#کالم

غریب ۔۔بیماری سے زیادہ خوف کا مریض 

Untitled 5 1

احساس کے انداز  تحریر :۔ جاویدایازخان 

میرۓ ایک دوست اور پرانے کلاس فیلو بدقسمتی سے آجکل فالج کی زدمیں ہیں اور اس غریب کا چہرہ اور جسم کا ایک حصہ متاثر ہو چکا ہے ۔مجھے اس کی عیال داری اور غربت کے بارۓ میں بھی خوب علم ہے ۔ہماری کوشش ہوتی ہے کہ اس کی جتنا ممکن ہے مدد کی جاۓ تاکہ وہ اس مشکل وقت کو با آسانی گزار سکے ۔گزشتہ روز وہ مجھے ایک جنازۓ کے دوران لڑکھڑاتا ہوا   ملا تو اس کی حالت زار دیکھ کر بہت افسوس ہوا ۔بات کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ علاج کرانے سے قاصر ہو چکا ہے کیونکہ بےروزگاری کی باعث پیٹ کا دوزخ بھرنا ہی محال ہو چکا ہے ۔اس کی جیب میں ڈاکٹر کی ادویات کا نسخہ اور ایک طویل لیبارٹری ٹیسٹوں کی فہرست تو موجود تھی مگر ان کے لیے اس کی جیب میں اتنے پیسے نہ تھے کیونکہ آج کے دور میں علاج اس قدر مہنگا ہو چکا ہے کہ غریب تو دور کی بات ہے متوسط طبقہ بھی اس سہولت سے محروم ہو چکا ہے ۔ڈاکٹر کی فیس ،مہنگے مہنگے لیبارٹریز ٹسٹ ،ایکسرۓ  ،ادویات اور ریڈیالوجی کی رپورٹس کے اخرجات ناقابل برداشت ہو چکے ہیں ۔ایک زمانہ تھا کہ پورۓ شہر میں ایک ہی ڈاکٹر ہوتاتھا جو نبض یا مریض کی علامات دیکھ کر ہر مرض کا علاج کر دیتا تھا ۔وہ بیک وقت میڈیکل امراض کے ساتھ ساتھ کان ،آنکھ ،ناک ،دانٹ اور ہڈی ،پٹھوںکا بھی ڈکٹر ہوتا تھا ۔مجھے نہیں یاد کہ جوان ہونے تک مجھے کسی قسم کا ایکسرے ٔ  ، یا لیباڑٹری ٹسٹ  کی ضرورت پیش آئی ہو ۔ہسپتال میں ڈاکٹر کی موجودگی کے باوجودمحترم   ملک اللہ بخش سیال مرحوم سے علاج کرانا بہتر سمجھا جاتا تھا جو اس زمانے میں ایک سینئر میڈیکل ٹیکنیشن اور ہسپتال کی روح رواں ہوا کرتے تھے ۔میری امی جان کی ایک حادثے ٹانگ ٹوٹی تو انہوں نے بڑی مہارت سے   اسے جوڑ کر پلستر کردیا اور کسی ارتھوپیڈک سرجن کی ضرورت پیش نہ آئی ۔دادی جان کے سینے میں  چھوٹی سی کینسر کی گلٹی کو ڈاکٹر  محمد حسین بدر نے گھر پر سرجری کرکے نکال دیا ۔نزلہ ،کھانسی ،بخار  ،دمہ ،ٹی بی ، شوگر ،بلڈ پریشر ،غدود  یہاں تک کے امراض قلب کا علاج بھی یہی لوگ کرتے تھے اور جی ہاں ! اس وقت اوسط عمر آج سے بہت زیادہ ہوا کرتی تھی ۔ان ڈاکٹرز کی فیس بھی نہ ہونے کے برابر ہوتی تھی جو مریض کو ڈاکٹر تک لانے میں کبھی روکاوٹ نہیں بنتی تھی۔لیکن آج بیماری کو  زیادہ اخراجات کا خوف مریض کو ڈاکٹر کو دکھانے سے روکتاہے ۔کیونکہ علاج کی آڑ میں بڑھتی تجارت غریب کی بے بسی اور صحت کا مذاق اڑا رہی ہے ۔کبھی ڈاکٹر کا کمرہ لفظوں کی تسلی ،نصیحت کے پھول اور خدمت کے چراغوں سے منور ہوتاتھا ۔آج وہی کمرہ دواساز کمپنیوں کے رنگین بروشرز ،اور  ادویات کے  نمونوں کے ساۓ سے ڈھکا ہوا ہے ۔توجہ مریض سے زیادہ دوا کی کمپنی پر زیادہ نظر آتی ہے۔جبکہ پہلے مریض اور ڈاکٹر کا رشتہ اتنا مضبوط ہوتا تھا کہ آدھی بیماری ڈاکٹر کو دیکھ کر ہی ٹھیک ہو جاتی تھی ۔

ہمارے معاشرۓ میں علاج ہمیشہ ،امید ،اعتماد اور زندگی کی علامت سمجھا جاتا ہے لیکن پچھلے چندبرسوں میں صحت کے شعبے پر ایک ایسا اندھیرا چھا گیا ہے جس نے مسیحائی کو کاروبار بنا دیا ہے ۔ سرکاری ہسپتال ملکی ضروریات کے لیے ناکافی ہیں اور ادویات کی دستیابی بھی محدود ہے ۔کہتے ہیں کہ جب کسی معاشرۓ میں مسیحائی کا پیشہ کاروبار میں بدل جاۓ تو سب سے پہلے مریض نہیں مرتا بلکہ اسکے زندہ رہنے کی امید مرجاتی ہے ۔آج ہمارۓ شہروں ،قصبوں میں پرائیویٹ ہسپتال اور  کلینک  میں یہی منظر عام دکھائی دیتا ہے ۔جہاں بیشتر ڈاکٹرز کا کمرہ علاج سے زیادہ ایک مارکیٹنگ سینٹر دکھائی دیتا ہے ۔جہاں دوا ساز کمپنیوں کے نمائندۓ نسخوں پر حکمرانی کرتے ہیں اور مریض محض ایک ٹارگٹ بن گیا ہے ۔غریب مریض دروازہ سے ڈاکٹر تک پہنچنا چاہتا ہے مگر بیماری سے زیادہ فیسوں ،ٹیسٹوں ،ایکسرۓ اور ریڈیالوجی ٹیسٹوں کا خوف اسے گھیر لیتا ہے ۔اپنی خالی جیب کے وزن کا جب ان اخراجات سے موزانہ کرتا ہے تو دل برداشتہ ہو جاتا ہے ۔مہنگی  ادویات اور ان طویل ٹیسٹوں کی دوڑ نے علاج کے نسخے کو ضرورت سے زیادہ مہنگا ،بھاری بھرکم ،بنا دیا ہے کہ اکثر اوقات ایک سادہ بخار یا نزلہ کا علاج ایسی ادویات سے کیا جاتا ہے جن کی قیمت ایک مزدور کی دن بھر کی کمائی سے بھی زیادہ ہوتی ہے ۔دوائی لکھتے ہوۓ نہ مریض کی حالت دیکھی جاتی ہے اور نہ اسکی جیب کا خیال رکھا جاتا ہے ۔ یہی وجہ مریض اور ڈاکٹر کے درمیان فاصلے بڑھا رہے ہیں ۔لیبارٹری ٹیسٹوں کی "وبا "اس لوٹ مار کا دوسرا رخ ہے ۔چند سال پہلے جہاں دو ٹیسٹ کافی سمجھے جاتے تھے ۔آج بھاری  فیس لینے کے بعد مریض کو ایسے مہنگے ٹیسٹوں کی پوری فہرست تھما دی جاتی ہے ۔جیسے ان کے بغیر علاج کا آغاز ممکن نہیں ہے ۔ تشخیص کی ضرورت اپنی جگہ مگر ٹیسٹ اس قدر بے دریغ لکھے جاتے ہیں کہ مریض ایک تحقیقی پراجیکٹ بن جاتا ہے ۔عام کلینک اور چھوٹے ہسپتال کے بھی ان لیبارٹریوں سے وابستہ  مفاد چھپے نہیں ہیں جو مریض کی لاعلمی سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں ۔اگر مریض کہے کہ یہ ٹیسٹ تو ابھی پچھلے ہفتے کرایا تھا تو کہا جاتا ہے نہیں تازہ ترین ٹیسٹ درکار  ہے ۔مریض کے پاس احتجاج کی زبان نہیں ،نہ سوشل میڈیا کی طاقت ، اور نہ عدالت کچہری کے چکر لگانے کی سکت  وہ صرف اپنے بیوی بچے ،ماں باپ یا اپنے آپ کو بچانے کے لیے قرض لیتا ہے ،زیور بیچتا ہے اور آخر میں اپنی  امید بیچتا ہے ۔

ہمارۓ معاشرۓ میں غریب کی بیماری صرف جسمانی نہیں ہوتی ۔وہ ڈاکٹر کی فیس سوچ کر بیمار ہوتا ہے ،نسخہ خرید کر بیمار ہوتا ہے ،ٹیسٹ کراکر بیمار ہوتا ہے اور آخر میں علاج کے بعد بھی بیمار ہی رہتا ہے کیونکہ یہ جسمانی نہیں مالی بیماری ہوتی ہے ۔اس غریب کا گھر ،اس کے خواب ،اس کی محبت سب ایک ایک کرکے اس علاج کی چکی میں پسنے لگتے ہیں ۔کئی گھروں میں بیماری آتی ہے تو گھر کا زیور تک بک جاتا ہے بچوں کے اسکول بدل جاتے ہیں ،کھانوں کی روٹیاں گھٹ جاتی ہیں اور امیدوں کے چراغ  بجھنے کے لیے ٹمٹمانے لگتے ہیں ۔ہمارے گھرو ں کو پانی کا سیلاب یا بیماری ہی نہیں گراتی مہنگا علاج  بھی گرادیتا ہے۔مارکیٹ مین ہر چیز کا نرح نامہ دستیاب ہے لیکن ہر ڈاکٹر کی فیس الگ الگ ہے اور ایک ہی لیبارٹری ٹیسٹ کی فیس ہر لیبارٹری پر مختلف  اور الگ ہوتی ہے ۔ایسے ہی ادویات کی قیمت تو درج ہے لیکن ہر دکاندار اس پر اپنی مرضی کا ڈسکاونٹ دیتاہے جو پانچ فیصد سے شروع ہوکر پندرہ فیصد تک ہوتا ہے ۔اس سے ادویات پر منافع کی شرح کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے ۔کینسر کے مریض کی ایک کیمو گرافی کا بل پچاس ہزار کا ہوتا ہے ۔

ہمیں  اور ہمارۓ معاشرے کو آج یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ غلطی کہاں ہو رہی ہے ؟ جبکہ یہ وہ اسلامی ملک ہے جہاں حکیم ،ڈاکٹر ،نرسیں سب ہی ایک ہی بات کرتے تھے کہ "علاج عبادت ہے ؟” اور ہم انسانیت کی خدمت کریں گے "جی ہاں  ڈاکٹر ز ،انکے کلینک اور ہسپتال کبھی درد بانٹنے کی جگہ ہوتے تھے آج وہاں خوبصورت کاونٹر زیادہ مگر درد بانٹنے والے کردار کم کیوں نظر آتے ہیں؟ نسخوں کی زبان بدل گئی ہے ،لیبارٹریز کے نرخ بدل گئے ہیں اور افسوس کہ دلوں کے معیار بھی بدل گئے ہیں ۔مگر یہ بحران کوئی آسمانی بلا نہیں ہے انسانوں کے بناۓ ہوۓ کھیل کا نتیجہ ہے ۔چند سچی نیتیں ،چند مضبوط قوانین ،چند صاف دل فیصلے اس اندھیرۓ کو اجالے میں بدل سکتے ہیں ۔ڈاکٹر اور دواساز کمپنی  کی تحفے اورکمیشن کی سیاست ختم کی جاۓ ۔لیبارٹریز ٹیسٹ تجویز کرنے کے لیے واضح اصول مرتب کئۓ جائیں ۔ڈاکٹرز  کی فیس اور ان ٹیسٹوں کی قیمت کا تعین کیاجاۓ۔تمام لیبارٹریز کے معیار اور  نرخ نامے یکساں ہونے ضروری ہیں  ۔سستی ،معیاری ادویات کی فراہمی کو قومی ذمہ داری قرار دیا جانا چاہیے۔سرکاری ہسپتالوں کو اس حال پر نہ چھوڑا جاۓ کہ خود مریض بھی ادھر کا رخ نہ کریں ۔مریض کے حقوق کو قومی تعلیمی نصاب کا حصہ بنایا جاۓ تاکہ لوگ سوال کرنے کا حوصلہ کرسکیں ۔

غریب ۔۔بیماری سے زیادہ خوف کا مریض 

وہ چلے گئے ،ہم ھیں تیار

غریب ۔۔بیماری سے زیادہ خوف کا مریض 

کالم۔ آوارہ کتے مار دیں

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے