#کالم

۲۰  نومبر  بچوں  کا  عالمی  دن۔۔۔۔  میرا  دن  میرے  حقوق  

WIthout face

محمدشاہنوازخان

 ۲۰نومبر  کا دن   بچوں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے20نومبر کو اقوام متحدہ نے بچوں کے حقوق کی عالمی معاہدہ کو منظور کیا تھا جسے (CRC)چائلڈ رائٹس کنونشن کہتے ہیں۔ بچے کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں ان کی بہتر نشرونما اور تربیت قومی ذمہ داری ہوتی ہے۔  ۲۰۲۵  بچوں  کے  عالمی  دن  کا  موضوع  ہے  میرا  دن  میرے  حقوق  

جس کا مقصد بچوں کی بات سننا اور انہیں اپنی رائے پیش کرنے کا اختیار دینا ہے

اقوام متحدہ کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان نے بھی اس عالمی معاہدے پر دستخط کئے ہیں اور یہ عہد کیا ہے کہ جو کچھ معاہدے میں درج ہے وہ تمام حقوق اپنے ملک میں بچوں کو دیئے جائیں گے۔ آئین پاکستان اورچائلڈ رائٹس کنونشن  CRCٰٓایسے تمام حقوق کی ضمانت فراہم کررہاہے اِس معاہدے کا جائزہ لیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ اس میں بچوں کے تمام بنیادی حقوق کی ضمانت دی گئی ہے۔ اس میثاق کے مطابق ایک بچے سے مراد ہر وہ انسان ہے جس کی عمر 18سال سے کم ہو۔ اِس معاہدے پر دستخط کرنے  کے بعد پاکستان  پر لازم ہے کہ  بچوں کو اُنکی نشو ونما، اُنکی صحت وتعلیم، اُنکی تفریح، آزادی رائے تحفظ، مذہبی آزادی،نگہداشت پرورش بچے کو ذہنی اور جسمانی تشدد اور بدسلوکی سے بچاؤ سمیت تمام وہ اقدامات کرنے کی پابند ہونگے جن کے ذریعے بچے کو اُس ملک ایک موثر شہری نبایا جا سکے۔ خصوصاً اس معاہدے کے تحت کم عمر بچوں سے جبری مشقت کی سخت ممانیت کی گئی ہے اور ریاستوں سے ضمانت لی گئی ہے کہ وہ اپنے اپنے ملک میں بچوں کی مشقت کے خلاف موثر قانون سازی کریں گے۔ اس طرح ہر ملک یا ریاست اپنے ملک میں بچوں کیلئے علیحدہ صحت کی سہولیات مہیا کریں گے بچوں کی جیلیں علیحدہ ہونگی جہاں بچوں کو خصوصی رعایت حا صل ہوگی۔ اس معاہدے کے مطابق ریاست تمام بچوں کو یکساں تعلیم کے برابر مواقع فراہم کرے گی اور پرائمری تک لازمی اور مفت تعلیم فراہم کی جائے گی۔ بچوں کی حاضری کو باقاعدہ بنانے کے اقدامات اور سکول چھوڑنے والے بچوں کی تعداد کم کرنے کے اقدامات کریں گے۔ اس طرح بچوں کیلئے تفریحی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بناناریاست کی ذمہ داری ہوگی اس معاہدے میں ریاستیں اس حق کو نہ صرف تسلیم کرتی ہیں بلکہ بچے کی عمر کے مطابق اُسکی تفریح اور فنونِ لطیفہ کی سرگرمیوں کیلئے اقدامات کے بھی ذمہ دارہیں۔جنگ کی صورت میں دونوں فریقین پر ذمہ داری ہوگی کہ وہ بچوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں گی بچوں کو جنگ میں شریک نہ کیا جائے، افواج میں بھرتی نہ کیا جائے اور زخمی ہونے والے بچوں کی خصوصی نگہداشت کا اہتمام کیا جائیگا۔ یوں ہم نے دیکھا کہ چائلڈ رائٹس کنونشن  (CRC)ٰٓایسے تمام حقوق کی ضمانت فراہم کررہاہے جس کے ذریعے ہم ایک صحت مند تعلیم یافتہ مہذب معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں پاکستان نے اقوام متحدہ کے رکن کی حیثیت سے اس معاہدے پر دستخط کئے ہیں اور یو ں ہم اس معاہدے کے تمام آرٹیکل کو اپنے ملک میں لاگو کرنے کے پابند ہیں.۔

آج  پاکستان میں بچوں کی صورتحال  بہت اچھی نہیں ہے۔ بچوں کے لئے تو بنائے گئے لیکن عمل نہیں ہوسکا۔

بچے  آج بھی پولیو،ملیریا،کا شکار ہورہے ہیں تو کہیں درجنوں بچے بھوک اور ادویات کی کمی کے باعث موت کے منہ میں جارہے ہیں۔ لاکھوں بچے سکولوں سے باہر ہیں اور مزدوری کرنے پر مجبور ہیں قومی اور صوبائی حکومتیں اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام نظر آتی ہیں۔پاکستان دنیا کا  تیسرا بڑا ملک ہے جہاں  60  لاکھ  سے زائد بچے سکول نہیں جاتے یہ معاہدہ تمام بچوں کو برابری کی بنیاد پر تعلیم کا حق تسلیم کرتا ہے۔جبکہ ہمارے ملک میں طبقاتی نظام تعلیم رائج ہے جاگیر دار بیورکریٹ سر مایہ دار افراد کے بچوں کے لئے علیحدہ سکول اور نظام تعلیم ہے۔جبکہ کہ غریب کے بچوں کے لئے قائم سرکاری تعلیمی اداروں کی حالت کو دیکھیں تو افسوس  ہوتا ہے۔ حالیہ کچھ اداروں الف اعلان،تعلیم و آگہی،کی رپورٹس اور ان میں درج اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ ہمارے ملک کی شرح خواندگی پندرہ سال سے زائد عمر  کی خواتین میں  42% جبکہ مردوں میں  67% ہے جو عالمی وعدوں سے کہیں کم ہے۔پاکستان میں 64% خواتین نے کبھی سکول کا منہ نہیں دیکھا۔آج بھی پاکستان کے 44%سکولوں کی عمارتیں خستہ ہیں 43% سکولزبجلی36%پانی 35%لیٹرین اور   32% چاردیواری جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔18%اساتدہ سکول جانا پسند نہیں کر تے۔ یہ مجموعی صورتحال  ہے پاکستان کی  اگر پنجاب کی صورتحال پر نظر ڈالیں تو۔17%تعلیمی اداروں کی عمارتیں خستہ ہیں۔19%بجلی سے محروم ہیں 5%فیصد لیٹرین کی سہولت نہیں 8%تا حال چاردیواری سے محروم ہیں۔44%بچے سکولوں سے باہر ہیں۔سکول چھوڑنے کی شرح 32%فیصد ہے۔43%فیصد بچے پرائیوٹ سکولوں میں زیر تعلیم ہیں۔15%فیصد ایسے سکول ہیں جہاں صرف ایک استاد ہے۔پنجاب میں تعلیمی اعتبار سے سب سے پسماندہ  پہلے  پانچ اضلاع میں ضلع راجن پور،ڈی جی خان،مظفرگڑھ،بہاولپور،رحیمیارخان ہیں۔

خیبر پختونخواہ میں تعلیمی انقلاب بر پا نہیں ہوسکا۔اعداد شمار کے مطابق  52%لڑکیاں اور21%لڑکے سکولوں سے باہر ہیں۔31%بچے پرائیوٹ سکولوں میں جاتے ہیں۔24%سکولوں کی چاردیواری 23%میں لیٹرین 47%بجلی اور 37%میں پانی کی سہولت آج بھی موجود ہ نہیں۔12%فیصد سکول ایک کمرے پر مشتمل ہیں۔19%فیصد سکولوں میں ایک استاد  ہے۔

بچوں سے مزدوری کی صورتحال پر نظر ڈالیں تو چائلڈ لیبر  کے حوالے سے اعداد شمار بہت اچھی تصویر نہیں پیش کر رہے۔ اگر ہم اس پر ایک سر سری نظر ڈالیں تو احساس ہوگاکہ ہم اپنی آنیوالی نسل کے لئے کیا کر رہے ہیں یونیسف کی رپورٹ کے مطابق ہمارے ملک میں 40 لاکھ بچے مزدوری کرتے ہیں جس میں بھٹہ مزدوری سے لیکر کارپٹ انڈسٹر ی،ریلوے اسٹیشنوں،بس اڈوں اور مختلف ورکشاپوں میں بچے کا م کرتے نظر آتے ہیں۔بے شمار بچیاں  لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہیں جو کسی غلامی کی جدید شکل سے کم نہیں جن آئے دن تشدد کے واقعات ہوتے ہیں ان بچوں کی اکثریت کو جنسی حراسیت کا سامنا کر نا پڑتا ہے اس کے علاوہ ان کی صحت،تعلیم،رہائش کا بھی مناسب انتظام نظر نہیں آتا۔لوگ اپنے بچوں سے مزدوری کرانے پر مجبور ہیں جس کی بنیادی وجہ غربت ہے ۔

پاکستا ن میں 40%فیصد آبادی غربت کی لائن سے نیچے زندگی گزارر ہی ہے۔ایسی صورت میں چائلڈ لیبر میں اضافہ لازمی امر ہے۔ریاست کی صورتحال میں ایسے اقدمات کی ضرورت ہے جو اس ساری صورتحال میں بہتری لائے۔

اُدھر صحت کی صورت حال پر ایک نظر ڈالیں تو نظر آتا ہے کہ ۔  بچوں میں شرح اموات میں جنوبی ایشاء میں ہم سب سے نمایاں ہیں۔پاکستان میں 30 سے 40 فیصد بیماریوں کی وجہ آلودہ پانی ہے اور نومولود اور 10 سال تک بچوں کی شرح اموات کی زیادہ وجہ آلودہ پانی ہے پاکستان میں ہر سال 1000 میں سے 106 بچے دستوں کی بیماری کا شکار ہوجاتے ہیں۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں یہ شرح انتہائی کم ہے  1000 میں 93 بچے پیدائش کے بعدمناسب سہولیا

ت نہ ملنے کے باعث زندگی کی بازی ہا رجاتے ہیں۔اور تقریباً 76 بچے پانچ سال کی عمر کو پہنچنے سے پہلے موت کا شکار ہوجاتے ہیں۔

ہمارے اکثر دیہی علاقوں میں بچوں کے لئے ڈاکڑ تو درکنار عام ڈسپنسر کا ملنا مشکل ہوتا ہے۔ادویات کی قیمتیں اور ڈاکڑوں کی فیسوں کے باعث غریب جو اس ملک کا اکثر یتی طبقہ ہے صحت کی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔خصوصاً بچے زیادہ متاثر ہیں اور اُنہیں مناسب صحت کی سہولیات دستیاب نہیں ہیں۔اور اسی طرح کے بے شمار مسائل ہیں جس کے باعث ہمارے ملک میں بچے کے بنیادی حقوق پاما ل ہورہے ہیں ہمیں دیکھنا ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسل جس نے پاکستا ن کی باگ دوڑ سنبھالنی ہے اس کے لئے کیا کر رہے ہیں۔اس صورتحال میں ہم سب کو سوچنا ہے کہ حقوق کے حصوں کی جدوجہد کیلئے ہمیں مل کر کام کر نا ہے منتخب نمائیدوں کو موثر قانون سازی کرنی ہوگی  انتظامیہ کو بچوں کے حقوق کے قوانین پر عمل کرانا ہوگا اور شہریوں کو ہر بچے کو حق دلانے کی کوششوں کا حصہ بننا ہوگا۔

اگر ہم اپنے بچوں کو روشن پاکستان دینا چاہتے ہیں تو ہمیں ہنگامی بنیادوں پر ٹھوس اور عملی اقدامات کرنے ہونگے۔  بنائے گئے قوانین پر عمل کرانا ہوگا  تب تبدیلی ممکن ہے۔

۲۰  نومبر  بچوں  کا  عالمی  دن۔۔۔۔  میرا  دن  میرے  حقوق  

خوف اور یقین

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے