#کالم

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہےفیض احمد فیض

Untitled 13

( شاہد بخاری)

13 فروری 1911ءکو قصبہ کالا قادر ضلع سیالکوٹ میں فیض احمد کی ولادت ہوئی۔ 20 نومبر 1984ءکو وہ اپنے مداحین کو داغ مفارقت دے گئے۔ تب سے اب تک ان کی مقبولیت میں اضافہ ہو رھا ہے ،جس کی وجہ ان کی انسان دوستی اور کمٹمینٹ ہے۔۔ :
جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے
ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے
1935ء میں امرتسر کے ایم۔ اے ۔او ۔کالج میں آپ کا تقرر بطور لیکچر انگریزی کے ہوا،جہاں منٹو بھی ان کے شاگرد رہے جو کلاس میں کم اور ان کے گھر زیادہ آتے جاتے رہتے تھے ۔امرتسر ہی میں ان کی ملاقات، ڈاکٹر تاثیر، ھاجرہ بیگم ،رشید جہاں ڈاکٹر محمود اور دوسرے کمیونسٹ رہنماؤں سے ہوئی اسی وقت سے وہ سوشلزم کی طرف مائل ہوئے۔ فیض نے ان لوگوں کے ساتھ مل کر ریلوے، ڈاک و تار کے مزوروں کو منظم کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔
قیام پاکستان کے بعد فیض ٹریڈ یونین کے ساتھ وابستہ ہوئے اور ایک عرصے تک اس کے صدر بھی رہے۔
وھاں : عاجزی سیکھی، غریبوں کی حمایت سیکھی یا س و حرماں کے دکھ درد کے معنی سیکھے
زیر دستوں کے مصائب کو سمجھنا سیکھا
سرد آنکھوں کے رخ زرد کے معنی سیکھے
سجاد ظہیر کے ساتھ مل کر انہوں نے انجمن ترقی پسند مصنفین کے قیام میں حصہ لیا ۔آپ نے جنیوا، اور سان فرانسسکو میں منعقدہ،آئی ایل۔او کے اجلاس میں بھی شرکت کی ۔فلسطینی مہاجرین اور افریقی عوام کی آزادی کی تحریکوں میں بھی شریک رہے۔ افریقہ سے متعلق ان اشعار میں افریقہ کی موسیقی کی مخصوص تال اور فیض کے ڈکشن کا امتزاج دیکھئیے”
آجاؤ میں نے دھول سے ماتھا اٹھا لیا
آجاؤ،میں نے چھیل دی انکھوں سے غم کی چھال آجاؤ، میں نے درد سے بازو چھڑا لیا
آجاؤ،میں نے نوچ دیا،بے کسی کا جال
1938ء میں ادب لطیف کے ایڈیٹر رہے۔ 47 سے 55 تک ڈیلی پاکستان ٹائمز امروز ہفت روزہ لیل ونہار کے ھر دلعزیز ایڈیٹر رہے۔
آپ بیروت میں ایفر و ایشیائی رائٹرز فیڈریشن کے جریدہ”لوٹس” کے کافی عرصہ تک چیف ایڈیٹر رہے۔
فیض رجائی انداز میں ہمت اور جرات سے غلاموں کی زنجیروں کو توڑ دینے اور مقفل ہونٹوں کو آزادی کا گیت گانے کا سبق دیتے رہے۔۔۔۔ع۔۔۔۔
بول کہ لب آزاد ہیں تیرے
آپ کی شاعری نہ صرف بر صغیر میں سامراجیت کے خلاف بھرپور آواز تھی۔ وہ دنیا بھر کی آزاد تحریکوں میں دلچسپی رکھتے تھے۔ افریقی حریت پسندوں کے لیے لکھی گئی نظم ۔۔۔آجاؤ افریقہ،کم بیک افریقہ ۔۔اس کی ایک مثال ہے ۔
راولپنڈی سازش کیس میں بھی فیض احمد فیض نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں،وہ ذہنی طور پر بھی ٹارچر کیے گئے:
وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا
وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری ہے
(وہ بات امریکی فوجی معاہدوں کی مخالفت تھی) اس مقدمے کے ایک شریک ملزم میجر حسن کی دوران اسیری،طرحی غزل کا شعر ملاحظہ ہو:
اپنے کیے پہ آج بھی نادم نہیں حسن
جو کر نہ سکا اس پہ پشیماں ھے، ان دنوں
1969 میں یونیورسٹی لاء کالج میں بیرسٹر اعجاز بٹالوی ہمیں لاز اوف ٹورٹس پڑھاتے تھے۔ 1970ءمیں خوش قسمتی سے وہ ہمارے انچارج ٹٹوریل گروپ مقرر ہوئے تو مجھے ان کی بدولت حلقہ ارباب ذوق کے اجلاس اور صوفی صاحب کی مجالس میں شریک ہونے کا شرف حاصل ہوتا رہا جہاں ایک بار میڈم نور جہاں کو کلام فیض گاتے ہوئے سنا : رنگ پیراہن کا، خوشبو، زلف لہرانے کا نام موسم گل ہے، تمہارے بام پہ آنے کا نام
بٹالوی صاحب بتلاتے تھے
کہ سجاد ظہیر کے مطابق "فوجیوں کا منصوبہ شیخ چلی کا منصوبہ تھا جو ترک کر دیا گیا تھا۔”
جنرل اکبر خان لکھتے ہیں کہ 22 فروری 1951ء کو جو اجلاس میرے گھر میں ہوا (جسے بعد میں پنڈی سازش کے کا نام دیا گیا) اس میں جو تجویز میں نے پیش کی تھی اس کا مقصد یہ تھا کہ کشمیر میں کسی طرح کی کاروائی کرنے سے قبل پاکستان میں ایسی حکومت کے قیام کی ضرورت ہے جو ہماری پشت پناہی کرے یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ میری ان تجاویز میں سے کوئی بات ان کاروائیوں سے مماثلت نہیں رکھتی تھی جو بعد میں جنرل ایوب خان نے کیں۔ انہوں نے دو بار آئین منسوخ کیا جبکہ ہمارے اعلان سے ایک جمہوری آئین وجود میں آتا۔ملک میں ایوب خان نے دو بار مارشل لاء نافذ کیا جبکہ ہمارے پروگرام میں عام شہری قوانین میں مداخلت کا دور دور تک کوئی ارادہ نہ تھا۔انہوں نے دو بار آمریت مسلط کی جبکہ ہمارا ارادہ تھا کہ جو بات آمریت کا خطرہ بن سکتی ہے اس کا قلع قمع کر دیا جائے۔ 23 فروری کو ہم نے سارا پلان منسوخ کر دیاتھا ۔اسی وجہ سے گرفتاری کی رات، میں اطمینان سے گہری نیند سویا رھا۔
ایک صحافی کا سوال ملزم میجراسحاق سے یہ تھا کہ آپ فوجی انقلاب کے حق میں نہیں تھے اور نہ ہی کسی خفیہ اجلاس میں شریک ہوئے تو پھر اس کیس میں ملوث کیوں کر دئیے گئے؟ میجر اسحاق نے اس کا جواب یہ دیا کہ پنڈی سازش، کوئی سازش تھی ہی نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس زمانے میں پاکستان کی حکومت امریکی فوجی معاہدے کے لیے رضا مند ہو گئی تھی لیکن اسے فوج میں محب وطن افسران کی طرف سے خطرہ تھا کہ وہ ملک کو امریکی غلامی میں جانے نہیں دیں گے اور شدید مخالفت کریں گے۔(جس کا نتیجہ اب آپ کے سامنے ہے کہ ہم قرضوں میں جکڑے جا چکے ہیں. بہت سے نقصان اٹھانے کے باوجود امریکہ خوش بھارت سے ہے) دوسرے کشمیر میں یکم جنوری 1949 کو جو جنگ بندی کی گئی تھی وہ بھی حکمرانوں اور انگریز وں کے درمیان سازش کا نتیجہ تھی ، جس کے خلاف فوج میں شدید رد عمل ہوا، جیسے 1965 میں معاہدہ تاشقند کے بعد عوامی رد عمل ہوا۔مجھے ملوث اس لیے کیا گیا کہ میرے پاس صفائی کی طرف سے بہت اچھا کیس تھا۔ پولیس نے ڈیفینس کی کاروائی کو ناکارہ بنانے کے لیے مجھے ملزمان کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا۔ عدالت نے مجھے اس لیے

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہےفیض احمد فیض

21/11/2025 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے