پاکستانی ادب کے معمار: ڈاکٹر شیخ محمد اقبال شخصیت اور فن
قسط :6
(شاہد بخاری)
خاندانی زندگی
ا س سے پہلے کہ ہم ان کے خاندان کے کسی فرد کا ذکر ایک بار پھر کریں،ایک شخصیت جس نے محمد اقبال کو پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال بنانے میں گراں قدر کردار ادا کیا وہ ہیں ان کے والدِ محترم شیخ اللہ دیا۔ ہم پہلے تحریرکر آئے ہیں کہ شیخ اللہ دیا کی اپنی تعلیم واجبی سی تھی جس کی وجہ سے ان کے بے پناہ اثرو رسوخ ہونے کے باوجود وہ کوئی اچھا مقام حاصل نہیں کر پا ئے تھے اور اس کا انہیں پوری طرح احساس تھا ان میں یہ جذبہ بیدار ہوا کہ جو کچھ وہ خود نہیں کر پائے وہ اپنی اولاد کے ذریعے کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ انہیں اتنی تعلیم دلوائیں گے کہ انہیں اپنی زندگی کی محرومیوں کی تلافی ہو جائے گی لیکن حالات کو کچھ اور منظور تھا۔ ان کے چار بچے نابینا ہوئے۔ محمد اقبال، محمد اشفاق، جاوید اختر اور پروین اختر اور دو بیٹیاں بفضل تعالیٰ بینا تھیں۔ بڑی بیٹی بلقیس بیگم محمد اقبال سے کوئی چھ سات سال بڑی ہیں اور اب بھی چاق و چوبند ہیں،ان کی سب سے چھوٹی بیٹی نسیم اختر ہے، وہ گورنمنٹ سکول سے ریٹائرڈ ہو گئی ہیں۔ تینوں بہنیں لیہّ میں بیاہی ہوئی ہیں اور انتہائی پیار و محبت سے رہتی ہیں۔
انہوں نے اپنے بڑے بیٹے محمد اقبال کی تعلیم کے لئے بالخصوص وہ قربانیاں دیں جو فقید المثال ہیں جو ہر آباد کالج چونکہ ڈگری کالج نہیں تھا چنانچہ انہوں نے خوشاب کے گورنمنٹ ہائی سکول سے سرگودہا ہائی سکول میں ٹرانسفر کرا لی اور کوئی 12-13سال کی اہلِ شہر کی محبتوں کو اور وہاں کی سہولتوں کو خیر باد کہہ دیا ذرا بھی نہ سوچا کہ ایک نئے شہر جا رہے ہیں، جب محمد اقبال نے بی۔ اے کر لیا تو گورنمنٹ کالج سرگودہا میں ایم اے انگلش کی کلاسز نہیں تھیں چنانچہ دو سال کے لئے وہ بمعہ فیملی لائل پور(فیصل آباد) منتقل ہو گئے اور محمد اقبال نے گورنمنٹ کالج لائل پور(فیصل آباد) سے ایم اے کر لیا پھر ساری فیملی سرگودہا واپس آ گئی بعد ازاں شیخ اللہ دیا نے نہ صرف محمد اقبال کو بلکہ اپنے باقی تینوں نابینا بچوں کو بھی زیورِ علم سے آراستہ کیا۔ محمد اشفاق گورنمنٹ انبالہ مسلم کالج سے انگریزی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر کے طور پر ریٹائر ہوئے، جاوید اختر نے بی اے بی ایڈ کیااور سرگودہا کے فیڈرل سکول میں فرائض سر انجام دے کر ریٹائرمنٹ لی۔ یہی صورتحال پروین اختر کی تھی جنہوں نے سال ہا سال ایک گورنمنٹ سکول میں پڑھایااور ریٹائر ہو گئیں۔
اسی لئے بالخصوص ڈاکٹرشیخ اقبال کے حوالے سے ان کے والدکی خدمات کو ماڈل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ شیخ اللہ دیا کی پدرانہ شفقت اور محبت پرسلیم شوالوی لکھتے ہیں:
”مجھے پہلی مرتبہ معلوم ہوا کہ سرگودہا کے ایک سکول ٹیچر کے گھر چھوٹی سی عمر ہی میں نابینا ہو جانے والے بچے نے کس طرح اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور پھر بڑا ہو کر کس طرح تعلیم و تدریس شعروادب، صحافت فن تقریر اور انتظامی مہارتوں میں بلند مقام حاصل کیا جس کی ایک دنیا معترف ہے سب سے پہلے میں نے ان کے والد شیخ اللہ دیا کا مضمون پڑھا جس نے مجھے ہلا کر رکھ دیا یہ مضمون حالات کی سفاکی کے سامنے اپنی اولاد کے مستقبل کے لئے ایک حوصلہ مند اور تعلیم کے ثمرات پر یقین رکھنے والے باپ کی دیوانہ وار کوششوں کی حیران کن داستان ہے۔ شیخ اللہ دیا کے اسی انکشاف پر انسان چونک اٹھتا ہے کہ ان کے سارے بچے جن میں شیخ اقبال سمیت تین لڑکے اور ایک لڑکی شامل ہیں چھوٹی سی عمر ہی میں نابینا ہو گئے میں تو اسے میڈیکل سائنس کا ایک عجوبہ کہوں گا جس کے بارے میں اس سے قبل میں نے کبھی پڑھا نہ سنا لیکن اس سانحہ سے شیخ اللہ دیا کے خاندان پر کیا اثرات مرتب ہوئے ہوں گے اس کا اندازہ کرنا مشکل نہیں اس کے باوجود شیخ صاحب نے غیر معمولی حوصلے اور ہوش مندی سے کام لیا اور ایک قدرتی معذوری کو اپنے بچوں کی زندگی کا روگ نہ بننے دیا انہوں نے اپنے محدود وسائل کے اندر اور اپنی عقل سے راستے تراشتے ہوئے ان کے لئے اعلیٰ تعلیم کا انتظام کیا۔۔۔ شیخ اللہ دیا کا یہ کارنامہ لائق ستائش توہے ہی اس میں ان کی اولاد کی قدرتی صلاحیتوں کا نمایاں حصہ ہے“
ڈاکٹر شیخ اقبال اپنے والد شیخ اللہ دیا کے بارے میں یوں رقم طراز ہیں:
”میرے والدجیسا کہ میں نے پہلے تحریر کیا ایک سکول میں معلم تھے اور علم کی اہمیت سے خوب خوب واقف تھے یقینا بہت پریشان تھے کہ میری تعلیم اور تربیت کس طرح ممکن ہو گی، ایسا لگتا تھا کہ اب میری تعلیم سرے سے ممکن ہی نہیں اگر تعلیم ممکن ہی نہیں تو تمام کوششیں اکارت گئیں،والد صاحب اب بھی کہتے ہیں کہ اگر میرے پاس بے پناہ دولت بھی ہوتی اور میں اپنے بچوں کے لئے چھوڑ جاتا تو وہ ان کے کسی کام نہ آ سکتی کیونکہ دولت تو بڑی عارضی شے ہے،انہیں خوشی ہے کہ ان کے چاروں نابینا بچے زیورِ تعلیم سے آراستہ و پیراستہ ہیں“
ازدواجی زندگی:
ڈاکٹر اقبال بتاتے ہیں کہ جب وہ لاہور کے سکول میں پڑھتے تھے تو ان کے سینئر نابینا ساتھی جو وہاں ورکشاپ میں ملازمت کرتے تھے ان میں سے کوئی ایک آدھ ہی شادی کر سکا تھا شادی ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے اور جو شخص خود بمشکل اپنا پیٹ بھر رہا ہو اس کے لئے رشتہ ازدواج میں منسلک ہونا بہت مشکل تھا اور پھر معاشرتی رویے بھی کچھ ایسے تھے کہ نابینا شخص کو کبھی درخورِ اعتنا سمجھا ہی نہیں جاتا تھا۔کوئی بھی اپنی بیٹی یا بہن کا رشتہ کسی نابینا سے کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا تھا تاہم اس سکول کے اساتذہ شادی شدہ تھے کیونکہ وہ سرکاری ملازم تھے اور زندگی کی بنیادی سہولتیں انہیں دستیاب تھیں لیکن مجموعی طور پر نابیناؤں کی شادی ایک خواب ہی تھی






