#کالم

پاکستانی ادب کے معمار: ڈاکٹر شیخ محمد اقبال شخصیت اور فن

Untitled 13

قسط:7 (شاہد بخاری)

”تھرڈ ایئر میں پڑھ رہا تھا کہ میرے والدین کو اچانک میری شادی کی فکر لاحق ہوئی وہ سوچنے لگے کہ میرا کیا بنے گا کوئی تو زندگی کا ساتھی ہو جو میری مدد کر سکے انہوں نے سوچا کہ وہ تو بوڑھے ہیں جانے کب تک میرے ساتھ رہ سکیں یہ ان کا محض ایک خیال ہی تھا اور ایک واہمہ اور ایک غیر ضروری تفکر۔ میری والدہ نے کہا کہ میرے بھائی نے بچپن ہی سے زبانی ہی سہی اپنی بیٹی کو مجھ سے منسوب کر رکھا ہے۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا۔ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ پڑھائی کے دوران یہ فیصلہ مناسب ہو سکتا ہے لیکن بزرگ جب منوانے پر آتے ہیں تو جانے کہاں کہاں سے دلائل تلاش کر لیتے ہیں اور ایسی صورتحال پیش کرتے ہیں کہ ہتھیار ڈالنے ہی پڑتے ہیں چاہے یہ ہتھیار ڈالنا جان لیوا ثابت ہو۔ میں نے انہیں لاکھ سمجھایا اور ان کی توجہ دلائی کہ جس لڑکی کا وہ ذکر کر رہے ہیں وہ تو ناخواندہ ہے والد صاحب نے بڑے وثوق سے کہا کہ ناخواندہ کو خواندہ بنانے میں کیا دیر لگتی ہے۔ مجھے ان کی کوئی بات سمجھ میں نہیں آ رہی تھی وہ اور میری والدہ ضروری ساز و سامان کے ساتھ ماموں حضور کے گھر پہنچ گئے اور انہیں ان کا وعدہ یاد دلایا۔کہا کہ اس کے ایفا کا وقت آ گیا ہے۔ انہیں بتایا کہ ہمارا بچہ نابینائی کے باوجود ایک روشن مستقبل کی طرف رواں دواں ہے اس کا تعلیمی کیریئر قابلِ رشک ہے ا سکے حوصلے بلند ہیں لیکن جواب آیا سپاٹ سا جواب ”کچھ بھی ہو اسے نظر تو نہیں آتا“ اور جب نظر نہیں آتا تو وہ کچھ بھی نہیں کر پائے گا“ میرے والدین نے لاکھ دلائل دیئے سمجھایا، انکساری کی،لیکن ان کی ایک نہ سنی گئی اور وہ واپس آ گئے، مجھے افسوس ہوا یہ افسوس نہیں کہ میں رشتہ ازدواج میں منسلک نہیں ہو سکا بلکہ یہ افسوس کہ میرے والدین کو کتنی خفت اٹھانی پڑی بس دل ملول ساہوا“
ڈاکٹرصاحب بتاتے ہیں کہ اس کوشش کے بعد انہوں نے والدین سے صاف صاف کہہ دیا کہ اب آپ کسی کے سامنے خفت نہیں اٹھائیں گے،اب اگر خود کوئی پیش کش ہوئی تواس پر غور کروں گا۔ وہ اپنی سوانح ”پردہئ سیمیں سے“ میں اپنے رشتہ ازدواج کا ذکر کچھ یوں کرتے ہیں:
”ہوا یو ں کہ میرے ایم۔ اے کے دوران میرے ایک ماموں (حافظ محمد شفیع) جن کا ماں باپ کے حوالے سے میری والدہ سے کوئی حقیقی رشتہ نہیں تھا بلکہ نانا جان کے چار ازدواجی رشتوں کے باعث رشتہ قائم ہو گیا تھا،ہمارے ہاں آنے جانے لگے تھے وہ طبعاً بہت اچھے انسان تھے۔ اگرچہ دیو بند کے فاضل تھے لیکن بڑے آزاد منش اور آزاد مشرب تھے غالباً وہ مجھ سے متاثر ہوئے اور جونہی میں نے ایم۔ اے کا امتحان پاس کیا انہوں نے ہمیں ملتان آنے کی دعوت دی جہاں ان کی فیملی رہتی تھی اور جسے ہم پہلی بار ملنے جار ہے تھے ہمارا وہاں پہنچنا تھا کہ پرتپاک استقبال ہوا وہ لوگ تنگ نظر اور روایت پسند کم از کم میل جول کے معاملے میں نہیں تھے، وہاں میری ملاقات ان کی بیٹی رفعت حمید سے ہوئی جو ایف۔ اے میں پڑھتی تھی وہ مجھ سے اور میں اس سے بہت متاثر ہوا اور جب ایف۔ اے کا نتیجہ نکلا تو وہ انگلش کا مضمون Clearنہ کر سکی اور اس سلسلے میں ایک ماہ کے لئے ہمارے ہاں سرگودہا آگئی اور میں نے کوچنگ کی اسی دوران ہمیں ایک دوسرے کو سمجھنے کا یقینا بہت موقع مل گیا تھا۔ میں نے تو کسی صنفِ مخالف کو پہلی بار اس انداز سے محسوس کیا تھا وہ مجھ سے بہت زیادہ متاثر ہوئی اور پھر ہماری خط و کتابت شروع ہو گئی جس پر دونوں خاندانوں نے کبھی اعتراض نہیں کیا تھا، ہفتے میں کوئی تین ایک خط مجھے موصول ہوتے تھے جو میں اپنے شاگردوں سے پڑھوایا کرتا تھا اور اسی طرح میں بھی کوئی اتنے ہی خط ٹائپ کر کے ملتان کے پتا پر پوسٹ کر دیا کرتا تھا یہ سلسلہ بڑی شدو مد سے جاری رہا، شادی کے ایک دو مہینے پہلے تک میں اسے خط لکھتا رہا جو خط میں نے اسے لکھے تھے وہ تو اس نے ضائع کر دیئے تھے لیکن میرے نام سارے خطوط کوئی دس پندرہ سال پہلے تک محفوظ تھے لیکن پھر اس نے انہیں ضائع کر دیا۔ یہ تفصیل اس لئے درج کر رہا ہوں کہ یہ شادی کسی طرح سے ناپسندیدگی کی شادی نہ تھی۔رفعت اپنی عقل اور اپنے شعور کے مطابق مجھے سمجھ چکی تھی لیکن اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ شادی دو اشخاص کے جسموں کاملاپ ہی نہیں ہوتا بلکہ روحانی تعلق ہوتا ہے اور یہ تعلق گوں ناگوں وسعتیں اختیار کر لیتا ہے وقت کے ساتھ ساتھ یہ روحانی تعلق اور بھی گہرا ہو جاتا ہے۔
26دسمبر 1968ء کو ہماری شادی ہو گئی اور ہم نے نئی زندگی کا آغاز کیا لیکن میرے روزو شب بڑے انقلاب آفرین ہوتے چلے گئے۔ میرے مقاصد سماجی اور ادبی تھے اور میری رفیقہئ حیات محض ایک گھریلو روز مرہ زندگی کی قائل تھی اسے نہ تو میرے خوابوں سے کوئی دلچسپی تھی اور نہ ٹوٹ کر چاہنے والی محبت سے، وہ تو عامیانہ اور روزمرہ زندگی گزارنے کی قائل تھی۔ یوں گو گھریلو زندگی کے عام معمولات تو بصد حسن و خوبی چلے لیکن ہم میں فکری اور نظری ہم آہنگی کبھی نہ پیدا ہو سکی اور اس صورت حال نے جانے کتنی بار زندگی کو موت میں تبدیل کر دیا۔ میرے پاس ایک ہی آپشن تھا کہ یا میں سمجھوتہ کر لوں یا اس کے ساتھ ساتھ ایک ایسی شریکِ حیات اور منتخب کر لوں جو میرے خوابوں، خیالوں اور تمناؤں کی تکمیل میں بھی میر ی ہم سفر ہو۔ لیکن ایسا نہیں ہو سکا میں نے کچھ ادھوری کاوشیں بھی کیں لیکن انسانی رشتوں کے حوالے سے فیصلے کرنا میرے لئے ہمیشہ دشوار رہا ہے اس لئے یوں لگا

پاکستانی ادب کے معمار: ڈاکٹر شیخ محمد اقبال شخصیت اور فن

کرغز صدر کا دورہ پاکستان

پاکستانی ادب کے معمار: ڈاکٹر شیخ محمد اقبال شخصیت اور فن

خونی کھیل-موت کی واپسی

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے