سو لفظوں کی کہانی
وقت
جو بھی ملنے آتا،
دوسو کا لہجہ کرخت ہوتا،
آنے والا کچھ کہنے سے پہلے ہی بددل ہو جاتا۔۔۔
کام نہ بھی کرو تو لہجہ نرم رکھا کرو،
ضرورت مند نرم لہجے سے خوش ہو جاتا ہے،
میں نے دوسو سے کہا،،،
وہ بڑا افسر تھا،
اس نے سنی ان سنی کر دی۔۔۔
طویل عرصے بعد دوسو کو ایک دفتر سے پریشان حال نکلتے دیکھا۔۔۔
کیا ہوا؟ سرکاری دفتر سے باہر آتے ہوئے میں نے دوسو سے پوچھا۔۔۔
کام تھا،
لیکن افسر کا رویہ ہی اتنا کرخت تھا کہ،
بناء کام کروائے نکل آیا،
دوسو بتاتے ہوئے روہانسا ہو گیا تھا۔






