#کالم

ارب روپے کی ریکوری: نیب کی نئی حکمتِ عملی کے حیران کن نتائج 8397

new desing23432

قاسم فاروق (لاہور)
پاکستان میں احتساب کا نظام ہمیشہ سے بحث اور تنقید کا مرکز رہا ہے، مگر گزشتہ اڑھائی سالوں میں قومی احتساب بیورو کی کارکردگی نے اس تاثر کو بدلنے کی کوشش کی ہے۔ ادارے کے اندر متعارف ہونے والی اصلاحات نے اس کی مجموعی فعالیت اور شفافیت میں نمایاں بہتری پیدا کی ہے اور اب یہ محض ایک تحقیقاتی ادارہ نہیں رہا بلکہ ایسا مؤثر فورم بن گیا ہے جو قومی دولت کی واپسی، متاثرین کو ریلیف اور ریاستی وسائل کے تحفظ میں بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔ نیب میں کی جانے والی حالیہ اصلاحات کے بعد سامنے آنے والے حقائق اور نتائج اس بات کی عملی شہادت ہیں کہ اگر اداروں کو درست سمت دی جائے تو وہ کم وقت میں بڑے نتائج دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اگر احتساب کے حوالے سے ادارے کی کارکردگی کا موازنہ گزشتہ دو دہائیوں سے کیا جائے تو واضح فرق نظر آتا ہے۔ ادارے نے اپنے قیام سے لیکر 2023 تک کے 23 سالوں میں 883.58 ارب روپے کی وصولیاں کی تھیں، مگر مارچ 2023 سے اکتوبر 2025 تک کے مختصر عرصے میں 8397.75 ارب روپے کی ریکوری کر کے ایسا سنگ میل قائم کیا جو ماضی کے تمام ریکارڈز کو پیچھے چھوڑ گیا۔ یہ تناسب گزشتہ عرصے کے مقابلے میں تقریباً دس گنا یعنی 947 فیصد تک زیادہ ہے۔ اگر مالیاتی نظم و ضبط پر نظر ڈالی جائے تو صورتحال اور بھی قابلِ ذکر ہے۔ اسی ڈیڑھ سے دو سال کے دوران ادارے کو 15.33 ارب روپے بجٹ ملا، مگر اس کے مقابلے میں ہر ایک روپے کے عوض 548 روپے کی ریکوری ہوئی، جو اس امر کا ثبوت ہے کہ احتساب بیورو نے وسائل کا انتہائی مؤثر استعمال کر کے ریکارڈ نتائج حاصل کیے۔ مجموعی طور پر اب تک ادارہ 9281.33 ارب روپے قومی خزانے میں واپس لانے میں کامیاب ہو چکا ہے، جبکہ موجودہ سال کے اختتام تک مزید 2000 ارب روپے کی وصولی کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
ادارے کی کارکردگی صرف ملکی خزانے میں رقوم واپس لانے تک محدود نہیں رہی، بلکہ عوامی مشکلات کے حل کے لیے بھی نمایاں اقدامات کیے گئے۔ ملک میں پھیلنے والی غیر قانونی سرمایہ کاری سکیموں اور جعلی ہاؤسنگ منصوبوں نے ہزاروں شہریوں کو نقصان پہنچایا تھا۔ اصلاحات کے بعد ان متاثرین کو اب تک 124.86 ارب روپے واپس کیے جا چکے ہیں، جو ایک بڑا عوامی ریلیف ہے۔ اسی طرح سرکاری زمینوں کی واگزاری کے سلسلے میں پہلی بار ایک منظم طریقہ کار اختیار کیا گیا اور لینڈ ڈائریکٹوریٹ کی معاونت سے 4.53 ملین ایکڑ سرکاری رقبہ، جس کی مالیت تقریباً 8 ہزار ارب روپے بنتی ہے، دوبارہ ریاست کے قبضے میں لیا گیا۔ یہ کامیابی محض زمین کی بازیابی کا معاملہ نہیں بلکہ اس منظم قبضہ مافیا کے خلاف ایک بڑا قدم ہے جس نے برسوں تک سرکاری املاک کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کیا۔
اصلاحات کا ایک اہم پہلو ادارے کے تحقیقاتی عمل کی شفافیت اور منصفانہ کارروائی کو یقینی بنانا تھا۔ ادارے نے واضح اصول طے کیے ہیں کہ جس شخص کے خلاف کارروائی ہو گی اسے ہر مرحلے پر سنے جانے کا مکمل حق حاصل ہوگا اور حتمی فیصلے تک اس کی شناخت کو ظاہر نہیں کیا جائے گا۔ یہ مثبت تبدیلی عوام میں پھیلے ایک غلط تاثر کو ذائل کرنے کیلئے انتہائی اہم تھی کہ احتساب کو بطور دباؤ استعمال کیا جاتا ہے۔ اب کارروائی مکمل قانونی، اصولی اور منصفانہ اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جا رہی ہے۔
اس اصلاحاتی عمل میں ادارے کے اندرونی ڈھانچے میں بھی نمایاں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ نیب ہیڈکوارٹر اور تمام ریجنل بیوروز میں شکایات سیل کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا، جبکہ گوادر اور چمن جیسے اہم مقامات پر سب آفس قائم کیے گئے تاکہ ملک کے دور دراز علاقوں تک اس نظام کی رسائی ممکن ہو سکے۔ پارلیمنٹ اور بیوروکریسی کے لیے ایک خصوصی سہولت سیل قائم کیا گیا ہے تاکہ منتخب نمائندے اور سرکاری افسران تحقیقات کے حوالے سے رہنمائی حاصل کر سکیں اور انہیں غیرضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ کاروباری برادری بھی اس نظام کا اہم حصہ ہے، اسی لیے بزنس فیسیلیٹیشن سیل بنایا گیا ہے جو سرمایہ کاروں کے تحفظ کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہو گا۔
ادارے میں تحقیق کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ڈیجیٹل ذرائع کا استعمال بڑھایا گیا ہے۔ گواہوں کے بیانات کو اب الیکٹرانک طریقے سے ریکارڈ کیا جاتا ہے جبکہ مالیاتی شواہد کے تجزیے کے لیے مصنوعی ذہانت اور جدید سافٹ ویئر استعمال کیے جا رہے ہیں۔ تحقیقات میں غلطیوں کو کم کرنے اور مقدمات کے معیار کو مزید بہتر بنانے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے جو پورے پراسیس کی نگرانی کرتی ہے۔
اصلاحات کا ایک اور اہم نتیجہ شکایات کے نظام میں بہتری کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ صرف ایک مہینے میں ابتدائی شکایات کی تعداد 2338 سے کم ہو کر 1639 رہ جانا اس بات کا اشارہ ہے کہ غیر ضروری، جھوٹے یا بے بنیاد مقدمات کی روک تھام کے لیے سخت جانچ پڑتال کا نظام مؤثر ثابت ہوا ہے۔ اب شکایات وہی شامل کی جا رہی ہیں جن کی بنیاد ٹھوس ہو، جس کا فائدہ ادارے کی مجموعی رفتار اور شفافیت کو بھی ملا ہے۔
احتساب بیورو کی توجہ غیر قانونی دولت، منی لانڈرنگ اور غیر ظاہر شدہ اثاثوں پر بھی رہی ہے۔ اس وقت 118 ارب روپے مالیت کے غیر قانونی اثاثوں پر مشتمل منی لانڈرنگ کے 21 بڑے مقدمات زیر تفتیش ہیں، جن میں پیش رفت کو یقینی بنانے کے لیے مخصوص تحقیقاتی یونٹس کام کر رہے ہیں۔ بدعنوانی ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے اور اس کے تدارک کے لیے بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔ اسی لیے مختلف ممالک کے ساتھ شفافیت، معلومات کے تبادلے اور مشترکہ تحقیقات کے حوالے سے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے، تاکہ سرحد پار ہونے والی مالیاتی بدعنوانی کا بروقت سراغ لگایا جا سکے۔
تربیت کے بغیر کوئی ادارہ مضبوط نہیں ہو سکتا، اسی سوچ کے تحت تحقیق و تربیت کے لیے پاکستان اینٹی کرپشن اکیڈمی قائم کی گئی ہے جو نہ صرف جدید تحقیقاتی طریقوں پر تربیت فراہم کرتی ہے بلکہ

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے