وتھی وہ ایک شخص کے تصور سے
منشا قاضی
حسب منشا
گذشتہ رات مجھے ایک فون آیا کہ میرے والد گرامی کارڈیالوجی ہسپتال میں دم توڑ گئے ہیں اور میں انہیں واپس گھر لا رہا ہوں تو مجھے یہ خبر سن کر بڑا قلبی رنج محسوس ہوا ۔ وہ شخصیت ہمارے ہمدم و دمساز تھے جن سے گزشتہ سال اپنے گھر میں ارادت و عقیدت کے چراغوں کی روشنی کی لو میں ان کا خیر مقدم کیا تھا اور وہ بڑی دیر تک باتیں کرتے رہے اور ہم ان کی باتیں سنتے رہے ان کا نامِ نامی اسمِ گرامی نزو علی فرتاش ہے وہ صاحبِ فراش بھی نہیں تھے چلتے پھرتے وہ دبے پاؤں اس جہانِ فانی کو چھوڑ کر عالم جاودانی کی طرف کوچ کر گئے۔
انا للہ وانا علیہ راجعون
آسماں ان کی لحد پہ شبنم افشانی کرے
سبزہء نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
انہیں آشیانہ قائد جہاں وہ میرے گھر تشریف لائے تھے وہاں سے صرف چند قدموں پر وہ اپنی آخری ۔ آرام گاہ آشیانہ قبرستان میں منوں مٹی تلے آسودہ ء خاک ہیں وہ اس گئے گزرے دور میں اچھے وقتوں کی حسین و جمیل نشانی تھے سکوت و شگفتگی کا ایک حسین امتزاج تھے میں نے انہیں اکثر کوہستانی وقار کی طرح خاموش دیکھا تھا لیکن جب وہ بولتے تھے تو یوں محسوس ہوتا تھا کہ کوئی مہ جبیں خرام ناز سے گل کترتی چلی جا رہی ہو انسان کا جی چاہتا تھا کہ وہ آپ پر سوالات کرتا چلا جائے اور آپ یوں ہی گلفشانی ء گفتار میں مصروف رہیں۔
فقط اسی شوق میں پوچھی ہیں ہزاروں باتیں
میں تیرا حسن تیرے حسن بیان تک دیکھوں
نیزو علی فرتاش خوبصورت عادتوں کے ایک دلفریب انسان تھے وہ اپنی ذات میں انجمن ا ایک پورا ادارہ تھے ادارے اینٹوں سے نہیں بنتے عمارات سے نہیں بنتے اور نہ ہی وہ بلند و بالا محلات کے تصور سے بنتے ہیں وہ احساس اخلاص اور ذمہ داری کے ستونوں پر کھڑے ہوتے ہیں اور عناصر تثلیث کے وہ خود چلتے پھرتے نیک نامی کے سفیر تھے میں نے ایسے لوگ بہت کم دیکھے ہیں بیسویں صدی نے بڑے لوگوں کو کھا گئی انیسویں صدی نے بڑے لوگ پیدا کیئے اور اکیسویں صدی میں ہم جن لوگوں کے درمیان زندگی بسر کر رہے ہیں ان میں قدآور شخصیات کا تلاش کرنا یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم ایک صحرا میں زندگی بسر کر رہے ہیں کیونکہ انسانوں کی بستی ختم ہوتی چلی جا رہی ہے اور عظیم انسان اٹھتے چلے جا رہے ہیں اور حقیقت یہ ہے میں تو محسوس کر رہا ہوں کہ
اٹھتے جاتے ہیں اس بزم سے اربابِ نظر
گھٹتے جاتے ہیں میرے دل کے بڑھانے والے
ان کے سعادت مند فرزند آکاش نیزو علی فرتاش ان کے نام کو زندہ رکھیں گے انشاءاللہ اور ان کے نام پر بہت کام ہوگا ایسے لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں ہزاروں سال نرگس کو اپنی بے نوری پہ رونا پڑتا ہے تب کہیں جا کر کوئی ایسا دیدہ ور پیدا ہوتا ہے جنہیں دنیا نزو علی فرتاش کے نامِ نامی اسمِ گرامی سے یاد کرتی ہے ۔ ان تعلق فلمی دنیا سے تھا انہوں نے چار سو کے قریب فلمی کہانیاں لکھی تھیں ۔ میرا ان سے تعلق علمی دنیا کے حوالے سے تھا ۔ مولائے کریم انہیں اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دیں ۔
تھی وہ ایک شخص کے تصور سے
اب وہ رعنائی ء خیال کہاں






