#اداریہ

سرزمین فورم میں چینی قونصل جنرل ژاؤ شیرین کی شرکت

Fahad 01

أج کا اداریہ

سرزمین فورم کے زیر اہتمام ایک سیمنار کی صورت میں صوبائی دارلحکومت لاہور میں شاھینوں کی سوسائیٹی کے خوبصورت ہال فالکن کلب میں شعبہ صحافت ‘ درس و تدریس ‘ تجارت سے منسلک شہر کی معروف شخصیات’ سیاسی و عسکری ماہرین نے شرکت کی۔ چینی قونصل جنرل ژاؤ شیرین کی بطور مہمان خاص شرکت نے تقریب کو چار چاند لگا دیے انہوں نے پاک چین دوستی ‘ باہمی تعلقات اور دونوں ممالک کے مشترکہ پروجیکٹس پر سیر حاصل گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ

قومی مفاد میں کئے گئے ہر فیصلے کی چین حمایت کرتا ہے۔ ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ چین پاکستان دوستی پر کوئی آنچ نہ آئے۔ چین اور پاکستان کی اعلی سیاسی قیادت کے درمیان ایک اعتماد اور اعتبار موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو دہشت گردی، عسکریت پسندی اور انتہا پسندی سے بہت نقصان ہوا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ پاکستان یہ جنگ جیتے گا ہم پاکستان کے ساتھ ہیں چاہے اس کی کچھ بھی قیمت ادا کرنی پڑے۔ اس کے لئے آئیں مل کر کام کریں ۔ چینی قونصل جنرل ژائو شیرین نے کہا تاریخ میں ہمیشہ امریکہ نے دہشت گردی کی بات کی جبکہ چین نے ہمیشہ پاکستان کی معیشت کی بات کی۔چینی قونصل جنرل نے انکشاف کیا کہ ایم ایل ون منصوبہ پاکستان ریلوے اور چین مل کر ایشین انفراسٹرکچر بنک اور ایشین ڈویلپمنٹ بنک کی مدد سے شروع کرہے ہیں ۔ ژائو شیرین نے کہا کہ ایم ایل ون منصوبہ پاکستان ریلوے کی ماڈرنائزیشن اور ریجنل کنکٹویٹی کے لئے ایک اہم ترین پراجیکٹ ہے ،اس پر ابتدائی کام ہوچکا ہے اور آئندہ سال ایم ایل ون منصوبے کا کراچی سے روہڑی سیکشن کا افتتاح ہو جائیگا۔ ژائو شیرین نے کہا کہ جب سے سی پیک شروع ہوا ، سوشل میڈیا پر ایک نام نہاد ’’ڈیٹ ٹریپ ‘‘ (Debt Trap) کا بیانیہ شروع ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ چین پاکستان کو قرض دے رہا ہے لیکن یہ قرض پاکستان پر بوجھ نہیں ھے۔کہا کہ انہیں "منفرد اور ھر آزمائش پر پورا اترنے والی” چین پاکستان دوستی پر فخر ہے۔ انہوں نے اس رشتے کو مشترکہ قدیم تہذیبوں میں جڑے ہوئے اور 74 سال سے زیادہ کے سفارتی تعلقات کو مضبوط قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سال دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی روابط میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس میں وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ چین اور ایک ایکشن پلان پر دستخط شامل ہیں جس میں اب سے لے کر 2029 تک تعاون کے 63 شعبوں کا خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ CPEC کی ایک دہائی کی پیشرفت پر روشنی ڈالتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ اس منصوبے نے 25.93 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے، 261,000 ملازمتیں پیدا کی ہیں، 510 کلومیٹر ایکسپریس وے بنائے ہیں، 8,000 میگاواٹ سے زیادہ بجلی کا اضافہ کیا ہے، اور بجلی کی ترسیل کے نیٹ ورک کو 886 کلومیٹر تک بڑھایا ہے۔ اورنج لائن میٹرو، ہائیر-روبا اکنامک زون، قائداعظم سولر پارک اور چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ جیسے منصوبوں نے لاکھوں لوگوں کو براہ راست فائدہ پہنچایا ہے
،امریکہ سے پاکستانی تعلقات پاک چین تعلقات کی راہ میں کسی رکاوٹ کا باعث نہ بنے ہیں نا بن سکتے ہیں،چینی سفارت کار نے چینی و انگریزی زبان میں اپنا مافی الضمیر بیان کرتے اور اٹھائے گئے چند نکات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے ہی میں نہیں بلکہ دنیا کے نقشے پر ایک نئی طاقتور حیثیت میں ابھرا ہے،پاکستان اور چائنا کی ایک دوسرے کی جانب رغبت کی اس سے زیادہ روشن اور کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ چند ماہ میں وزیر اعظم شہباز شریف نے دو مرتبہ چین کا دورہ کیا اور اسی طرح چینی اہم قیادت نے پاکستان کے تواتر سے وزٹ کیے ہیں،سی پیک منصوبے کے حوالے سے انہوں نے سرزمین فورم کے شرکاء کو نوید سناتے ہوئے کہا کہ انشاءاللہ جلد اس پر پاکستانی عوام کو خوشخبری ملے گی،جنرل ناصر جنجوعہ نے سیمینار سے خطاب میں تاریخی حوالوں سے سوچ کی نئی راہیں کھولتے ہوئے کہا کہ آج چائنا دنیا کی سپر پاور ہے اور اس میں پاکستان کی کوششیں بھی شامل ہیں۔
صدر تقریب صفدر علی خاں نے کہا کہ ہم وہ خوش قسمت لوگ ہیں جہنوں نے اپنی آنکھوں سے ہر لمحہ دنیا کو جدیدیت کی منازل طے کرتے دیکھا ہے، اس وقت بھی دینا جیو پولیٹیکل ری الائنمنٹ کے دور سے گزر رہی ہے۔ طاقت کے مراکز بدل رہے ہیں، نئے اتحاد بن رہے ہیں اور عالمی معیشت نئے رجحانات کی طرف بڑھ رہی ہے۔
ایسے ماحول میں پاکستان جیسے ملک کے لیے خارجہ پالیسی نہایت احتیاط، بصیرت اور اسٹریٹجک سوچ کا تقاضا کرتی ہے کیونکہ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت ہمیں نہ صرف خطے کا ایک محور بناتی ہے بلکہ پاکستان کو عالمی طاقتوں کے درمیان ایک زمینی پل (Geo-Strategic Bridge) کا کردار بھی عطا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان الحمداللہ ہمیشہ اہمیت کا حامل ملک رہتا ہے لہذا اسی تناظر کے ساتھ چین اور امریکہ دونوں کے ساتھ ہمارے تعلقات پوری دنیا کی نظروں میں رہتے ہیں۔
یہ تعلقات صرف ریاستی نہیں بلکہ عوامی، ثقافتی، اقتصادی اور دفاعی سطحوں پر انتہائی مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں کیونکہ دنیا نے دیکھا ہے کہ چین اور پاکستان نے ہر مشکل گھڑی میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے۔اور محترم کونسل جنرل صاحب یہ دونوں ملکوں کے عوام کی دوستی جذبات کی بھی ہے لہذا یہ خوبصورت تعلق وقت کے ساتھ کمزور نہیں ہوا—بلکہ مزید مضبوط ہوا ہے۔
پاک چین تعلقات جذباتی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے مفادات کا بھی خیال رکھتے ہیں اور اس کے لئے دونوں ملکوں کی حکومتیں ہمیشہ اہم کردار ادا کرتی ہیں۔وہ چاہے اقصادی تعاون ہو یا جنگی۔۔۔سفارتی سطح پر بھی ہم نے دیکھا ہے کہ پاکستان اور چین نے کبھی بھی دوہرا یا مختلف موقف اختیار نہیں کیا۔یہاں حالیہ پاک بھارت جنگ کا ذکر بھی ضرور کرونگا جس میں پاکستان کی بہادر افواج نے اپنی عوام کی سپورٹ کے ساتھ بھارت کو شکشت فاش دیتے ہوے اسے دنیا کے سامنے ذلیل و خوار کر کے نگا کھڑا کر دیا اور دنیا کو بتا

سرزمین فورم میں چینی قونصل جنرل ژاؤ شیرین کی شرکت

میاں جی اور موبائل فون

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے