#کالم

زبان کٹ گئی ۔۔مگر سوال باقی ہے 

Untitled 5

احساس کے انداز  تحریر:۔ جاویدایازخان 

ہمارے ایک دوست کہا کرتے تھے کہ رشتہ بنانے سے پہلے رشتہ نبھانے کا ظرف بہت ضروری ہے ۔ اسی تناظر میں یہ خبر تو چھوٹی سی ہے مگر خوف بہت بڑا ہے اور بات بھی بہت بڑی ہے کہ اب یہ روایت کیا رنگ لاۓگی ؟ گذشتہ روز ڈیلی پاکستان لاور جنگ آن لائن اور ایکسپریس نیوز اور کئی نیوز چینلز کے مطابق گھریلو جھگڑے پر بیوی نے اپنے دانتوں سے شوہر کی زبان کاٹ کر بولنے سے مکمل طور پر محروم کردیا ۔یہ واقعہ تاندلیانوالہ میں پیش آیا جہاں پولیس کے مطابق متاثرہ شخص کے بڑے بھائی کی جانب سے مقدمہ درج کرایا گیا ہے ۔اس ہولناک واقعہ نے علاقے میں ہی نہیں بلکہ ملک بھر میں سنسنی پھیلا دی ہے ۔مقدمے کے مطابق گھریلو جھگڑے کے دوران اپنے شوہر کی دانتوں سے زبان کاٹ کر خاوند کو مکمل طور پر بولنے سے معذور کردیا گیا ۔دانتوں سے زبان کاٹنے کا یہ شاید پہلا واقعہ ہے جو منظر عام پر آیا ہے ۔زبان چلانےپر گو زبان تو کٹ گئی مگر سوال باقی ہے کہ شوہر تو ویسے بھی بیوی کے سامنے زبان ہوتے ہوۓ بھی بےزبان ہوتا ہے تو پھر زبان کاٹنے کی نوبت کیوں پہنچی ؟   عدم برداشت کا یہ دل دہلا دینے والا واقعہ گذشتہ دنوں منظر عام پر آیا جہاں گھریلو جھگڑے کی تپش اس حد تک بڑھی کہ بیوی نے اپنے خاوند کی زبان ہی چبا ڈالی اور یوں گھر کا مکالمہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا ۔خبر پڑھ کر لمحہ بھر کو انسان رک جاتا ہے کہ کیا ہم واقعی یہاں تک پہنچ چکے ہیں جہاں اختلافات کے خاتمے کا حل اور طریقہ اب جسمانی تشدد اور زبان کاٹ دینا ہی رہ گیا ہے ؟ اس واقعہ نے نہ صرف اس ایک شخص کی زندگی  ہمیشہ کے لیے بدل دی بلکہ دنیا بھر کے شوہروں کو خبردار بھی کردیا کہ احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور زبان قابو میں رکھیں ورنہ ایسا کسی کے ساتھ بھی ہو سکتا ہےاور صرف زبان ہی نہیں بلکہ اپنی آنکھوں سے چھلکتی نفرت اور غصہ بھی ظاہر نہ ہونے دیں ۔اس واقعہ نے دوسری جانب معاشرے میں بڑھتے ہوۓ عدم برداشت کے رویے ،تشدد،بےاعتمادی اور غصے کے آتش فشاں کی جانب بھی اشارہ کردیا ہے ۔جس تشدد  کا رخ اب عورتوں تک محدد د نہیں رہا بلکہ خواتین کی جانب سے بھی دیکھنے میں آیا ہے ۔گو شوہر کی زبان تو خاموش ہوچکی ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا اصل میں ہماری سماجی تربیت ،ہمارے رویے اور ہمارے گھروں کے اندر پھیلتی تلخیوں کو بھی خاموش کرانے کی ضرورت ہے ؟  کہتے ہیں کہ شوہر اللہ کا دیا وہ تحفہ ہوتا ہے جس سے سو بار لڑنے کے باوجود اس کے بغیر رہنا اور زندگی گزارنا ممکن نہیں ہوتا ۔تو پھر  سوچئے  کہ بغیر زبان کے شوہر کے ساتھ زندگی گزارنا کس قدر مشکل ہو سکتا ہے۔یہ رشتوں کی شکست گھروں میں بڑھتی ہوئی تلخی کا اعلان نہیں تو پھر کیا ہے ؟ 

یہ واقعہ محض ایک جھگڑا یا تنازعہ نہیں بلکہ ہمارے معاشرتی زوال کا بیان ہے ۔گھروں میں تلخیاں کب نہیں ہوتیں ہمیشہ سے تھیں اور ہمیشہ رہیں گیں ۔لیکن ضبط اور برداشت کا عنصر ہمیشہ غالب رہتا ہے ۔بات چیت اور ایک دوسرے کا ادب واحترام کا قرینہ بھی ہو اکرتا ہے ۔ایک دوسرے کو سمجھنے اور برداشت کرنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے ۔شاید آج فیصلے غصے پر ہورہے ہیں۔برداشت دم توڑ رہی ہے اور رشتوں کا حترام بدگمانی میں بدل چکا ہے ۔ اس واقعہ نے واضح کردیا ہے کہ مسئلہ صرف ایک گھر یا ایک جوڑے یا ایک جذباتی لمحے  کا نہیں بلکہ مسئلہ اس معاشرۓ کا ہے جس میں ہم نے یہ سیکھ لیا ہے کہ "اختلاف کا جواب غصہ ہے ،غصے کا جواب تشددہے اور تشددکا جواب مزید تشددہے ” اور ہم یہ بھول گئے ہیں کہ گھروں کو زبانیں نہیں گفتگو زندہ  رکھتی ہیں ۔ہم یہ بھول گئے ہیں کہ غصہ کبھی فیصلہ نہیں کرسکتا اور جو فیصلے غصہ کرتا ہے وہ ہمیشہ پچھتاوۓ میں بدل جاتے ہیں ۔ہم یہ بھی بھول گئے ہیں کہ میاں بیوی کا رشتہ مقابلے کا نہیں برداشت اور دوستی کا ہوتا ہے ۔لیکن اس سب کے باوجود اس واقعے نے ایک اور سوال بھی کھڑا کردیا ہے کہ خاوند کی زبان کاٹ دی یہ ایک جسمانی حقیقت ہےمگر کیا ہماری سماجی زبانیں آج بھی اتنی ہی تلخ ،کاٹ دار اور زخم لگانے والی نہیں ہو چکیں ؟  کیا گھروں میں چلنے والی باتیں وہی پرانی طنز ،الزام ،طعنے اور فتوۓ نہیں جن کا جواب اکثر لوگ خاموشی سے نہیں دے سکتے ؟ اور پھر جب کسی کے اندر اتنی آگ بھر جاۓ کہ وہ کسی کا وجود ہی زخمی کردۓ تو کیا اصل قصور وار صرف وہ ایک لمحہ ہوتا ہے ؟ ضرورت اس بات کی نہیں کہ شوہروں کو چپ کرایا جاۓ یا بیویوں کو حاوی ہونے سے روکا جاۓ بلکہ ضروت اس بات کی ہے کہ  گھر کا ماحول بدلنے کی سکت اور ہمت پیدا کی جاۓ ۔ہم اپنے بچوں کو یہ سیکھائیں کہ بات کیسے کی جاتی ہے۔اختلاف کیسے حل کیا جاتا ہے۔اپنی  نئی نسل کی تربیت کریں کہ رشتوں کو کیسے نبھایا جاتا ہے  ۔عورت ہو یا مرد دونوں یہ سمجھیں کہ زبانیں کاٹنے سے گھر نہیں بنتے گھر تو نرم لہجوں ،دھیان دینے اور تحمل وبرداشت سے تعمیر ہوتے ہیں ۔یہ واقعہ ایک چیخ ہے اور ایک تنبیہ ہے اور ایک سوال ہے جس کا جواب ابھی بھی ہم سب پرقرض ہے ۔زبان کٹنے سے خاوند تو چپ ہو گیا مگر اصل میں خاموش ہونے کی ضرورت ہمیں ہے تاکہ ہم سن سکیں کی رشتے ہمیں کیا کہنا چاہتے ہیں ۔عدم برداشت کی موجودہ لہر روکنا ہم سب کی ذمہ داری ہے ۔یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟جی ہاں عدم برداشت کے ایسے واقعات روکنے کے لیے صرف قانون کافی نہیں بلکہ ذہن ،گھر ،معاشرتی رویے بدلنا ہوں گے۔قانون سزا دے سکتا ہے مگر برداشت نہیں سکھا سکتا ۔ہمیں مذہبی اور اخلاقی تربیت کو فرغ دینا ہوگا ۔مساجد ،تعلیمی اداروں اور میڈیا کو نرم رویے کی اہمیت پر زور دینا ہوگا ۔میڈیا اور سوشل میڈیا رویوں کو بدلنے کا سب سے موثرذریعہ ہے ۔ٹی وی ڈراموں میں چیخ وپکار ،مارپیٹ اور زہریلے رشتوں کو گلیمرائز کئے جانے کو روکنا ہوگا ۔ہمیں سب کو انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ۔

زبان کٹ گئی ۔۔مگر سوال باقی ہے 

سو لفظوں کی کہانی

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے