کتاب: ہن دیو نی دُہائیمصنف: امتیاز سرور
تبصرہ: منشا قاضی

کتاب: ہن دیو نی دُہائیمصنف: امتیاز سرور
ادب کی اصل روح اُس وقت پوری طرح کھلتی ہے جب لفظ نہ صرف معنی دیں بلکہ ماحول، تاریخ، تہذیب اور انسانی باطن کی ان گہرائیوں کو بھی چھو لیں جہاں زندگی اپنے خالص ترین روپ میں سانس لیتی ہے۔ امتیاز سرور کی پنجابی مزاحیہ کہانیوں کا مجموعہ “ہن دیو نی دُہائی” بالکل اسی تخلیقی سانس کی خوشبو لیے ہوئے ہے—جنگل کے درختوں کی دھیمی سرسراہٹ، جانوروں کے رویّوں کی علامتی زبان، دیہی فضا کے ہنسی بھرے مگر فکری استعارے، اور لوک ورثے کے کردار جو بظاہر ہنسانے آتے ہیں مگر قاری کی فکر پر دیرپا دستک دے جاتے ہیں۔
یہ مجموعہ محض کہانیوں کی لڑی نہیں، بلکہ ایک ایسی کائنات ہے جہاں مزاح، حکمت، طنز، اور فلسفۂ زیست ایک ہی دھارے میں بہتے دکھائی دیتے ہیں۔ امتیاز سرور نے قصہ گوئی کی اُس روایت کو نہ صرف نئے رنگ میں پیش کیا ہے بلکہ پنجابی لوک کہانیوں کی روح کو جدید حسیت کے ساتھ جوڑتے ہوئے اسے ایک ’انٹرلیوڈ‘ کی صورت عطا کی ہے—یعنی کہانیوں کے درمیان چھوٹے توقفات، علامتی وقفے، فکری سانسیں، اور زندگی کے اُن سوالات کی جھلک جو بظاہر معمولی مگر حقیقت میں بہت بڑی معنویت رکھتے ہیں۔
جنگل، جانور، اور انسان—ایک علامتی آئینہ
اگرچہ کہانیاں جانوروں، پرندوں، درختوں اور دیہی کرداروں کے گرد گھومتی ہیں، مگر دراصل یہ انسان کی سماجی ساخت، اس کی کمزوریوں، خواہشوں، حماقتوں اور تضادات کا آئینہ ہیں۔ کہانی کا ہر جانور ایک انسانی رویّے کا استعارہ ہے—کہیں لومڑی کی مکّاری ہے، کہیں گدھے کی معصومیت، کہیں شیر کی بے سمتی اور کہیں ہرن کی بے بسی۔ مگر مصنف کا کمال یہ ہے کہ وہ ان کرداروں میں تلخی نہیں گھولتا—اس کا طنز، اس کی ہنسی، اس کی چوٹ سب کچھ نرم، شگفتہ اور زندگی سے بھرپور ہے۔
امتیاز سرور کے یہاں جنگل ایک محض پس منظر نہیں بلکہ ایک سماج ہے۔ ایک چلتی پھرتی دنیا جو ہمارے اپنے معاشرے سے بخوبی ہم آہنگ دکھائی دیتی ہے۔ یوں قاری بیک وقت لطف بھی لیتا ہے اور سوچنے پر مجبور بھی ہوتا ہے۔
مزاح جس میں آنسو بھی ہیں اور آئینہ بھی
“ہن دیو نی دُہائی” کے مزاح میں ایک سادگی ہے، مگر اس سادگی کے پیچھے ایک عمیق بصیرت چھپی ہوئی ہے۔ کہیں کہانی کھِلکھلا کر ہنساتی ہے، اور کہیں ہنسی کے پردے سے ایک ایسا طنز جھانکتا ہے جو انسان کو اس کی اجتماعی غفلت اور معاشرتی کمزوریوں سے آشنا کرتا ہے۔ یہ وہی مزاح ہے جو قہقہے سے زیادہ سوچ کو جگاتا ہے—ایک ایسا مزاح جس میں ہنسی کے ساتھ ساتھ کہانی کی تہہ میں چھپا دکھ بھی محسوس ہوتا ہے۔
انٹرلیوڈ کا اسلوب—ایک نئی فنی جہت
امتیاز سرور نے کہانیوں کو وقفوں، منظرناموں اور چھوٹے نثری مدارج کے ساتھ جوڑ کر ایک ایسا اسلوب اپنایا ہے جو پنجابی ادب میں تازہ ہوا کا جھونکا محسوس ہوتا ہے۔ یہ انداز قاری کو مسلسل گرفت میں رکھتا ہے۔ ہر وقفہ ایک نیا سوال لاتا ہے، ہر چھوٹا وقفہ قاری کو تھوڑا سوچنے دیتا ہے، اور پھر اگلی کہانی ایک نئے زاویے سے دنیا کو دکھاتی ہے۔
زبان، لہجہ اور بیان ۔۔۔۔ پنجابی کی لطافت کا جشن
یہ کتاب پنجابی زبان کی اس فطری مٹھاس اور شگفتہ روانی کا بھرپور جشن ہے جو ہماری لوک روایات کی پہچان ہے۔ امتیاز سرور کی زبان نہ صرف برجستہ، روان اور محاوروں سے لبریز ہے بلکہ گاؤں کی بولی، چوپال کی گفتگو، اور جنگل کے کرداروں کی اپنی مخصوص "آواز” سے سجی ہوئی ہے۔ یوں قاری صرف کہانی نہیں پڑھتا، بلکہ ایک مکمل فضا میں داخل ہوجاتا ہے۔
“ہن دیو نی دُہائی” ایک ایسی کتاب ہے جو صرف ہنساتی ہی نہیں، صرف سوچنے پر مجبور نہیں کرتی ، بلکہ یہ دو دنیاؤں کے بیچ ایک پُل بناتی ہے:
ہنسی اور حکمت کے درمیان۔۔۔۔۔ مزاح اور حقیقت کے درمیان۔۔۔۔ لوک کہانی اور جدید علامتی ادب کے درمیان۔
یہ کتاب پنجابی ادب کے اُن ذخائر میں شامل ہونے کے لائق ہے جنہیں نسل در نسل پڑھا جائے، سنایا جائے، اور محفوظ رکھا جائے۔
امتیاز سرور نے اس مجموعے کے ذریعے ثابت کیا ہے کہ مزاح محض تفریح نہیں—یہ شعور کی روشنی ہے، انسان کی اپنی ذات کا تجزیہ ہے، اور زندگی سے محبت کرنے کا ہنر ہے۔ “ہن دیو نی دُہائی” نہ صرف دلچسپ ہے بلکہ ادبی، فکری اور تہذیبی سطح پر بھی انتہائی اہم اور قابلِ توجہ کتاب ہے۔
اگر آپ پنجابی مزاح، لوک کہانیوں، علامتی ادب یا پُرسوز طنز کی فضا سے محبت رکھتے ہیں، تو یقیناً “ہن دیو نی دُہائی” آپ کے دل میں ایک خاص جگہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ کتاب اُن تمام قارئین کے لیے ہے جو ہنسی کے ساتھ فکر، اور تفریح کے ساتھ تھوڑی سی حکمت بھی چاہتے ہیں۔ امتیاز سرور کی کتب کی فہرست بڑی طویل ہے جن لوک کہانیاں۔ ایک تارا ۔ 14 دن جن کے تراجم بھی مریم رانا نے کیئے ہیں ۔ 14 دن بھی کیا دن ہیں اس کا انوکھا انتساب لمحہ ءِ موجود کے نام کیا گیا ہے ۔ جس پر الگ تبصرہ آئے گا ۔ میں ممنون ہوں بین الاقوامی شہرت یافتہ موٹیویشنل سپیکر جناب راؤ محمد اسلم خان کا جنہوں نے امتیاز سرور کا ارمغانِ کتب پیش کیا ہے ۔ اور مجھے حکم دیا ہے کہ تبصرہ لکھوں اور چند اخبارات میں شائع کروا دوں ۔ راؤ محمد اسلم خان خوبصورت عادتوں کی ایک دل فریب ہے اور وہ امتیاز سرور کی شخصیت سے بہت متاثر ہیں






