علامہ اقبال اور توحید
(شاہد بخاری )
جیسا کہ ہمیں سب کو معلوم ہے کہ تمام انبیاء کرام توحید ھی کا درس دیتے رہے۔قران پاک کی سورت یونس کی آیات104تا110 سورہ یوسف کی آیات 37 تا 40 اور سورہ اخلاص کی سب آیات، اللہ تعالیٰ کی توحید کے بارے میں ھیں۔سورت بنی اسرائیل کی آیت 111 میں ہے کہ کہو سب تعریف اللہ ہی کے لئیے ہے جس نے نہ تو کسی کو بیٹا بنایا اور نہ اس کے اختیا رات میں کوئی شریک ہے اور نہ وہ عاجز و بے بس ہے کہ کوئی اس کا مددگار ہو اور (نماز میں) اس کے نام کی بار بار تکبیر(الللہ اکبر) بلند کرو جیسا کہ اس کا حق ہے.
وحدانیت ،روح اسلام کی اساس ہے۔ علامہ اقبال آخر تک سلسلہ قادریہ سے ھی منسلک رہے۔ بقایا سلسلوں سے بھی ان کی عقید ت کا اظہار ملتا ہے ۔خواجہ معین الدین چشتی، بو علی قلندر حضرت علی ہجویری اور حضرت میاں و دیگر بزرگان سے عقیدت کا اظہار ان کے کلام میں موجود ہے۔ اسی وجہ سے ان کے کلام جا بجا توحید کا درس ملتا ہے۔ ضرب کلیم کی نظم” توحید میں،علا مہ دکھ کے ساتھ فرماتے ہیں کہ :
زندہ قوت تھی جہاں میں یہی توحید کبھی
آج کیا ہے؟ فقط اک مسئلہ علم کلام
روشن اس ضو سے اگر ظلمت کردار نہ ہو
خود مسلمان سے ہے پوشیدہ مسلماں کا مقام
آہ اس راز سے واقف ہے نہ
ملا، نہ فقیہ
وحدت افکار کی بے وحدت کردار ہے خام
اور پھر نظم” توحید” میں کیا خوب فرمایا ہے :
بیاں میں نکتہ ءتوحید تو آ سکتا ہے
تیرے دماغ میں بت خانہ ہو تو کیا کہیے؟
وہ رمز شوق کہ پوشیدہ لا الہٰ میں ہے
طریق شیخ فقیہا نہ ہو تو کیا کہئییے؟
اس نفس جبرائیل کا رشتہ، لا الہ الا الللہ
اس صوت اسرافیل کی اذاں،لا الہ الا الللہ
علامہ کی شاعری لا الہٰ کے گرد گھومتی ہے
ضرب کلیم کی ایک نظم کا عنوان ہی، "لا الہٰ الا اللہ” ہے جس میں لکھا ہے : کہ خودی کا سر نہاں، لا الہٰ تھے الا الللہ
خودی ھے تیغ فساں، لا الہٰ الا الللہ
یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے
صنم کدہ ہے جہاں، لا الہٰ الا الللہ
صحابہ کرام تابعین،تبع تابعین اور دیگر بزرگان دین کی تبلیغ وتعلیمات کا مقصد شرک و بدعات کا خاتمہ اور صرف ایک الللہ ھی کی پرستش رہا ہے۔ نبی پاک کی تعلیم کا بنیادی مقصد انسانوں کو غیر الللہ کی اطاعت و بندگی سے ہٹا کر صرف ایک الللہ کی اطاعت اور بندگی کی طرف مائل کر نا ھی رھا ھے۔ سچے عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہونے کے ناطے سے کلام اقبا
ل میں جا بجا اس موضوع کے حوالے سے بکثرت اشعار
موجود ہیں جن میں سے چند درج ہیں:
از پیام مصطفیٰ آگاہ شو
فارغ از ارباب دون اللہ شو
حضور کے پیغام سے آگاہ رھو۔ الللہ کے سوا باقی خدا ؤں سے دستبردار ہو جاوء مسلمان کے لیے قوت و جبروت اور شان شوکت کا سرچشمہ توحید ہے۔ جب کسی شخص کے دل میں الللہ اکبر کی کبریائی کا نقش منقش ہو جاتا ہے تو وہ بڑے بڑے فرعونوں کے سامنے بھی گردن نہیں جھکاتا۔اس کی گردن صرف اللہ ہی کے سامنے جھکتی ہے ۔ :
ما سوا الللہ را مسلماں بندہ نیست
پیش فرعونے سرش افگندہ نیست
اس اطاعت خداوندی کا سب سے بڑا فائدہ خود اسی کو پہنچتا ہے، جو یہ ہے کہ: یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات
نفئ ھستی اک کرشمہ ہے دل آگاہ کا
لا کے دریا میں نہاں موتی ہے الا اللہ کا
یعنی پہلے تمام غیر اللہ کی طاقتوں سے علیحدگی،لا تعلقی اختیار کی جائے تب انسان اس قابل ہوتا ہے کہ وہ الللہ کا ہو سکے۔
اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا توبن
سورہ جن کی آیت نمبر 18 میں ہے کہ، "مت پکارو ساتھ اللہ کے کسی اور کو”۔ اللہ ہی کے ہو کر رہو اور غیر اللہ کو چھوڑ دو :
صنم کدہ ہے جہاں اور مرد حق ہے خلیل
یہ نکتہ وہ ہے کہ پوشیدہ لا الہٰ میں ہے
حضرت ابراہیم نے بھرے دربار میں لا الہٰ کی تعلیم پیش کر کے سب کو مبہوت کر دیا تھا :
یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے
صنم کدہ ہے جہاں، لا الہٰ الا الللہ
حضرت ابراہیم کی طرح تمام بتوں کو پاش پاش کر دو۔ یہی کلمہ طیبہ کا مقصد ہے جو غیر اللہ کی نفی سکھلاتا ہے۔ سورہ زمر کی آیت 36 میں ہے کہ کیا اللہ اپنے بندوں کے لیے کافی نہیں ہے؟ اللہ ہی کی یاد میں دن کا چین ہے. علامہ فرماتے ہیں:
نہ چھوڑ اے دل فغان صبح گاہی
اماں ہر دم ملے الللہ ھو میں
ھاتھ ہے اللہ کا بندہ مومن کا ھاتھ
غالب و کار آفریں کار کشا کارساز
حدیث پاک میں ہے کہ بندہ انسان دوستی اور نوافل کے ذریعے اللہ کی قریب ہوتا رہتا ہے، یہاں تک کہ رب اسے اپنا بندہ بنا لیتا ہے۔ اس کی بینائی بن جاتا ہے جس سے وہ دیکھتا ہے اس کا ہاتھ بن جاتا ہے جس سے وہ پکڑتا ہے۔ قران پاک کی آٹھویں سورہ الانفال سترھویں آیت میں ہے”پس نہ مارا تم نے ان کو لیکن اللہ نے مارا ان کو. آپ نے خاک کی مٹھی نہیں پھینکی تھی بلکہ اللہ نے وہ پھینکی تھی۔8/17
یہ شعر کیا خوب ہے کہ:
مدعا پیدا نہ کردہ زیں دو بیت
تا نہ بینی از مقام ما رمیت
ہم نے قران سے بجائے ہدایت لینے کے ، اس عمل والی کتاب کو ایصال ثواب تک محدود کر دیا ہے:
زباں سے گر کیا توحید کا دعویٰ تو کیا حاصل ؟
بنایا ہے بت پندار کو اپنا خدا تو نے
انسان کو چاہیے کہ وہ ہر حال میں اللہ کی اطاعت کرے وہ جو کام بھی سر انجام دے اس میں اللہ کے اوامر و نواہی کو پیش نظر رکھے۔ اللہ کی نافرمانی بالکل نہ کرے جب تک حرص و ھو س کے بتوں سے پاک






