خس کم جہاں پاک ” ڈاکٹروردہ قتل کیس کا مرکزی ملزم ماراگیا
أج کا اداریہ
ایبث أباد میں ڈاکٹر وردہ کے اغوا اور قتل کے مقدمے میں ملوث مرکزی ملزم ایک پولیس مقابلے کے دوران ’اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سےمارا گیا ہے۔مقامی پولیس کے مطابق پولیس کو مطلوب مرکزی ملزم شمریز کے بارے میں اطلاع ملی تھی کہ وہ ایبٹ آباد کے دوردراز علاقے میرا رحمت میں روپوش ہے۔جب پولیس نے گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا تو ملزم اور اس کے دو ساتھیوں نے ’پولیس پر فائرنگ کر دی۔ پولیس نے اس موقع پر اپنے دفاع میں معمولی فائرنگ کی۔ ملزمان کی جانب سے فائرنگ کا سلسلہ کافی دیر تک جاری رہا۔ جب فائرنگ کا سلسلہ تھما تو ملزم اپنے ٹھکانے پر مردہ پایا گیا۔‘
خیال رہے کہ اس کیس میں دیگر تین ملزمان پولیس کی حراست میں ہیں۔ ایبٹ آباد سے چار دسمبر کو لاپتہ ہونے والی ڈاکٹر وردہ کی لاش اسی ضلع کے نواحی علاقے سے برآمد ہونے کے بعد تفتیش کاروں نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی ایک قریبی دوست نے انھیں اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر مبینہ طور پر قتل کیا ہے۔
ڈی پی او ہارون الرشید کا کہنا تھا کہ مقتولہ نے دو برس قبل دبئی جانے سے پہلے 67 تولہ سونا اپنی ایک دوست کے پاس امانتاً رکھوایا تھا اور ’یہی سونا ڈاکٹر وردہ کے قتل کی وجہ بن گیا۔
جبکہ ڈاکٹر وردہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق آٹھ دسمبر کو جب ان کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے لائی گئی تو اس وقت ان کی موت کو 72 گھنٹے گزر چکے تھے۔
ابتدائی پوسٹ مارٹم کے مطابق ان کو گلا گھونٹ کر مارا گیا تھا اور ان کی گردن کے اردگرد ایسے نشانات تھے جو کسی رسی یا کپڑے کے ہو سکتے ہیں، جس سے ان کی گردن کی ہڈی بھی ٹوٹ گئی تھی۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر وردہ کے جسم پر تشدد کے نشانات بھی موجود تھے۔
ڈی پی او ہارون الرشید نے گذشتہ روز پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا تھاکہ شمریز اور ان نے ایک ساتھی نے مبینہ طور پر ڈاکٹر وردہ کا گلا دبا کر انھیں قتل کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ شمریز کا ‘مرکزی کردار تھا اور یہ واردات کے بعد مفرور تھا۔ اس کی گرفتاری کے لیے پشاور اور ایبٹ آباد میں چھاپے مارے جا رہے تھے۔
ہمیں آج اطلاع ملی کہ ملزم کشمیر کی طرف فرار ہونے کی کوشش کر رہا ہے اور ہم نے اپنی اطلاعات کی بنیاد پر مختلف چھاپہ مار ٹیمیں تشکیل دیں۔‘
ہارون الرشید کا کہنا تھا کہ ‘رحمت خان کے مقام پر ملزم اپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس دوران جب پولیس پارٹی نے گرفتاری کی کوشش کی تو اس نے پولیس پر فائرنگ کر دی۔
’پولیس نے اپنا دفاع کیا۔ اس دوران ملزم کے دو ساتھی رات کے اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر فرار ہوگئے جبکہ ملزم اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارا گیا۔‘
ڈسٹرکٹ پولیس افسر نے مزید کہا کہ اگرچہ فرار ہونے والوں کا ڈاکٹر وردہ کے کیس سے براہ راست تعلق نہیں ہے تاہم انھیں جلد گرفتار کرنے کی کوشش کریں گے۔اس قتل کیس میں اس وقت تمام ملزمان گرفتار ہیں جس میں ڈاکٹر وردہ کی دوست، دوست کا خاوند اور دو دیگر ساتھی شامل ہیں۔ پولیس اس کیس میں ٹھوس شواہد حاصل کر رہی ہے کہ ملزمان کو عدالت سے قرار واقعی سزا مل سکے۔
ایبٹ آباد کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) ہارون الرشید کا کہنا ہے کہ مقتولہ نے دو برس قبل دبئی جانے سے پہلے 67 تولہ سونا اپنی ایک دوست کے پاس امانتاً رکھوایا تھا اور ’یہی سونا ڈاکٹر وردہ کے قتل کی وجہ بنا۔‘
دریں اثناء معلوم ہواہے کہ ملزمہ کے خاوند کو براہ راست قتل کے مقدمے میں نہیں بلکہ دھوکا دہی کے الزامات میں گرفتار کیا گیا۔
’تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ملزمہ کے خاوند نے اپنی اہلیہ کو زیور واپس کرنے سے روکا تھا اور کہا تھا کہ تمہارا وردہ کے ساتھ اور بھی لین دین ہے جب تک وہ طے نہیں ہوتا اس وقت تک زیور واپس نہ کرو۔‘
واضح رہے کہ اس سے قبل پولیس ڈسڑکٹ پولیس افسر ایبٹ آباد نے بتایا تھا کہ زیور کو بینک میں رکھ کر ایڈوانس لیا گیا تھا۔
ایبٹ آباد تفتیشی افسر کے مطابق ملزمہ کو زیور واپس کرنے سے روکنا ایک خوفناک واردات کا سبب بنا اور اب اس بات پر بھی تفتیش ہو رہی ہے کہ ملزمہ کا شوہر قتل کی سازش میں شریک تھا یا نہیں۔
یاد رہے پانچ دسمبر کو ڈاکٹر وردہ کے والد کی مدعیت میں درج ایف آئی آر میں کہا گیا تھا کہ 18 اکتوبر 2023 کو دبئی جانے سے قبل ان کی بیٹی نے 67 تولہ سونے کے زیورات اپنی دوست کے پاس رکھوائے تھے۔
والد کے مطابق تقریباً تین ماہ قبل ان کی بیٹی واپس پاکستان آئیں اور جب انھوں نے اپنی دوست سے سونے کی واپسی کا مطالبہ کیا تو ملزمہ نے ٹال مٹول کیا۔
درج مقدمہ میں کہا گیا ہے کہ چار دسمبر کو ’دن تقریباً 11 بجے ملزمہ میری بیٹی کو اپنے ساتھ لے کر اپنے زیرِ تعمیر گھر گئی تھی۔ جب کافی وقت بعد میں نے بیٹی کے موبائل نمبر پر رابطہ قائم کیا تو اس کے ساتھ رابطہ نہ ہو سکا۔ جب اس کی قریبی دوست (ملزمہ) کے ساتھ رابطہ کیا تو اس نے کہا کہ اس نے ڈاکٹر وردہ کو طلائی کے زیورات واپس کر دیے ہیں
تھانہ کینٹ کے ایس ایچ او کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر انھیں ملزمہ نے بتایا تھا کہ مقتولہ کو زیورات واپس کر دیے گئے تھے اور اس کے بعد ڈاکٹر وردہ کا ان سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔
’مگر یہ بات پولیس کو مطمئن نہ کرسکی۔ اردگرد کے سی سی ٹی وی کیمروں کا جائزہ لیا گیا تو پتا چلا کہ ایک گاڑی زیر تعمیر گھر والی سڑک میں داخل ہوتی ہے اور پھر دس منٹ بعد واپس چلے جاتی ہے۔‘
تھانہ کینٹ کے ایس ایچ او زبیر تنولی مزید کہتے ہیں کہ پولیس کو ملزمہ کے ڈرائیور نے بتایا کہ ان کی مالکن مقتولہ کے ساتھ گھر آئیں تھیں اور انھوں نے ڈرائیور سے کہا کہ وہ بچوں کو سکول لینے کے لیے ان کے ساتھ چلیں۔
پولیس افسر کہتے ہیں کہ ملزمہ گھر میں پہلے سے ہی موجود تین ملزمان کے پاس مقتولہ کو چھوڑ کر چلی گئیں۔
ابتدائی تفتیش میں پتا چلا ہے کہ ملزمان نے دس سے پندرہ منٹ میں پھندا لگا کر مقتولہ کو قتل کیا اور ملزمان جس گاڑی میں آئے تھے اسی گاڑی میں مقتولہ کو لے کر دفنانے چلے گئے تھے۔‘
زبیر تنولی کا کہنا تھا کہ ملزمان نے قتل اور دفنانے کی ساری کارروائی ’اندازاً ایک گھنٹے سے کچھ زیادہ وقت میں مکمل کی۔‘
پولیس کی نظر میں یہ زیرِ تعمیر گھر مشکوک ہو چکا تھا اور اسی وقت وہاں تلاشی لینے کا فیصلہ کیا گیا۔
زبیر تنولی کہتے ہیں کہ جب اس زیرِ تعمیر گھر میں تلاشی کے لیے پولیس پہنچی تو انھیں بتایا گیا کہ اس گھر کی چابی ایک ملازم کے پاس ہے اور وہی گھر کی تعمیر کروا رہا ہے۔
’پولیس کو پتا چلا کہ ملزمہ کا اپنے اس ملازم کے ساتھ قریبی رابطہ تھا اور جب جدید طریقوں سے تفتیش کو آگے بڑھایا گیا تو ایک مشتبہ نمبر ملا۔‘
پولیس کا کہنا ہے کہ جب ملازم سے تفتیش ہوئی تو اس نے بتایا کہ ڈاکٹر کو قتل کرکے دفنا دیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ہونے والے تمام ملزمان آپس میں قریبی رشتہ دار ہیں۔






