#کالم

ٹریفک پولیس کی ناکام حکمتِ عملی سے لاھور اذیت میں

WhatsApp Image 2025 10 21 at 23.56.49 1

تحریر: محمد ندیم بھٹی

لاہور کی سڑکوں پر پھیلی ہوئی بدنظمی، ٹریفک کے نام پر عوام پر بڑھتا ہوا مالی بوجھ، اور نوجوانوں کی زندگیوں کے ساتھ ہوتا ھوا کھیل اس حد تک سنگین صورتحال اختیار کر چکا ھے کہ اب اس پر فوری حکومتی مداخلت ناگزیر ہو چکی ھے۔ یہ کالم براہِ راست وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس ڈاکٹر عثمان انور کی توجہ اس جانب مبذول کرانے کے لیے لکھا جا رہا ھے کہ لاھور کا موجودہ ٹریفک سسٹم عوام کے لیے آسانی نہیں بلکہ اذیت کا باعث بن چکا ھے۔
سی ٹی او لاھور اور ڈی آئی جی ٹریفک وقاص نذیر کی اصلاحات کے دعوے حقیقت سے کوسوں دور نظر آتے ہیں۔ ان اصلاحات کا اہم مقصد عوام کو سہولت دینا نہیں بلکہ جرمانوں میں اضافے کے ذریعے عوام کی جیب خالی کرنا بن چکا ھے۔ ٹریفک پولیس کا بنیادی کام ٹریفک کی روانی، سہولت اور نظم پیدا کرنا ہوتا ھے، مگر لاھور میں صورتحال اس کے بالکل برعکس ھے۔ ٹریفک کی بدنظمی بڑھ رہی ھے، اور چالان بُک کا استعمال تیز ہو رہا ھے۔
مہنگائی نے عوام کی کمر تو پہلے ہی توڑ دی ھے۔ آٹا، چینی، سبزی، پیٹرول، بجلی ہر چیز عوام کے ہاتھ سے دور ہوتی جا رہی ھے۔ ایسے میں ٹریفک پولیس کے مسلسل اور غیر منصفانہ جرمانوں نے لوگوں کی مشکلات کو کئی گنا بڑھا دیا ھے۔ افراطِ زر اپنی بلندیوں پر کھڑا ھے مگر ٹریفک پولیس اس حقیقت سے بے خبر ھو کر عوام کو لاکھوں روپے کے چالان بھیج رہی ھے۔ عام شہری کے لیے یہ جرمانے سراسر ظلم ہیں۔
سب سے زیادہ تکلیف دہ امر نوجوانوں کی گرفتاریوں کا بڑھتا ھوا سلسلہ ھے۔ معمولی خلاف ورزی، ہیلمنٹ نہ پہننے یا بروقت کاغذات نہ ہونے پر نوجوان لڑکوں کو حوالات میں بند کرنا کسی بھی طور قابلِ قبول نہیں۔ نوجوان نسل ایک قوم کا سرمایہ ہوتی ھے، مگر لاھور کی ٹریفک پالیسیوں نے اس سرمائے کو خوف، بے یقینی اور نفسیاتی دباؤ میں مبتلا کر دیا ھے۔ ایک نوجوان کو چند گھنٹے حوالات میں رکھنے سے اس کی زندگی پر ایسا دھبہ لگ جاتا ھے جو وہ ساری زندگی اپنے ساتھ اٹھاتا ھے۔ جس کا اندازہ کوئی پولیس افسر نہیں کر سکتا۔
کیا یہ تبدیلی ھے؟ کیا یہ اصلاحات ہیں؟ ہرگز نہیں۔
لاھور کے ہر بڑے چوک پر بدنظمی کا مشاہدہ کیا جا سکتا ھے جہاں وارڈن کہیں نظر نہیں آتے، اور اگر موجود ھوں تو ٹریفک کو بحال رکھنے کے بجائے کریم بلاک کے اشارے پر موجود ڈرائ کلین کے دوکان میں ریسٹ کرتے نظر آتے ھیں، صرف چالان بُک پر توجہ دیتے ہیں۔ سڑکوں پر انجینئرنگ کی شدید خامیاں موجود ہیں۔ کہیں یوٹرن غلط جگہ، کہیں سگنل ٹائمنگ غیر مناسب، اور کہیں ٹریفک حجم کے مقابلے میں سڑکیں تنگ۔ یہ ساری ذمہ داریاں ٹریفک قیادت کے زمرے میں آتی ہیں مگر ان پر کوئی ٹھوس پیش رفت نظر نہیں آتی اور نا ھی انہوں نے باھر نکل کر
کبھی مشاہدہ کرنے کی کوشش کی ھے۔
ای چالان سسٹم کے مسائل بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ غلط زاویوں سے لی گئی تصاویر، غیر واضح نمبر پلیٹس، اور شہریوں کو ملنے والے غیر منصفانہ جرمانے روز کا معمول بن چکا ھے۔ اپیل کا نظام پیچیدہ، سست اور عوام دشمن
ھے۔ شہریوں کے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ بڑھتے جاتے ہیں۔ کیا یہ سسٹم عوام کو سہولت دے رہا ھے یا مشکلات میں اضافہ کر رہا ھے؟
ڈی آئی جی وقاص نذیر کے تمام دعوے اس وقت بے معنی ہو جاتے ہیں جب شہری گھنٹوں ٹریفک جام میں پھنستے ہیں اور وارڈنز غائب ہوتے ہیں۔ ٹریفک پولیس کا ڈیپارٹمنٹ اپنی بنیادی ذمہ داریوں میں مکمل ناکام نظر آتا ھے۔ اصلاحات کا مقصد عوام پر دباؤ ڈالنا نہیں بلکہ ان کو سہولت فراہم کرنا ہوتا ھے۔ مگر افسوس کہ یہاں صورتحال الٹ ہی چالان بڑھ رھے ہیں، عوام غریب ہو رہی ھے، اور ٹریفک پہلے سے زیادہ بے ہنگم دکھائی دیتا ھے۔
یہ حقیقت ھے کہ اگر نوجوانوں کو جیل بھیجنے کا سلسلہ نہ روکا گیا تو لاھور کا سماجی ڈھانچہ شدید متاثر ھوگا۔ نوجوان اگر اپنے مستقبل سے مایوس ھو جائیں تو یہ معاشرے کے لیے ایک بہت بڑا سانحہ ھوگا۔ حکومت کو فوراً مداخلت کرنی ھوگی۔ ایسے اقدامات سے نہ صرف نوجوان نسل کا اعتماد ٹوٹ رہا ھے بلکہ عوام میں پولیس کے خلاف نفرت بھی بڑھ رہی
ھے۔ اصلاحات عوام دوست ہوتی ہیں، عوام دشمن نہیں۔
وزیر اعلیٰ مریم نواز اور آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کو چاہیے کہ وہ اس پورے نظام کا ازسرِ نو جائزہ لیں۔ ٹریفک پولیس کی موجودہ قیادت کی کارکردگی اور پالیسیاں عوام کی بہتری اور سڑکوں کے نظم و ضبط سے کہیں زیادہ عوامی مسائل میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔ اصل اصلاحات وہ ہوتی ہیں جن سے عوام کو آسانی ملے، جرمانوں میں کمی ھو، ٹریفک وارڈنز کو مناسب تربیت ملے، سڑکوں کی انجینئرنگ بہتر ھو اور عوام کا اعتماد بحال ھو۔
اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو لاھور کی سڑکیں مزید بدنظمی کا شکار ھوں گی، شہریوں کی پریشانیوں میں اضافہ ھوگا اور نوجوان نسل ذہنی دباؤ کا شکار رھے گی۔ حکومت کو چاہیے کہ ٹریفک پولیس کے پورے نظام کو عوام دوست انداز میں تبدیل کرے، تاکہ لاھور ایک منظم، محفوظ اور سہل شہر بن سکے۔

ٹریفک پولیس کی ناکام حکمتِ عملی سے لاھور اذیت میں

نیا زمانہ نئی روایات  

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے