پاکستان تحریک انصاف کا احتجاج اور دھرنا
أج کا اداریہ
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیرِ اعظم عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر محمود خان اچکزئی کے مشورے سے جو دھرنا دیا تھا ، دس گھنٹے بعد راجہ ناصرعباس سے مشاورت کے بعد ختم کردیا ھے۔جس کے بعد وہ کارکنان کے ہمراہ جیل کے باہر سے واپس چلے گئے ھیں۔
خیال رہے وزیرِ اعلیٰ بننے کے بعد اب تک سہیل آفریدی پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان سے ملاقات نہیں کر سکے ہیں۔ پی ٹی آئی کے ترجمان کے مطابق وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا اب تک آٹھ مرتبہ عمران خان سے ملنے کے لیے اڈیالہ جیل آ چکے ہیں۔
جمعرات کی دوپہر اڈیالہ جیل کے باہر آمد کے موقع پر سہیل آفریدی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ’ہم چاہتے ہیں کہ آج ہماری ان سے ملاقات ہو جائے، کیونکہ غیر یقینی کی صورتحال میں اضطراب، تشویش بڑھ رہی ہے اور عوام میں بھی بے چینی کا باعث بن رہی ہے۔ ایسی کیفیت طویل ہوئی تو قوم سڑکوں پر آنے پر مجبور ہو سکتی ہے۔
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی بھی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج میں شریک ہیں۔ انھوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ احتجاج کا آغاز ہے، یہاں ایک پورا صوبہ احتجاج پر بیٹھا ہے۔ ان کے مطابق ‘اب یہ دھرنے پورے ملک تک پھیلیں گے اور نہ کوئی وزیر اعلیٰ رہے گا اور نہ کوئی وزیر اعظم ہوں گا اور راج کرے گی خلق خدا۔’
محمود خان اچکزئی کے مطابق ہم سب کو آئین نے اکھٹا رکھا ہوا ہے، جسے ہم نے درخور اعتنا سمجھا ہوا۔ انھوں نے کہا کہ ’اب بلوچستان اور دیگر صوبوں میں لوگ یہ باتیں کرتے ہیں کہ طاقتور لوگوں نے آئین توڑ دیا ہے اور اب نئے آئین کی ضرورت ہے۔‘ انھوں نے خبردار کیا ہے کہ ‘یہ ایک خطرناک کھیل بن جائے گا لہٰذا آئیں ہم سب آئین کے تابع ہو جائیں
عمران خان کی بہن علیمہ خان نے سوشل میڈیا ایپ ایکس پر لکھا کہ ‘عمران خان غیر قانونی قید تنہائی میں ہیں۔ لوگ ہم سے ان کی صحت اور حفاظت کے بارے میں پوچھتے رہتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارے پاس کسی ایسے شخص تک رسائی نہیں جو ہمیں تصدیق شدہ معلومات دے سکے
یاد رہے سوشل میڈیا پر عمران خان کے بارے جو افواہیں یا متضاد اطلاعات گردش کر رہی ہیں اُن میں زیادہ تر اکاؤنٹس ایسے ہیں جو بظاہر انڈیا یا افغانستان سے آپریٹ کر رہے ہیں۔ ان اکاؤنٹس پر عمران خان کی جیل میں موت کے بارے میں باتیں ہو رہی ہیں۔
جس کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عمران خان کی صحت کے بارے میں وضاحت دیں اور ان افواہوں کی واضح الفاظ میں تردید کریں
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’چیئرمین عمران خان کی صحت، سلامتی اور موجودہ حیثیت کے بارے میں سرکاری سطح پر شفاف اور باضابطہ بیان جاری کیا جائے اور اس طرح کی خطرناک اور حساس نوعیت کی افواہوں کے پھیلانے والوں کے بارے میں تحقیقات کی جائیں۔‘
خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی بھی جمعرات کو عمران خان سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل پہنچے ہیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’ہمارے لیڈر اور قائد جناب عمران خان کی طبیعت ناساز ہے یا مختلف افواہیں پھیل رہی ہیں۔‘
سہیل آفریدکی وزیرِ اعلیٰ بننے کے بعد سے اب تک عمران خان سے ملاقات نہیں ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ آج ہماری ان سے ملاقات ہو جائے، کیونکہ غیر یقینی صورتحال میں اضطراب، تشویش بڑھ رہی ہے اور یہ عوام میں بے چینی کا باعث بن رہی ہے۔ ایسی کیفیت طویل ہوئی تو قوم سڑکوں پر آنے پر مجبور ہو سکتی ہے۔‘
’اگر ھمیں ملاقات کی اجازت نہ دی گئی تو ہم یہیں موجود ہیں اور اس کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل مشاورت سے طے کریں گے
پنجاب حکومت نے عمران خان کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے کہیں اور منتقل کرنے کی خبروں کی تردید کی ہے۔
پنجاب حکومت کی وزیر اطلاعات عظمی بخاری نے بتایا کہ عمران خان بالکل ٹھیک ہیں اور انھیں جیل سے کسی اور جگہ منتقل کرنے کی باتیں بالکل فضول ہیں۔
وزیر اطلاعات نے بتایا کہ جیل میں عمران خان کو تمام سہولیات مل رہی ہیں اور ڈاکٹرز اُن کا معمول کے مطابق طبی معائنہ کر رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ گزشتہ روز اڈیالہ کے سپرٹینڈنٹ کا بیان آیا تھا کہ بانی پی ٹی آئی جیل میں سیاسی ملاقاتیں کرتے ہیں جن میں وہ احتجاج اور ہنگاموں کی بھی ہدایات دیتے ہیں۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ عمران خان ایک قیدی ہیں اور اہلخانہ اور وکلا تک ان کو رسائی حاصل ہے۔
واضح رہے کہ رواں مہینے میں عمران خان کے اہلخانہ اور پارٹی قائدین کو ان سے ملنےکی اجازت نہیں دی گئی۔
سابق وزیر اعظم عمران خان سے پارٹی رہنماؤن ‘ وکلاء یا اھل خانہ سے ملاقات نہ ہونے کے باعث افواہوں کا بازار گرم ھے۔ جسکی حکام کی جانب سے وضاحت بھی أچکی ھے کہ انکی صحت کے حوالے سے اڑائی جانے والی خبریں محض افواھیں ھیں سابق وزیراعظم روبصحت ہیں اور انکی شحت و خوراک کا مکمل خیال رکھا جارھا ھے۔تاہم پاکستان تحریک انصاف کی قیادت اور عمران خان کے اہل خانہ ان یقین دھانیوں پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں ہیں ۔






