#کالم

روشنی بانٹتی ایک شمعمحترمہ عذرا مجیب کی تعلیمی و فلاحی خدمات

Untitled 1

منشاقاضی حسبِ منشا

بڑی بڑی پرشکو عمارات کے اندر تعلیمی روح موجود نہ ہو تو وہ عمارات صرف اینٹوں کے ڈھیر ہوتے ہیں ۔ تعلیمی ادارے محض اینٹوں اور عمارتوں کا مجموعہ نہیں ہوتے یہ احساس۔ اخلاص اور ذمہ داری کے ستونوں پر کھڑے ہوتے ہیں احساس کی پیکر متحرک۔ اخلاص کی یونیورسٹی اور ذمہ داری کی ملکہ ء معظمہ عذرا مجیب کا نام تعلیمی میدان میں اور تاریخ میں ہمیشہ کہکشاں کی مسجع اور مقفع عبارتوں کی طرح جگمگاتا رہے گا ان کی تعلیم کے حوالے سے خدمات ناقابل فراموش ہیں اور وہ آنے والی نسلوں کی اصلوں کی فصلوں کو شاداب کر رہی ہیں میں سمجھتا ہوں کہ وہ آنے والی نسلوں کی محسنہ ہیں ۔ علم کی دنیا میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو محض درس و تدریس تک محدود نہیں رہتیں بلکہ اپنے وجود کو چراغ کی طرح جلائے رکھتی ہیں تاکہ دوسروں کے راستے منور ہوں۔ محترمہ عذرا مجیب بھی ایسی ہی ایک شمعِ فروزاں ہیں جنہوں نے تقریباً تینتیس برس بیکن ہاؤس اسکول سسٹم میں معلمہ، ہیڈ مسٹریس اور پرنسپل کی حیثیت سے اپنی زندگی وقف کیئے رکھی۔ یہ ایک ایسا سفر تھا جس میں انہوں نے علم کی مشعل کو تھامے ہوئے ہزاروں ذہنوں اور دلوں کو اجالا بخشا، اور اپنے شاگردوں کے مستقبل کو اعتماد، رہنمائی اور محبت کے ساتھ سنوارا۔
استاد ہونا صرف نصاب پڑھانے کا نام نہیں، بلکہ ایک ہمہ جہت ذمے داری ہے۔ عذرا مجیب نے تعلیم کو زندگی کا ایک فلسفہ بنا کر اپنایا۔ وہ اپنے شاگردوں کو ہمیشہ یہ یقین دلاتی رہیں کہ ہر بچہ اپنی انفرادیت اور صلاحیتوں کے اعتبار سے ایک منفرد کائنات ہے۔ ان کا تدریسی نصب العین یہی رہا کہ طلبا کو ایک ایسا ماحول دیا جائے جہاں محبت کا سایہ، اعتماد کی فضا اور رہنمائی کی کرنیں یکجا ہو کر ان کی شخصیت سازی کریں۔ وہ اس بات پر یقین رکھتی ہیں کہ اصل تعلیم کتابی صفحات سے آگے بڑھ کر کردار سازی اور اخلاقی تربیت کا نام ہے۔ ان کے نزدیک درس گاہ صرف علم کا گہوارہ نہیں بلکہ ایک ایسی بستی ہے جہاں سے محبّت، تہذیب، شائستگی اور انسان دوستی کے چراغ جلائے جاتے ہیں۔
ان کے شاگرد جب کامیابی کی منازل طے کرتے ہیں تو یہ دراصل عذرا مجیب کی کاوشوں کا ثمر ہوتا ہے۔ ان کی دعا یہی رہی ہے کہ طلبا کی ترقی اور کامیابی انہیں سرخرو کرے، اور شاگردوں کی مسکراہٹ اور دعائیں ان کے لئے سب سے بڑی دولت بنیں۔ اس فکری اور روحانی دولت نے انہیں ایک ایسی خوش بخت شخصیت بنا دیا ہے جو طلبا کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔
لیکن ان کی خدمات صرف درس و تدریس تک محدود نہیں رہیں۔ محترمہ عذرا مجیب گزشتہ پچیس برسوں سے انٹرنیشنل انرویل کلب کی رکن ہیں اور اس ادارے میں بطور صدر، نائب صدر اور سیکرٹری لاتعداد پروجیکٹس اور فلاحی منصوبے مکمل کر چکی ہیں۔ ان کی کاوشوں کا نتیجہ یہ ہے کہ انہیں کئی ایوارڈز اور اعزازات سے نوازا گیا۔ مگر ان کے نزدیک سب سے بڑا انعام وہ مسکراہٹیں ہیں جو کسی یتیم کے چہرے پر ابھرتی ہیں، وہ سکون ہے جو کسی بے سہارا خاندان کو سہارا دینے سے نصیب ہوتا ہے، اور وہ اطمینان ہے جو انسانیت کی خدمت کے بعد دل کے نہاں خانوں میں اُتر جاتا ہے۔
بچوں کے تعلیمی سفر میں روشنی بانٹنے والی یہ استاد محترمہ، خدمتِ خلق کے میدان میں بھی اتنی ہی فعال اور متحرک ہیں۔ وہ مختلف فلاحی اداروں کے ساتھ منسلک ہیں آبرو سکول ہو یا سی ٹی این فورم ہو اور جہاں کہیں انسانی ضرورت پکارتی ہو، وہاں عذرا مجیب کا وجود مسیحائی کی صورت میں جلوہ گر ہو جاتا ہے۔ وہ مانتی ہیں کہ زندگی کا اصل حسن دوسروں کی بھلائی میں ہے، اور انسانیت کے لیئے کام کر کے ہی دلی اطمینان حاصل کیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی ذات تعلیم اور خدمتِ خلق کے حسین امتزاج کی ایک روشن مثال ہے۔
یوں محترمہ عذرا مجیب کا وجود ایک ایسی شمع ہے جو مسلسل جلتی رہی، تاکہ تاریکیوں میں راستہ تلاش کرنے والوں کو روشنی میسر آئے۔ ان کی زندگی کا ہر باب اس پیغام کا امین ہے کہ علم اور خدمت وہ دو پر ہیں جن کے سہارے انسانیت بلند ترین اُفق تک پرواز کر سکتی ہے۔ ان کا نام آنے والے وقت میں نہ صرف ایک معلمہ بلکہ ایک مشعلِ راہ اور سماجی خدمت گزار کے طور پر بھی زندہ رہے گا۔
یہ تحریر دراصل ایک خراجِ عقیدت ہے اس شخصیت کے لیئے جو درس و تدریس، خدمت و ایثار اور محبت و انسانیت کی زندہ علامت ہے۔ محترمہ عذرا مجیب، آپ کا سفرِ خدمت آنے والی نسلوں کے لئے مشعلِ راہ ہے اور رہے گا۔ بیکن ہاوْس سکول سسٹم کی سربراہ محترمہ نسرین محمود قصوری کی دور اس نگاہ کا یہ اعجاز ہے کہ ان کا انتخاب بڑا حسین ہے محترمہ عذرا مجیب کی با رہا انہوں نے حوصلہ افزائی کی جسے عذرا مجیب مسیحائی کا نام دیتی ہے اور عذرا مجیب نے بھی موصوفہ کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا انہوں نے کہا کہ محترمہ نسرین محمود قصوری کی خدمات ایک ایسی روشن مثال ہیں جو تعلیم ۔ سماجی تعمیر اور فکری ترقی کے کئی جہتوں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں انہوں نے محض ایک تعلیمی ادارہ قائم نہیں کیا بلکہ پاکستان میں معیاری تعلیم کی نئی جہت متعارف کروانے کا بیڑا اٹھایا بیکن ہاؤس کے ذریعے انہوں نے اس تصور کو حقیقت بنایا کہ تعلیم صرف نصابی حدود کا نام نہیں بلکہ شخصیت سازی خود اعتمادی تنقیدی شعور اور بین الاقوامی فہم کی آبیاری بھی ہے ان کی جدت پسند قیادت نے نہ صرف ہزاروں طلباء کو عالمی معیار کی تعلیم فراہم کی بلکہ ملک کے تعلیمی ڈھانچے میں پیشہ ورانہ تربیت ۔ اساتذہ کی صلاحیت سازی اور جدید تدریسی طریقوں کی بنیاد بھی رکھی سماجی فلاح خواتین کی شمولیت اور نئے فکری امکانات کے فروغ میں ان کا کردار ان شخصیات میں شامل ہوتا ہے جو مستقبل کو محض دیکھتی نہیں

روشنی بانٹتی ایک شمعمحترمہ عذرا مجیب کی تعلیمی و فلاحی خدمات

خوف اور یقین

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے