سجدوں کے عوض فردوس ملے یہ بات مجھے منظور نہیںبے لوث عبادت کرتا ہوں بندہ ہوں تیرا مزدور نہیں
فرشتہ صفت انسان
سجدوں کے عوض فردوس ملے یہ بات مجھے منظور نہیں
بے لوث عبادت کرتا ہوں بندہ ہوں تیرا مزدور نہیں
خدا کو کسی نے نہیں دیکھا. اس کی ذات اقدس کی نشانیاں ہی ہیں. جن سے ہم اس کی ذات پاک کی موجودگی کا احساس کرتے ہیں. اللہ رب العزت نے اس دنیا میں کچھ نیک سیرت لوگوں کو اپنا نائب بنا کر بھیجا ہے. ان لوگوں کے روپ اور صالح اعمال سے خدا بزرگ و برتر کی عظمت اور چہرہ شناسی کا تصور دل و دماغ میں اپنے نقوش چھوڑتا ہے. آج ایسی ہی ایک عظیم الشان ہستی کے بارے میں قلم کشائی کی جسارت کرنے جا رہا ہوں. اس عظیم الشان ہستی کی خوبیوں اور صفات کو محض چند تحریروں میں قلم بند کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے. ہر دلعزیز، شیریں زباں، خوش لباس، خوش اخلاق، خوش شکل ،خوش گفتار، زیرک، ہنس مکھ، مہمان نواز، تحمل مزاج، کردار کا غازی،محفل کی جان، وسیع دستر خوان، سخی، عہد وفا کی تصویر، معلم، سیاسی رموز اوقاف کے ماہر، عظیم کھلاڑی، ادبی ذوق ،شاعرانہ مزاج ، گفتگو کے ماہر، عظیم مقرر، فیصل آباد کی ان و شان ، بہادر، نڈر، فرشتہ صفت، اعلی حسب و نسب ،انتہائی قابل صد احترام و ذی وقار شخصیت کے مالک چوہدری قمر الزمان اعوان (انٹرنیشنل کھلاڑی و سابق ممبر پنجاب اسمبلی) جو کسی تعارف کے محتاج نہیں. یہ ایک اعلی پایہ کے انسان ہونے کے ساتھ ساتھ اعوان برادری (قوم) کی شان و پہچان ،عظیم سیاست دان، کبوتر پروری کے ماہر بھی ہیں . ان کے آباؤ اجداد قیام پاکستان کے وقت بھارت کے ضلع جالندھر کے گاؤں علی پور سے ہجرت کرکے ساندل بار موجودہ فیصل آباد میں قیام پذیر ہوئے. ان کے والد گرامی چوہدری علی احمد اعوان المعروف بابا بولا جی نے اپنے خاندان کے ہمراہ شہر کے وسط میں سکونت اختیار کی. جو آج دنیا بھر میں بولیدی جھگی کے نام سے مشہور ہے. وہ برادری پروری کے بہت زیادہ قائل تھے. بھارت کے ضلع جالندھر میں اعوان برادری (قوم) کے اکیس دیہات ایک ہی جگہ آباد تھے. ان دیہاتوں سے جو بھی اعوان خاندان ہجرت کرکے پاکستان فیصل آباد آیا. چوہدری قمر الزمان اعوان کے والد گرامی نے انہیں یہاں آباد ہونے کے لیے بلامعاوضہ جگہ فراہم کی. ان کی سوچ تھی. کہ بھارت کی طرح ہماری اعوان برادری (قوم ) ایک ہی جگہ قیام پذیر ہو. تاکہ ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شامل ہو سکے. اور ہماری منفرد پہچان اور طاقت برقرار رہے. یہ عظیم سوچ ان کی اس وقت تھی. اسی عظیم سوچ کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے انہوں نے بولیدی جھگی میں صرف اور صرف اعوان برادری (قوم) کو آباد کیا. بولیدی جھگی کو آج دنیا بھر میں جانا پہچانا جاتا ہے. اس کے مقیم دنیا بھر میں رہائش پذیر ہیں. اس کے رہائشی نوجوانوں نے دنیا بھر میں اپنے وجود کا لوہا منوایا ہے. چوہدری علی احمد اعوان المعروف بابا بولا جی کا راشن ڈپو تھا. لوگ ان کا بے انتہا احترام کرتے تھے. ان کے عزیزوں و اقارب ان کے ایک اشارے پر اپنی جان قربان کرنے کو ہمہ وقت تیار رہتے تھے. ان کے تین بیٹے تھے. چوہدری گوہر نثار اعوان ،چوہدری قمر الزمان اعوان ،چوہدری امداد اعوان. تینوں بیٹے خداداد صلاحیتوں کے مالک تھے. چوہدری گوہر نثار اعوان بہادری ،دلیری ،جوانمردی میں اپنی مثال آپ تھے. وہ یاروں کے یار تھے. لوگ ان کی دل سے عزت کرتے تھے. وہ درویش صفت شخصیت کے مالک تھے.چوہدری امداد اعوان بھی قائدانہ صلاحیتوں کے مالک ہیں. چوہدری قمر الزمان اعوان بچپن سے ہی کچھ منفرد کرنے کے خواہاں تھے. ان کی سوچ بہت بڑی تھی. وہ دنیا میں ایک منفرد پہچان اور نام بنانا چاہتے تھے. اسی عظیم سوچ نے انہیں دنیا بھر میں عزت و شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا. زمانہ طالب علمی میں انہوں نے فٹ بال کھیلنا شروع کیا. اپنے کالج گورنمنٹ اسلامیہ کالج فیصل آباد کی فٹ بال ٹیم کے وہ مایہ ناز کھلاڑی تھے. ڈسٹرکٹ بھر کے کالجوں میں ان کے نام کا ڈنکا بجتا تھا. . زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کی فٹ بال ٹیم بھی ان کو اپنی طرف سے کھیلا کر فخر محسوس کرتی تھی. ان کے عمدہ کھیل کو دیکھتے ہوئے. قومی فٹ بال ٹیم کے سلیکٹرز نے انہیں پاکستان کی قومی فٹ بال ٹیم میں شامل کر لیا. انہوں نے اپنی سلیکشن کو اپنے عمدہ کھیل سے درست ثابت کیا. متعدد ممالک کے خلاف انہوں نے پاکستان فٹ بال ٹیم کی نمائندگی کی. محمڈن فٹ بال کلب (موجودہ بنگلہ دیش) نے ان سے ایک تحریری معاہدہ کیا. کہ آپ نے ہماری طرف سے لیگ کھیلا کرنی ہے. اس وقت جب مزدور کی ماہانہ تخواہ بیس روپے ہوتی تھی. انہیں پچیس ہزار ماہوار وظیفہ دیا گیا. بولیدی جھگی سے اٹھ کر پاکستان کی قومی فٹ بال ٹیم کا حصہ بننا. بلاشبہ ایک ناقابل یقین بات تھی. جس کو انہوں نے اپنی ہمت اور لگن سے سچ ثابت کر دکھایا. ان کے پاس اس وقت عالی شان گاڑی تھی. بھارت کے خلاف میچ کھیلتے ہوئے. ان کا گھٹنا زخمی ہو گیا. جس کے بعد انہوں نے فٹ بال کو خیر باد کہہ دیا. طبیعت میں کچھ کرنے کی بے چینی تھی. اس لیے آرام سے نہ بیٹھ سکے. تو کبوتر پروری کا شوق اختیار کر لیا. اس شوق میں بھی ان کا کوئی ثانی نہیں. نیل دنبے کبوتر کی نایاب نسل ان کی چھت کی پہچان ہے. انہوں نے کبوتر پروری کے متعدد مقابلہ جات میں حصہ لیا. اور کئ بار مسلسل چمپئن رہنے کا منفرد اعزاز حاصل کیا. پاکستان بھر کے کبوتر پروری کے شوقین حضرات سے ان کے مقابلہ جات ہوئے. انہوں نے چیلنج کر کے انہیں شکست دی. فیصل آباد سے انہیں اس قدر عشق ہے. کہ کوئی بھی فیصل آباد کو کچھ کہے. یہ اس کے مدمقابل کھڑے ہو جاتے ہیں. کبوتر پروری کے کھیل میں بھی انہوں نے فیصل آباد کے نام کو دنیا بھر میں روشن کیا ہے. ان کی شخصیت آج کی نوجوان نسل کے لیے مشعل راہ ہے. تمام تر وسائل ہونے کے باوجود انہوں نے کبھی سگریٹ، شراب نوشی نہیں کی.
شاعر






