پختونخواہ میں گورنرراج کی تیاریاں
أج کا اداریہ
وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے نجی ٹی وی سے انٹرویو میں کہا ہے کہ خیبر پی کے میں گورنر راج لگانے کیلئے سنجیدہ غور کیا جا رہا ہے۔ گورنر راج شدید ضرورت کی صورت میں لگایا جاتا ہے۔ صوبے کے حالات اس کا تقاضا کر رہے ہیں۔ ہم کب تک خیبر پی کے کے شہریوں کو بے یارومددگار چھوڑیں گے۔ گورنر راج دو ماہ کیلئے لگایا جا سکتا ہے‘ حالات کے مطابق توسیع بھی ہو سکتی ہے۔ خیبر پی کے میں ایسا انتظامی ڈھانچہ ہو جو کچھ فائدہ تو دے۔ ماضی میں پنجاب میں بھی گورنر راج لگانے کا تجربہ کیا جا چکا ہے۔ ۔ دریں اثناء گورنر راج لگانے اور عہدے سے ہٹانے کی خبروں پر گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کا ردعمل سامنے آگیا۔ فیصل کریم کنڈی نے پشاور میں صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ گورنر کی تبدیلی کے حوالے سے مجھے کچھ علم نہیں، اگر میڈیا ہی گورنر لگائے گا تو پھر اللہ حافظ ہے۔ فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ ان کی تبدیلی کے حوالے سے پارٹی کا جو فیصلہ ہوگا وہ قبول کریں گے۔ ۔ علاوہ ازیں مشیر اطلاعات خیبر پی کے شفیع جان نے کہا ہے کہ گورنر راج لگانا ہے تو آج ہی لگا دیں۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے انہوں نے کہا کہ گورنر راج جیسے ایڈونچر کی کوشش پر ردعمل انہیں پتا چل جائے گا۔ عطا تارڑ نے بے بنیاد الزامات لگائے ہیں۔ وہ ثابت کریں کہ ہمارے رہنماؤں کا دہشت گردوں سے کوئی گٹھ جوڑ ہے۔ گورنر بدلنا ان کا صوابدیدی اختیار ہے۔ علاوہ ازیں عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ گورنر راج کے معاملے سے عوامی نیشنل پارٹی کو باہر رکھا جائے۔ اے این پی کی بنیاد خدائی خدمتگار تحریک کے عدم تشدد اور انسانی وقار کے اصول پر قائم ہے۔ ہمارا نظریہ امن‘ برداشت اور بین المذاہب ہم آہنگی کا علمبردار ہے۔ پشتون قوم نے ہمیشہ نو آبادیاتی ظلم کے مقابل باوقار اور اصولی موقف اپنایا۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کا ملک دشمن عناصر سے گٹھ جوڑ بے نقاب ہو چکا ہے۔ خیبر پختونخوا حکومت کی کمزوریاں اور کوتاہیاں دراندازی کے واقعات بڑھنے کی بڑی وجہ ہیں۔ گزشتہ 12 برسوں میں خیبر پختونخوا میں موثر پراسیکیوشن کا نظام قائم نہیں کیا جا سکا۔ صوبے میں پچھلے تین سالوں کے دوران ہزاروں مقدمات زیر التواء ہیں جبکہ چار ہزار کے قریب مقدمات میں تاحال فرد جرم عائد نہیں کی جا سکی۔ وزیراعلیٰ خیبر پی کے کو اڈیالہ جیل کے باہر نعرے لگانے تو آتے ہیں لیکن انہیں ’’پراسیکیوشن‘‘ کے سپیلنگ نہیں معلوم۔ ساڑھے بارہ سالوں میں پی ٹی آئی کی حکومت نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کا سدباب نہیں کر سکی۔ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے باعث قومی خزانے کو اربوں کا نقصان ہو رہا ہے۔ خیبر پختونخوا میں منشیات کی سمگلنگ کو پروموٹ کیا جاتا ہے۔ جنوری 2025ء سے اگست 2025ء تک صوبے میں دس ہزار سے زائد ڈرگ ٹریفکنگ کے مقدمات رجسٹرڈ ہیں۔ کے پی حکومت کی کارکردگی صفر ہے۔ گزشتہ چند روز سے ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے اور افواہوں کو ہوا دینے کی منظم کوشش کی جا رہی ہے جن کے پیچھے پی ٹی آئی کا ملک مخالف رویہ اور اس کی مبینہ سازشیں کار فرما ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ روز ڈی جی آئی ایس پی آر نے سینئر میڈیا نمائندگان سے ملاقات میں دہشت گردی کے خلاف جاری اقدامات پر تفصیلی روشنی ڈالی اور بتایا کہ دہشت گردوں کا کس طرح مقابلہ کیا جا رہا ہے۔ ہمارے جوان اور افسران اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں اور افغانستان کی جانب سے ہونے والی در اندازی کو روکنے کے لئے مسلسل کارروائیاں جاری ہیں۔ اور یہ بھی بتایا کہ کس طریقے سے بارڈر کو محفوظ کیا جا رہا ہے ۔ اسلام آباد دھماکے کے فوری بعد محمود خان اچکزئی نے اسمبلی میں کھڑے ہو کر بات کی جو صرف کابل، کابل اور کابل پر تھی۔ اس محبت کی سمجھ نہیں آتی کہ ایک ملک کی سرزمین آپ کے خلاف استعمال ہو رہی ہے، دہشت گرد وہاں سے پاکستان آ کر کارروائی کرتے ہیں اور یہ ان کے حق میں بات کرتے ہیں۔ صوبائی حکومت کی کمزوریوں کی وجہ سے معاملات خراب ہوتے ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ گزشتہ چند روز سے ایک ڈرامہ رچایا جا رہا ہے۔ بانی پی ٹی آئی کی تینوں بہنیں نو مئی کو کور کمانڈر ہائوس میں موجود تھیں مگر ابھی تک ان کو کیفر کردار تک اس لئے نہیں پہنچایا گیا کہ یہ انتقامی کارروائی کا رونا نہ روئیں۔ یہ نو مئی کو وہاں موجود تھیں جو جتھوں کو لے کر وہاں گئیں اور کیمروں میں نظر آ رہی ہیں۔ پی ٹی آئی کو معرکہ حق کے بعد خارجہ پالیسی کی کامیابی ہضم نہیں ہو رہی۔ ان کے دور میں معیشت ڈوب چکی تھی، اب معیشت استحکام کی طرف جا رہی ہے جو انہیں قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی بہنیں اب انڈین اور افغان چینلز پر جا کر اپنے بھائی کا رونا رو رہی ہیں۔ کیا نورین خان نیازی نے انڈین چینل کو انٹرویو میں کہا کہ میں مودی کی مذمت کرتی ہوں؟۔ پاکستان میں معصوم بچوں کی شہادت اور ارتضیٰ عباس کی بات کی؟۔ مریدکے، بہاولپور میں شہید ہونے والے شہریوں، فوجیوں، جوانوں اور افسروں کی بات کی جو شہید ہوئے، یا ان کو خراج تحسین پیش کیا؟۔ یہ شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے جو انڈین چینلز پر جا کر پاکستان کو بدنام کر رہے ہیں۔ انڈین چینل ان کو اپنا پلیٹ فارم اس لئے مہیا کر رہے ہیں کیونکہ ان کو پتہ ہے کہ اس فیملی اور پارٹی کی ذہنیت پاکستان کے خلاف ہے۔ ۔ پاکستان، پاکستان کی سکیورٹی یا مفاد ان کے لئے کوئی معنی نہیں رکھتا۔ انہوں نے 9 مئی کو فزیکلی حملہ کیا۔ نو مئی سازش کے تانے بانے مل گئے ہیں۔ یہ فوج کو کمزور کرنا چاہتے تھے لیکن ان کے






