شاہ عبداللہ کا دورہ پاکستان اور عزم نو
آج کا اداریہ
اردن کے شاہ عبد اللہ دوم کی وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے ساتھ ساتھ اقتصادی، تجارت، سرمایہ کاری، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی، تعلیم کے ساتھ ساتھ دفاعی شعبوں میں تعاون بڑھانے کے مواقع تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
اردن اور پاکستان کے تعلقات وقت کے دھارے میں بارہا آزمائے گئے، مگر ہر آزمائش نے اس رشتے کو مزید مضبوط کیا۔ برادر اسلامی ممالک ہونے کے ناتے دونوں نے نہ صرف مذہبی و تہذیبی رشتوں کو برقرار رکھا، بلکہ سیاسی، دفاعی اور سفارتی محاذوں پر بھی ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہونے کی روایت قائم کی۔ آج جب دنیا خطوں، مفادات اور اتحادوں کی ازسر ِنو تشکیل کے عمل سے گزر رہی ہے، ایسے میں اردن اور پاکستان کا تعلق ایک ایسے استحکام کی مثال ہے جسے نہ وقتی دباؤ کمزور کرسکا اور نہ جغرافیائی فاصلے۔ دونوں ممالک نے ہمیشہ امتِ مسلمہ کے اجتماعی مفاد اور خطے میں امن و استحکام کو ترجیح دی ہے۔
فلسطین ہو یا کشمیر۔ اردن اور پاکستان نے انصاف اور انسانی حقوق کے اصولی مؤقف سے کبھی نظر نہیں پھیری۔دفاعی شعبے میں دونوں ممالک کا تعاون محض رسمی نہیں بلکہ باہمی اعتماد کی گہری بنیاد پر قائم ہے۔ پاکستانی افواج کی پیشہ ورانہ مہارت اور اردنی فوج کی صلاحیتوں نے خطے میں ایک متوازن سپورٹ سسٹم پیدا کیا ہے، جو کسی بھی غیر مستحکم ماحول میں قابلِ تحسین ہے۔
البتہ معاشی اور تجارتی میدان وہ شعبے ہیں جہاں دونوں ممالک کو مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ تجارت کا حجم امکانات کے مقابلے میں نہایت کم ہے، اگر دونوں ممالک مشترکہ سرمایہ کاری، فاسفیٹ، توانائی اور ٹیکنالوجی کی صنعتوں میں تعاون بڑھائیں تو یہ نہ صرف دو طرفہ معیشتوں کے لیے سود مند ہوگا بلکہ مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں اقتصادی سرگرمیوں کو بھی نئی جہت دے سکتا ہے۔ اردن میں مقیم پاکستانی کمیونٹی بھی اس تعلق کی زندہ علامت ہے۔ یہ محنت کش نہ صرف اردن کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں بلکہ پاکستان اور اردن کے درمیان ثقافتی رشتوں کو بھی مزید مضبوط کرتے ہیں۔ پاکستان اور اردن کے تعلقات کی تاریخ مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے خطے میں امن، تعاون اور اعتماد کے ایسے رشتوں سے جڑی ہے جنھوں نے ہمیشہ بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے میں استحکام اور توازن کی ایک مضبوط علامت کے طور پر اپنا کردار ادا کیا ہے۔
اگلے روز وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی خصوصی دعوت پر اردن کے بادشاہ شاہ عبد اللہ دوم ابن الحسین دو روزہ سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچے تو یہ محض رسمی سفارتی سرگرمی نہیں تھی بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتے ہوئے اعتماد، اشتراک اور باہمی احترام کی ایک جیتی جاگتی مثال تھی۔ وفاقی دارالحکومت میں شاہ عبداللہ دوم کے پرتپاک استقبال سے نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات کی جھلک دکھائی دی بلکہ اس نے خطے میں بدلتی صورتحال کے تناظر میں دونوں ممالک کے درمیان نئی جہتوں پر مبنی سفارتی تعاون کی بنیادوں کو مزید مضبوط کیا۔
شاہ عبداللہ دوم کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے میں امن و استحکام شدید نوعیت کے چیلنجوں سے دوچار ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات، خصوصاً غزہ کی صورتحال، عالمی طاقتوں کی بدلتی ترجیحات اور علاقائی اتحادوں کی ازسرنو تشکیل کے تناظر میں پاکستان اور اردن جیسے معتدل اور امن کے خواہاں ممالک کا کردار مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد پہنچتے ہی صدر آصف علی زرداری، وزیر اعظم شہباز شریف اور وفاقی کابینہ کے اراکین کی جانب سے شاہ عبداللہ دوم کا پرتپاک استقبال پاکستان کی خارجہ پالیسی میں اردن کی اہمیت کا واضح اظہار تھا۔وزیراعظم ہاؤس میں شاہ عبداللہ دوم کے اعزاز میں پروقار استقبالیہ تقریب اور گارڈ آف آنر نے اس دورے کو خصوصی نوعیت عطا کی۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف اور شاہ عبداللہ دوم کے درمیان ہونے والی ملاقات پاکستان اور اردن کے درمیان اسٹرٹیجک شراکت داری کو نئی جہتوں سے روشناس کرنے کی جانب اہم قدم تھا۔ ملاقات میں نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق کیا گیا بلکہ اقتصادی، تجارتی، سرمایہ کاری، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی، تعلیم اور دفاعی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا گیا۔ یہ تمام شعبے وہ اہم میدان ہیں جن میں دونوں ممالک ایک دوسرے کی ضروریات کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں اور عالمی چیلنجز کے مقابلے میں متوازن حکمتِ عملی اختیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اس موقع پر میڈیا، ثقافت اور تعلیم کے شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اور اردن صرف سفارتی سطح پر ہی نہیں بلکہ عوامی سطح پر بھی روابط بڑھانے کے خواہشمند ہیں۔ ثقافتی اور تعلیمی تعاون وہ پل ہیں جو قوموں کو ایک دوسرے کے قریب لاتے ہیں۔ اردن اور پاکستان دونوں مذہبی، تاریخی اور ثقافتی اقدار کے ایسے امین ہیں جن میں ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے اور آگے بڑھنے کی گنجائش بہت زیادہ ہے۔
میڈیا کے شعبے میں مفاہمت سے دونوں ممالک کے صحافتی ادارے ایک دوسرے کے تجربات سے مستفید ہو سکیں گے، جب کہ تعلیمی شعبے میں تعاون طلبا اور محققین کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنائے گا۔شاہ عبداللہ دوم نے خطے میں امن و استحکام کے قیام میں پاکستان کے کلیدی کردار کا اعتراف کیا۔ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے شاہ عبداللہ دوم کو پاکستان کے اردگرد خصوصاً افغانستان اور بھارت کی صورتحال سے بھی آگاہ کیا۔ پاکستان اور اردن دونوں خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے خواہاں ممالک ہیں۔
افغانستان کی صورتحال پورے خطے پر اثرانداز ہوتی ہے جب کہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات جنوبی ایشیا کے جغرافیائی سیاسی ماحول میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں، لہٰذا اس تبادلہ خیال سے دونوں ممالک کے درمیان اسٹرٹیجک مشاورت کے دائرے میں وسعت آئی ہے۔وزیراعظم کی جانب سے شاہ عبداللہ دوم کے اعزاز میں دیے گئے خصوصی عشائیے میں وزیر خارجہ اسحٰق ڈار، فیلڈ مارشلز، اور دیگر اہم وزرا کی شرکت پاکستان اور اردن کے تعلقات کی گہرائی اور اہمیت






