#کالم

سو لفظوں کی کہانی

111

دور

نہ کسی کے گھر کھانا پکتا تھا نہ ہی چولہا جلایا جاتا،
گاؤں سے لوگ سالن کا ڈونگہ اور چار چپاتیاں،
پورے محلے کے ہر گھر میں پہنچاتے،
تین وقت کا کھانا پورے چالیس دن،
گاؤں علاقے کے لوگوں کے ذمے ہوتا،
اخراجات سے بھی متوفی کے اہل خانہ بے فکر ہوتے،
دادی اماں دوسو کو پرانے دور کی مرگ کا حال سنا رہی تھیں۔
ان کے گھر آج ہی فوتیدگی ہوئی تھی۔۔۔
دادی کیا ہم پرانے دور میں نہیں جا سکتے؟
دوسو نے چاچو کو سوگ منانے کے بجائے،
کیٹرنگ والے کا حساب کرتے دیکھ کر معصومانہ سوال کیا۔

سو لفظوں کی کہانی

وہم اور حقیقت 

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے