راجن پور: خدمت، شفافیت اور انسانی ہمدردی کی نئی مثال
تحریر: ڈاکٹر جلال عارف
محرومیوں سے ترقی کی راہ

شفقت اللہ مشتاق،ڈی سی راجن پور
راجن پور، پنجاب کے جنوبی خطے کا ایک ضلع، برسوں تک پسماندگی، محرومی اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار رہا۔ لیکن آج یہ ضلع ایک نئے دور کی جانب گامزن ہے۔ صحت، تعلیم اور عوامی خدمات میں نمایاں بہتری نے یہاں کی عوام کی زندگیوں میں حقیقی تبدیلی لائی ہے۔
اس تاریخی تبدیلی کے معمار ڈپٹی کمشنر مہار شفقت اللہ مشتاق ہیں، جنہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کے 136 عوامی اقدامات کو عملی شکل دی اور ضلع میں خدمت، شفافیت اور انسانی ہمدردی کا ماڈل قائم کیا۔
صحت کے شعبے میں سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر فیاض میکن کی قیادت میں پیشہ ورانہ خدمات نے اس وژن کو حقیقت کا روپ دیا، جہاں نظام کو نئی زندگی اور مؤثر مینجمنٹ ملی۔
⸻
انسان دوستی کا لمحہ جو دل چھو گیا
ڈی سی صاحب کے ایک اسپیشل ایجوکیشن اسکول کے اچانک دورے کے دوران ایک گونگا بچہ اشاروں میں بولا:
“سر… اچھا کھانا کھانے والے ہمیں بھول جاتے ہیں… ہمیں بھی یاد رکھا کریں۔”
یہ سادہ مگر دلگیر جملہ ڈی سی صاحب کے دل پر نقش ہوا۔ اسی دن انہوں نے شہر کے مخیر افراد کو جمع کیا اور بچوں کے لیے معیاری، صحت بخش کھانے کا مستقل انتظام کیا۔
اس سلسلے میں خواجہ نوید اعجاز نے ڈی سی کی ہدایت کے مطابق روزانہ بچوں کو کھانا فراہم کیا، جس نے نہ صرف بچوں کی زندگیوں میں فرق ڈالا بلکہ انسانی ہمدرد قیادت کی عملی تصویر پیش کی۔
⸻
عوام کی سیدھی رسائی
راجن پور میں شہریوں کی حکومت تک رسائی میں کوئی رکاوٹ نہیں۔ دفاتر اور اداروں میں شہری بلا جھجک اپنے مسائل پیش کر سکتے ہیں، اور سیکیورٹی بھی باوقار انداز میں برقرار ہے۔
دس روزہ مشاہدے کے دوران DHQ اسپتال کا دورہ کیا گیا، جہاں ڈی سی صاحب عملے اور ڈاکٹروں سے وضاحت طلب کر رہے تھے۔ ایک مریض نے بتایا:
“یہ ہمارا ڈی سی ہے۔ یہ اکثر اسپتال آتے ہیں، محتاجوں کی مدد کرتے ہیں اور عملے سے 24/7 ڈلیوری خدمات کے بارے میں پوچھتے ہیں۔”
⸻
صحت کا انقلاب
راجن پور میں صحت کے شعبے میں نمایاں بہتری کے دو ستون ہیں:
1. ڈپٹی کمشنر مہار شفقت اللہ مشتاق — وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے 136 عوامی اقدامات کا عملی نفاذ
2. سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر فیاض میکن — صحت کے شعبے میں ڈی سی کی نگرانی اور وژن کے تحت پیشہ ورانہ خدمات
ڈاکٹر فیاض میکن کی ٹیم مینجمنٹ اور منصوبہ بندی نے نظام کو نئی زندگی دی، اور ڈی سی کی نگرانی نے اس تبدیلی کو زمین پر قابلِ دید بنایا۔
⸻
مریم نواز ہیلتھ کلینکس — قبائلی علاقوں میں نئی صبح
عثمان (تحصیل روجھان) میں بنیادی ہیلتھ یونٹ کو اپ گریڈ کرکے مریم نواز ہیلتھ کلینک بنایا گیا۔ نمایاں کامیابیاں:
• OPD مریض ماہانہ: 100–300 سے بڑھ کر 1000+
• 40 سال بعد پہلی بار نارمل ڈلیوری کی سہولت
• 9 ماہ میں 100 سے زائد کامیاب پیدائشیں
• غذائی قلت کے شکار بچوں کا باقاعدہ علاج
یہ سہولت قبائلی عوام کے لیے حقیقی نعمت ثابت ہوئی۔
⸻
کلینک آن وہیلز — ہر دروازے پر علاج
• 4 یونٹس قبائلی علاقوں میں
• 18 یونٹس میدانی علاقوں میں
• مجموعی طور پر 1.5 لاکھ مریضوں کا علاج
یہ پروگرام خواتین، بچے اور بزرگ سب کے لیے صحت کی سہولت گھر تک پہنچا رہا ہے۔
⸻
کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز — گھر گھر صحت
ڈاکٹر فیاض میکن کی نگرانی میں:
• بچوں کی ویکسینیشن
• حاملہ خواتین کی دیکھ بھال
• فیملی پلاننگ
• بنیادی علاج گھر پر
یہ ماڈل پنجاب کے دیگر اضلاع کے لیے رول ماڈل بن چکا ہے۔
⸻
سیلاب اور دورافتادہ علاقے — پہلی بار حقیقی توجہ
کچا، سیلاب زدہ اور ٹیھل کے علاقوں میں:
• میڈیکل کیمپس
• ادویات کی فراہمی
• مچھر دانیوں کی تقسیم
• صاف پانی کے حل
• خواتین اور بچوں کے لیے خصوصی کٹس
یہ اقدامات وقتی مدد نہیں بلکہ طویل المدتی بہتری کی بنیاد ہیں۔
⸻
جدید سہولیات — صحت کے مراکز کی اپ گریڈیشن
• بی ایچ یوز اور آر ایچ سیز کو 24/7 مراکز میں تبدیل کرنا
• ڈیجیٹل ایکسرے اور الٹراساؤنڈ
• جدید لیبارٹریز
• ٹیلی میڈیسن اور ای فارمیسی
• مریضوں کا ڈیجیٹل ریکارڈ
یہ سب کچھ ڈی سی کی سرپرستی اور ڈاکٹر فیاض میکن کی پیشہ ورانہ مہارت کا نتیجہ ہے۔
⸻
نتیجہ — راجن پور کی کہانی
ڈی سی مہار شفقت اللہ مشتاق اور ڈاکٹر فیاض میکن کی مشترکہ قیادت نے راجن پور کو ایک ماڈل ضلع بنایا ہے۔
یہ ضلع آج اس بات کی زندہ مثال ہے کہ:
• نیت صاف ہو
• ٹیم متحد ہو
• وژن مضبوط ہو
راجن پور—اب صرف ایک ضلع نہیں، بلکہ خدمت، انسانیت اور حکمرانی کے نئے پاکستان کا چہرہ ہے۔





