#اداریہ

مضبوط دفاع ملکی سلامتی کا ضامن ہے

Fahad 01

آج کا اداریہ

وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے ڈیفینس ڈویژن کی جانب سے جمع کرائی گئی ایک سمری منظور کرتے ہوئے مختلف دفاعی منصوبوں کے لیے 50 ارب روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ (ٹی ایس جی) کی منظوری دے دی۔
گزشتہ روز وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت فنانس ڈویژن میں ہونے والے ای سی سی اجلاس کے دوران سکیورٹی، دفاعی منصوبوں، اور تنظیمی اصلاحات کے متعدد منصوبوں کے لیے گرانٹس کی منظوری دی۔
ای سی سی نے وفاقی سول آرمڈ فورسز کے زیر استعمال دفاعی آلات کی دیکھ بھال اور مرمت کے لیے وزارت داخلہ اور انسداد منشیات کی درخواست پر 10 کروڑ روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری دی۔
یاد رہے کہ بجٹ 26-2025 میں دفاع کے لیے 2550 ارب روپے رکھے گئے تھے۔ یہ ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ اس کے علاوہ ہے
وزارت داخلہ کی جانب سے جمع کرائی گئی ایک اور درخواست پر ای سی سی نے وفاقی سول آرمڈ فورسز کی جانب سے بارڈر کنٹرول آپریشنز، اندرونی سکیورٹی اور امن و امان کی بحالی کے لیے 84 کروڑ 15 لاکھ روپے کی اضافی منظوری دی۔
اس کے علاوہ کمیٹی نے ڈیفنس ڈویژن کی جانب سے جمع کرائی گئی ایک سمری کی منظوری دیتے ہوئے مختلف دفاعی منصوبوں کے لیے 50 ارب روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ بھی منظور کر لی۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے دفاعی منصوبوں کے لیے 50 ارب روپے کے اضافی فنڈز کی منظوری دی ہے۔
یادر ہے مالی سال2025 کے لیے دفاعی بجٹ 2550 ارب روپے مختص کیا گیا تھا۔ دفاعی اخراجات کے ضمن میں رکھی گئی یہ رقم پاکستان کے جی ڈی پی کا 1.97 فیصد جبکہ یہ رقم مجموعی بجٹ کا 14.5 فیصد بنتی ہے۔
دفاعی بجٹ میں بڑا اضافہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے مجموعی وفاقی اخراجات سات فیصد کم کر کے 17.57 ٹریلین روپے تک محدود کرنے کا اعلان کیا تھ
2550 ارب روپے کے دفاعی بجٹ کے علاوہ لگ بھگ 1055 ارب روپے ریٹائرڈ فوجیوں کی پینشن کی مد میں بھی رکھے گئے تھے
واضح ہو کہ فوجی پینشن کو دفاعی بجٹ کا حصہ نہیں بنایا جاتا اور آئندہ مالی سال کے لیے پینشن کی مد میں رکھی گئی یہ رقم مجموعی وفاقی بجٹ کے چھ فیصد کے قریب ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا بجٹ تقریر کے دوران کہنا تھا کہ ’ملک میں سکیورٹی کی صورتحال مخدوش ہے اور مسلح افواج نے سرحدوں کی حفاظت میں قابل ستائش خدمات انجام دی ہیں۔ ملکی دفاع حکومت کی اہم ترجیح ہے اور اس قومی فرض کے لیے 2550 ارب روپے فراہم کیے جائیں گے۔‘
حکومت کا مؤقف ہے کہ رواں برس مئی کے اوائل میں انڈیا کے ساتھ چار روزہ تنازعے اور خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بڑھتے دہشت گرد حملے فوجی صلاحیت بڑھانے کا تقاضا کر رہے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’یہ ہمارا قومی فرض ہے کہ اس بجٹ میں مسلح افواج کی صلاحیت بڑھانے اور مستقبل میں وطن کے دفاع کے لیے جو کچھ درکار ہو، وہ فراہم کریں۔ ثابت ہو چکا ہے کہ ہمارا ایک خطرناک ہمسایہ (انڈیا) ہے جس نے رات کی تاریکی میں ہم پر حملہ کیا لیکن ہم نے اُس کا منہ توڑ جواب دیا۔‘
انھوں کا مزید کہنا تھا کہ ’ملک کو اس بات کے لیے تیار رہنا ہو گا کہ اگر وہ دوبارہ حملہ کریں تو ہم فوری جواب دے سکیں۔‘
رواں مالی سال کے بجٹ میں حکومت نے مسلح افواج کے افسران اور سپاہیوں کے لیے سپیشل الاؤنس کا اعلان بھی کیا ہے تاہم وزیر خزانہ کے مطابق یہ رقم دفاعی بجٹ سے ہی خرچ کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آئندہ مالی سال کے دفاعی بجٹ میں ہونے والا اضافہ گذشتہ ایک دہائی کے دوران سب سے بڑا اضافہ تھا
اس سے قبل گزشتہ برس اپنا پہلا بجٹ پیش کرتے ہوئے موجودہ حکومت نے دفاع کے لیے 318 ارب روپے کا اضافہ کرتے ہوئے 2122 ارب روپے مختص کیے تھے۔ اسی طرح مالی سال 24-2023 میں دفاع کے لیے 1804 ارب جبکہ مالی سال 23-2022 میں 1530 ارب روپے مختص کیے گئے تھے
بجٹ دستاویز کے مطابق سال 26-2025 کے لیے پاکستان کی بری فوج کے لیے 1170 ارب (جو کہ مجموعی دفاعی بجٹ کا 45.9 فیصد)، پاکستان ایئرفورس کے لیے 520.75 ارب (مجموعی دفاعی بجٹ کا 20.4 فیصد)، پاکستان نیوی کے لیے 265.97 ارب (10.4 فیصد) جبکہ انٹر سروسز آرگنائزیشنز کے لیے 498.11 فیصد (مجموعی بجٹ کا 19.5 فیصد) رکھاگیا تھا
یاد رہے کہ انڈیا اپنا سالانہ بجٹ فروری کے مہینے میں پیش کرتا ہے۔ رواں مالی سال (26-2025) کے لیے انڈیا نے اپنے دفاعی بجٹ میں 9.5 فیصد کا اضافہ کیا تھا جس کے بعد انڈیا کا دفاعی بجٹ بڑھ کر اب تقریباً 78.7 ارب ڈالر ہو گیا ہے۔
اگر تقابلی جائزہ لیا جائے تو بھارت کے سالانہ دفاعی اخراجات پاکستان سے نو گنا زیادہ ہیں تاہم ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ انڈیا سے پاکستان کے دفاعی اخراجات کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا کیوںکہ انڈیا کی معیشت پاکستان سے بہت بہتر ہے۔ تاہم حال ہی میں پاک بھارت جھڑپوں میں پاکستان کا پلہ بھاری رہاتھا بھارتی دفاعی صلاحیتوں کا پول دنیا بھر کے میڈیا نے کھول دیا تھا۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے