فکر اقبال اور عورت
تحریر ڈاکٹر نگہت خورشید۔
ادم کو تنہائی سے نجات دلانے کے لیے اماں حوا کو ادم کی پسلی کے اس جانب سے پیدا کیا گیا جس طرف دل ہوتا ہے اس لیے مرد ہمیشہ عورت کو دل سے محسوس کرتا ہے دل احساس و جذبات کا مجموعہ بھی ہے جو خوشی پر ہنستا ہے اور تکلیف پر روتا ہے اسی لیے کسی نے کہا
دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے
خالق کائنات نے مرد کو بے شک افضل کہا لیکن عورت کو اس اس کے امور کی انجام دہی کے لیے اس کا ساتھی بنایا کبھی بیٹی کے روپ میں کبھی ماں کے روپ میں کبھی بہن کے روپ میں اور کبھی بیوی کے روپ میں عورت کے بارے میں مختلف لوگوں کے مختلف نظریات ہیں کوئی کہتا ہے عورت پیاز کی طرح ہے جس کی ہر پرت کو کھولنے پر ایک نئی پرت سامنے اتی ہے کچھ کہتے ہیں عورت فساد کی جڑ اور ناقص العقل ہے شاعرانہ خیال دیکھیں تو عورت کے بارے میں کہا گیا
میر ان نیم باز انکھوں میں ساری مستی شراب کی سی ہے کسی اور کو عورت کے حسن کی تعریف کرنا مقصود ہوئی تو اس نے کہا
نازکی اس کے لب کی کیا کہیے پنکھڑی ایک گلاب کی سی ہے لیکن علامہ اقبال عورت کو ایک انتہائی متوازن زاویہ نظر سے دیکھتے ہیں وہ عورت کی خوبصورتی اور حسن کے تو قائل ہیں کیونکہ وہ کہتے ہیں پھول ہیں صحرا ہیں یا پریاں قطار اندر قطار اودے اودے نیلے نیلے پیلے پیلے پیرہن
یعنی عورت کے دم قدم سے اس گلستان کی رنگینی اور اس زندگی کا نغمہ برقرار ہے
علامہ اقبال عورت کی اہمیت سے انکار نہیں کرتے بلکہ وہ عورت کو معاشرے کی تعمیر و ترقی کے لیے ایک اہم جز قرار دیتے ہیں لیکن وہ عورت کی مادر پدر ازادی کے بھی خلاف ہیں اور عورت کا تصور ان کے نزدیک وہی ہے جو اسلام نے عورت کے حوالے سے دیا ہے وہ جانتے ہیں کہ کائنات کی رنگینی عورت کے دم قدم سے ہے اسی لیے وہ کہتے ہیں
وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں
اور پھر اگلی بات وہ عورت کی عزت اور وقار اور توقیر کے حوالے سے کرتے ہیں وہ یوں ہے شرف میں ہںے بڑھ کے ثریا سے مشت خاک اس کی
کہ ہر شرف ہے اسی درج کا در مکنوں
مکالمات فلاطون نہ لکھ سکی لیکن
اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرار افلاطون
گویا افلاطون کی ساری عقل و دانش میں ایک عورت کی تربیت جھلکتی ہے وہ عورت کے اسی تشخص کے قائل ہیں جو اسلام نے اسے دیا یعنی وہ پردے میں رہ کر اور گھر میں رہ کر بہت سارے کام کر سکتی ہے اس کی مثال تحریک پاکستان کی وہ خواتین ہیں جنہوں نے اسلام کی پاسداری کرتے ہوئے حدود و قیود کے اندر رہ کر تحریک پاکستان میں حصہ لیا بے شک وہ پڑھی لکھی خواتین تھیں جنہوں نے اپنے خاندانی وقار کو بھی ملحوظ خاطر رکھا لیکن مردوں کے شانہ بشانہ تحریک ازادی میں بھی اپنا حصہ ڈالا جن میں سر فہرست بی اماں۔ محمدی بیگم۔ بیگم رانا لیاقت علی خان ۔ بیگم مہر النساء بیگم وقار النسانون بیگم سلمہ تصدق حسین جیسی خواتین شامل ہیں پاکستان بننے کے بعد شکریہ خانم شاہین۔ عتیق الرحمن ساجدہ نہر عابدی بیگم جاوید اقبال عاصمہ جہانگیر بے نظیر بھٹو اور مریم نواز نے قومی تقاضوں اور امنگوں کے مطابق کام کرنے کی کوشش کی اور ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالا علامہ اقبال معاشرے کی ادھی ابادی کو زنگ الود کر دینے کے مخالف ہیں جو اسے اس کی بنیادی ذمہ داریوں سے دور کر دے علامہ اقبال کے نزدیک عورت کا اصل مقصد ایک نسل کو پروان چڑھانا ہے اور اس کی بہترین تربیت کرنا ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ عورت تعلیم حاصل کرے لیکن وہ انگریزی تعلیم یا مغربی تہذیب کی چکا چون سے خود کو دینی فرائض سے دور کرے گی تو اپنی راہ سے بھٹک جائے گی علامہ اقبال اس مغربی تعلیم کے خلاف ہیں جو اسے مادر پدر ازادی دے کر معاشرے میں اس کے مقام کو گنوا دے اور اس کی عزت اور وقار کو ٹھیس پہنچائے
علامہ اقبال طرابلس کی جنگ میں فاطمہ کی جنگی خدمات سے متاثر ہوئے تو انہوں نے ایک نظم فاطمہ کے نام لکھی جو ظاہر کرتی ہے کہ وہ عورتوں کے امور زندگی میں حصہ لینے کے مخالف نہیں ہیں وہ محض اس بات کے مخالف ہیں کہ عورت فرنگی تہذیب اور مغربی تعلیم سیکھ کر اپنے بنیادی فرائض کو نہ بھول جائے وہ لکھتے ہیں تہذیب فرنگی ہے اگر مرگ عمومت
ہے حضرت انسان کے لیے اس کا ثمر موت
جس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نازاں
کہتے ہیں اسی علم کو ارباب نظر موت
بیگانہ رہے دین سے اگر مدرسہ زن
ہے عشق و محبت کے لیے علم و ہنر موت
عمومت یعنی ماں بننے کی صفت سے انکار انسانی تہذیب کی موت ہے اور وہ تعلیم جو عورت کو اس طرح تفاخر میں مبتلا کر دے کہ وہ مردوں کی حیثیت کے سامنے خود کو زیادہ بلند تر باک اور گھمنڈ میں مبتلا کر دے تو ایسی تعلیم کے علامہ اقبال کے خلاف ہیں اور ان کے نزدیک اگر تعلیم دین سے بحراور نہیں ہے تو پھر اس تعلیم سے حاصل کیا علم و ہنر بھی کسی کام کا نہیں ان کے نزدیک عورت خلوت کے لیے اور مرد جلوت کے لیے بنائے گئے ہیں وہ عورت کی مرد کے برابر مساوات کے قائل نہیں اسی لیے ان کے خیال میں عورت کے لیے کلرک ریسپشنسٹ یا ٹائپسٹ کی ملازمتیں کرنا درست نہیں اس سے مردوں کے معاشی استحصال کا خطرہ پیدا ہوتا ہے اور یہ بات درست بھی ہے اج ہم نے دیکھا ہے کہ عورتیں اعلی تعلیم حاصل کر کے اعلی عہدوں پر فائز ہو جاتی ہیں اور مرد تعلیم حاصل کر کے اعلی عہدے حاصل نہیں کر پاتے اور پھر اعلی تعلیم یافتہ عورتوں کو شادی کے لیے انپڑھ یا کم پڑھے لکھے مرد یا کم تر عہدوں پر فائز مرد ملتے ہیں یعنی علامہ اقبال کا یہ کہنا درست ہے کہ تعلیم اور ملازمتوں کے حصول میں ایسا توازن برقرار کیا جائے جس سے معاشرے کا خانگی نظام اور معاشرتی معاشی نظام بہتر ہو وہ عورت کی بطور ماں بہن بیٹی کے گھر کے اندر ذمہ داریوں دین کے مطابق انجام دینے کے قائل ہیں اگرچہ وہ اس پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں اور کہتے ہیں میں بھی مظلومی نسواں سے ہوں مغموم بہت وہ عورت کی تعلیم کے تو قائل ہیں لیکن ایسی تعلیم جو معاشرے میں توازن پیدا کریں جو مذہبی اخلاقی معاشرتی سطح پر عورت کی تربیت کر کرے تاکہ وہ معاشرے کا بہترین فرد بن کر اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے پورا کر سکے جو اس سے بطور ماں بہن اور بیٹی سونپی گئی ہیں کیونکہ اس پر نسلوں کی تعمیر کی ذمہ داری ہے اگر عورت اپنی اولاد کی تربیت دین سے کے مطابق کرے گی تو اس کا گھر اس کا دفتر اس کے شاگرد اس کی اچھی تربیت پا کر انہی خصائل و افکار کو اگے بڑھائیں گے اور یوں فرد فرد سے مل کر پورا معاشرہ مثبت سوچ کا ممنی بن جائے گا اسی لیے وہ کہتے ہیں افراد کے ہاتھوں میں اقوام کی تقدیر ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ عورت شرافت نزاکت حیا برداشت خوبصورتی محبت حلیمی خوش الہانی سیرت و کردار کا وہ مرقع ہے جو گھر کی روشنی بھی ہے اور معاشرے کا حسن بھی اس کے دم سے اس معاشرے کی رنگینی اور خوشبو ہے وہ ایسا پھول ہے جس سے نہ صرف گھر کا بلکہ پورے معاشرے کا گلستان مہکتا ہے وہ ایسی اکائی ہے جس جس پر معاشرے کی بنیاد رکھی جاتی ہے گھر اور معاشرے کی اس بلڈنگ میں اگر اس اکائی کی پہلی اینٹ ہی درست نہ ہوگی تو اس پر کھڑا ہونے والے گھر اور معاشرے کی بلڈنگ بھی بہتر نہیں بن سکے گی اس لیے وہ عورت کے لیے ایک متوازن تعلیم کی ضرورت پر زور دیتے ہیں وہ اس نظریے کے قائل ہیں کہ کوئی بھی معاشرہ عورت کی نفی کر کے اپاہج اور بانجھ ہو جائے گا لیکن عورت کو ایسی خود مختاری دی جانی چاہیے جس سے وہ اپنی شناخت اور پہچان قائم کر کے ذہنی اسودگی کے ساتھ بلند تر مقاصد حاصل کرے ان کا یہ کہنا فاطمہ تو ابرو امت معصوم ہے ذرہ ذرہ تیری مشت خاک کا مرحوم ہے ظاہر کرتا ہے کہ ان کے نزدیک عورت کی بطور ماں بہن بیٹی احسن طریقے سے پوری کی گئی ذمہ داریاں بے شک مجموعی طور پر قوم پر ایک احسان ہے وہ بی بی فاطمہ الزہرا کو عورت کے لیے رول ماڈل قرار دیتے ہیں لہذا پاکستان مسلم معاشرے کی خواتین کو بھی خود کو بی بی خدیجہ اور بی بی فاطمہ الزہرا اور بی بی زینب سلام اللہ کے کرداروں کی روشنی میں خود کو منظم کرنا اور اپنی شخصیت کو متوازن بنانا ضروری ہے






