وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ٹریفک قوانین
ملک سلمان. maliksalman2008@gmail.com
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانوں میں اضافہ کرکے اچھا فیصلہ کیا ہے تاکہ شہریوں میں قانون کا ڈر اور ٹریفک قوانین کی پاسداری ممکن ہو۔
لیکن گزارش ہے کہ قانون کا اطلاق صرف معزز شہریوں پر ہی کیوں؟
اگر کسی کے خلاف مقدمہ درج ہونا چاہئے تو ان ٹریفک پولیس والوں کے خلاف ہونا چاہئے جو اس سرکاری وردی کو داغدار کرکے ناجائز پارکنگ مافیا اور بلانمبر پلیٹ ٹرانسپورٹرز کی سرپرستی کرتے ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے60 سال پرانے ٹریفک ایکٹ میں 20 اہم ترامیم کرتے ہوئے ٹریفک مسائل کے خاتمے کا پختہ عزم کرتے ہوئے ناصرف جرمانوں میں بھاری اضافہ کیا بلکہ سنگین خلاف ورزی پر مقدمات کے اندراج اور سخت سزاؤں کا تعین کیا گیا ہے۔
میڈم وزیراعلیٰ ٹریفک مسائل کے خاتمے کیلئے ہیوی جرمانے رکھنے کے باوجود مسائل کا خاتمہ ممکن نہیں ہوگا جب تک سزا کا اطلاق سب کیلئے اور بلا امتیاز نہ ہو۔
ٹریفک پولیس کی اپنی موٹربائیک سمیت دیگرسرکاری گاڑیاں بنا نمبر پلیٹ ہیں یا نمبر پلیٹ کے آگے اضافی راڈ لگا کر نمبر پلیٹ کو چھپایا ہوتا ہے۔ جب قانون کے رکھوالے ہی قانون توڑیں گے تو پھر عام شہریوں سے کیونکر قانون کی پاسداری کی امید رکھنا۔
میڈم وزیراعلیٰ اصل پرابلم یہ ہے کہ جب قانون کے ساتھ کھلواڑ کر کے پنجاب ٹریفک پولیس100 ارب ماہانہ کے قریب کمائی کر رہی ہے تو قانون کی پاسداری کرکے وہ اپنی ”ایزی منی” اور ”پکی روزی” پر لات کیوں ماریں گے۔ چھوٹے سے چھوٹے ضلع کی ٹریفک پولیس بھی کروڑوں روپے ماہانہ ہاتھ مارتی ہے جبکہ بڑے اضلاع میں یہ رقم ماہانہ اربوں روپے میں ہوتی ہے۔
ٹریفک پولیس کے اس اندھے پن کا علاج میری سمجھ سے باہر ہے جنہیں بغیر ہیلمٹ اور بنا بیلٹ والے عام شہری تو نظر آ جاتے ہیں لیکن بنا نمبر پلیٹ والے پبلک ٹرانسپورٹر اور سرکاری گاڑیاں نہیں۔ سرکاری اور پرائیویٹ بااثر کن ٹٹوں نے گاڑیوں کے شیشے کالے کیے ہوتے ہیں۔
نئی نویلی EPA, PERA اسسٹنٹ کمشنر، اے ڈی سی آر, پولیس افسران اور ٹریفک پولیس کی اپنی گاڑیاں بغیر نمبر پلیٹ ہیں جن کی نمبر پلیٹ ہیں انہوں نے بھی نمبر کے آگے راڈ لگا کر نمبر کو چھپایا ہوتا ہے۔ کیا یہ سول ملازمین کوئی خفیہ ایجنسی ہیں جو نمبر پلیٹ نہیں لگا رہے؟ بغیرنمبر پلیٹ گاڑی چاہے سرکاری ہو یا غیر سرکاری رکشہ ہو یا موٹر سائیکل سب کے خلاف ایف آئی آر دے کر پابند سلاسل کیا جائے۔ہر طرح کی مبہم و بنا نمبر پلیٹ گاڑیوں کے خلاف دہشت گردی کا پرچہ دیا جائے کیونکہ بغیر شناخت سڑک پر آنا بھی سنگین جرم اور دہشت گردی کے مترادف ہے۔
جس چوک میں کھڑے ہو کر معمولی سی غلطی پر معزز شہریوں کے چالان اور ایف آئی آر دی جارہی ہوتی ہیں اسی جگہ رکشہ سمیت پبلک ٹرانسپورٹ رانگ وے کی خلاف ورزی اور بیچ سڑک پارکنگ کر رہے ہوتے ہیں۔ بیچ سڑک ریسٹورنٹس چل رہے ہیں۔
ناجائز پارکنگ، رکشوں اور لوڈر گاڑیوں کا رانگ وے استعمال کی وجہ سے ٹریفک جام رہنا معمول ہے لیکن انکے خلاف کوئی کاروائی نہیں، ٹریفک پولیس تیز فلیش لائٹ والوں کے خلاف کاروائی کیوں نہیں کررہی؟
ایک طرف ٹریفک پولیس عام شہریوں کے خلاف ظالمانہ کارویوں میں پیش پیش ہے تو دوسری طرف لاہور سمیت پنجاب میں پبلک ٹرانسپورٹرز کی اکثریت نشئیوں اور کمرعمر ڈرائیور کی ہے لیکن کوئی کاروائی نہیں کیونکہ وہ”ریگولر فیس“ دیتے ہیں اس لیے پبلک ٹرانسپورٹرز کو ڈرائیونگ لائسنس، فٹنس سرٹیفیکیٹ اور نمبر پلیٹ کی بھی کھلی چھٹی دے رکھی ہوتی ہے۔ رکشوں سے ہزار روپے اور ٹویٹا ہائی ایس، ٹرک وغیرہ سے دو ہزار روزانہ، اسی طرح کارگو اڈوں، مارکیٹس، شوروزمز کی روڈ پارکنگ اور پرائیویٹ دفاتر کی روڈ پارکنگ سے روزانہ اچھی خاصی وصولی کی جاتی ہے۔
منتھلی کے بدلے کار شورومز اور پرائیویٹ دفاتر کو سرکاری سڑک پر گاڑیاں پارک کرنے کی کھلی چھوٹ ہے چاہے عوام راستوں کے بندش سے خوار ہوجائے ٹریفک پولیس کو اپنی ریگولرکمائی کے سوا کسی سے کوئی غرض نہیں۔
پنجاب میں پارکنگ فیس کی مد میں کم از کم سات ہزار ارب سالانہ اکٹھے کیے جاسکتے ہیں۔ابھی بھی اکٹھے کیے جارہے ہیں لیکن سرکار کیلئے نہیں ذاتی جیب بھرنے کیلئے، ٹریفک پولیس کی سرپرستی اور حصہ داری سے پرائیویٹ پارکنگ مافیا پنجاب کے پانچ ہزارارب کے سالانہ بجٹ سے زائد رقم اکٹھی کر رہا ہے۔
مریم نواز حکومت کو چاہئے کہ سختی اور آہنی ہاتھوں سے ہر طرح کی غیرقانونی پارکنگ اور تجاوزات کا خاتمہ کروائیں۔
تمام دکانوں اور پلازوں کے باہر پارکنگ کے بورڈ سرکاری قبضے میں لیے جائیں، کسی بھی شاہراہ پر دکاندار کی بدمعاشی نہیں ہونی چاہئے۔ پارکنگ کمپنی سرکاری فیس وصول کرے۔ اس سے نہ صرف ٹریفک کے مسائل حل ہونگے بلکہ بہت سارے افراد کو روزگار بھی ملے گا اور سرکاری خزانے میں پیسہ بھی آئے گا۔ جبکہ پارکنگ فیس ہونے کی وجہ سے بلاوجہ گاڑیوں کا رش بھی کم ہوگا۔ حکومت کو اپنی رٹ بحال کرنا ہوگی۔ دکانداروں کو بتانا ہوگا کہ صرف دکان تمہاری ہے نہ کہ سامنے والا فٹ پاتھ اور سڑک۔






