِ سابق مثبت تنقید کو اہمیت دے گی اور اجتماعی عوامی مفاد کے لیے مزید سنجیدگی سے کام کرے گی ۔





