#کالم

دوغلے اصول اور معاشرتی منافقت

Untitled 3

تحریر: ڈاکٹر عمرانہ مشتاق

دنیا میں منافقت کا سب سے خطرناک روپ وہ ہوتا ہے جو اصولوں، ایمان اور اخلاقیات کے لبادے میں چھپا ہوتا ہے۔ یہ وہ زہر ہے جو دھیرے دھیرے کسی قوم کے ضمیر کو مفلوج کر دیتا ہے۔ حال ہی میں ایران کے سابق قومی سلامتی مشیر اور اعلیٰ عہدے دار علی شمخانی کی بیٹی کی شادی کی ایک ویڈیو منظرِ عام پر آئی جس نے پورے مشرقِ وسطیٰ میں ہلچل مچا دی۔ اس ویڈیو میں شمخانی کی بیٹی ایک مغربی طرز کے سٹرپلِس گاؤن میں دکھائی دیتی ہے۔ سوشaل میڈیا پر یہ منظر وائرل ہوتے ہی عوام کے اندر غصے اور حیرت کی ایک لہر دوڑ گئی۔ وہی علی شمخانی جو برسوں سے ایران میں خواتین کے لیے حجاب اور اسلامی لباس کے نفاذ پر زور دیتے رہے، ان کی اپنی بیٹی نے اس “شرعی نظام” کی مکمل نفی کر دی۔

یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں بلکہ اس پورے مذہبی اور سیاسی نظام پر ایک گہرا سوالیہ نشان ہے، جو دہائیوں سے عوام کو "اسلامی اقدار” کے نام پر جبر و خوف کے سائے میں رکھے ہوئے ہے۔ ایران میں خواتین کے لیے حجاب نہ صرف ایک مذہبی فریضہ بلکہ ریاستی قانون کا درجہ رکھتا ہے۔ اس قانون کی خلاف ورزی پر خواتین کو گرفتار کیا جاتا ہے، ان پر تشدد کیا جاتا ہے، یہاں تک کہ انہیں سرِ عام ذلیل کیا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ 2022 میں مہسا امینی نامی نوجوان خاتون محض اس لیے گرفتار ہوئی کہ اس کے بالوں کا ایک حصہ اسکارف سے باہر تھا، اور وہ پولیس کی حراست میں جان کی بازی ہار گئی۔ اس کے بعد پورے ایران میں احتجاجی لہر پھیل گئی، مگر حکومت نے اس آواز کو طاقت کے زور پر دبا دیا۔

اب یہی عوام جب علی شمخانی کی بیٹی کی شادی کی ویڈیو دیکھتے ہیں، تو ان کے زخم ایک بار پھر تازہ ہو جاتے ہیں۔ وہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں: “کیا قانون صرف ہمارے لیے ہے؟ کیا دین کے اصول صرف غریب اور بے اختیار عورتوں کے لیے ہیں؟” یہی وہ سوال ہے جو معاشرتی عدل و انصاف کے توازن کو چیلنج کرتا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب مذہب کو ریاستی طاقت کے تابع کر دیا جاتا ہے تو وہ اپنی روح کھو دیتا ہے۔ مذہب انسان کو اخلاق، مساوات اور انصاف سکھاتا ہے، مگر جب اسے اقتدار کے تحفظ کے لیے استعمال کیا جائے تو وہ ظلم کے جواز کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ ایران میں حجاب کی پالیسی کو “اسلامی غیرت” کا عنوان دیا گیا، مگر حقیقت میں یہ عورت کی آزادی اور عزت کو محدود کرنے کا حربہ بن گئی۔

علی شمخانی جیسے رہنما مذہب کے نام پر عوام سے قربانیاں مانگتے رہے، مگر خود ان کے گھر کے اندر اس “اسلامی نظام” کی جھلک کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ ان کے خاندان کی آزادی، لباس کا انتخاب، اور طرزِ زندگی مغربی معاشرے سے زیادہ قریب ہے۔ یہی تضاد دراصل معاشرتی منافقت کی جڑ ہے — جب حکمران طبقہ خود ان اصولوں پر عمل نہیں کرتا جنہیں وہ عوام پر مسلط کرتا ہے۔

یہ مسئلہ صرف ایران کا نہیں، بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں پھیلا ہوا ہے۔ جہاں کہیں بھی مذہب یا اخلاقیات کو قانون کا درجہ دیا جاتا ہے، وہاں اشرافیہ کے لیے ایک علیحدہ راستہ بنایا جاتا ہے۔ ایک عام عورت اگر اپنے بال کھول لے تو “فحاشی” کہلاتی ہے، مگر وزیر یا جنرل کی بیٹی ایسا کرے تو اسے “ثقافت کی نمائندگی” کہا جاتا ہے۔ یہی دوغلا پن معاشروں کو کھوکھلا کرتا ہے۔

ایران کے عوام اس دوہرے معیار سے بخوبی واقف ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ حکومت عوام سے کفایت شعاری اور سادگی کا تقاضا کرتی ہے، جبکہ حکمرانوں کے اہلِ خانہ بیرونِ ملک عالی شان تقریبات مناتے ہیں۔ وہ عوام کو “مغربی اثرات سے بچنے” کا حکم دیتے ہیں، مگر خود کے بچے مغربی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں، وہاں کے کلچر میں جیتے ہیں، اور پھر عوام کو اسلام کے نام پر خطبے دیتے ہیں۔

پہلے عوام کے پاس آواز نہیں تھی۔ مگر اب سوشل میڈیا نے ہر خاموش شخص کو بولنے کا اختیار دے دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس ویڈیو نے چند گھنٹوں میں لاکھوں لوگوں تک رسائی حاصل کی اور ایران کے نوجوانوں نے اسے ریاستی منافقت کی علامت قرار دیا۔ “دوغلے نظام” کا ہیش ٹیگ ٹوئٹر اور انسٹاگرام پر ٹرینڈ کرنے لگا۔ نوجوانوں نے کہا کہ اگر حکمران طبقہ خود اسلام کی شرائط کو اہم نہیں سمجھتا تو عوام سے ان پر عملدرآمد کا مطالبہ کیوں کیا جا رہا ہے؟

یہ بغاوت صرف لباس کے مسئلے پر نہیں بلکہ عزتِ نفس اور مساوات کے احساس پر مبنی ہے۔ جب ایک معاشرہ اپنے عوام سے کچھ اور اور اپنے رہنماؤں سے کچھ اور توقع رکھتا ہے، تو وہاں انصاف مر جاتا ہے۔ یہی مرے ہوئے انصاف کی بدبو عوام کو سڑکوں پر لے آتی ہے۔

اسلام میں حجاب ایک عبادت اور شرم و حیاء کی علامت ہے، مگر جب ریاست اسے زبردستی نافذ کرے، تو وہ عبادت ایک سزا بن جاتی ہے۔ عبادات میں نیت کا خلوص سب سے اہم ہوتا ہے، اور جب نیت خوف سے بدل جائے تو روحانیت ختم ہو جاتی ہے۔ ایران میں یہی ہو رہا ہے — جہاں عورت حجاب نہیں بلکہ سزا سے بچنے کے لیے اسکارف اوڑھتی ہے۔

علی شمخانی کی بیٹی کی شادی کا منظر ایک علامتی واقعہ ہے۔ اس نے دنیا کو دکھایا کہ اصل مسئلہ “پردے” کا نہیں بلکہ “اختیار” کا ہے۔ جن کے پاس طاقت ہے وہ ہر قانون سے بالاتر ہیں، اور جن کے پاس کچھ نہیں وہی مذہب کے ٹھیکیداروں کے ظلم کا شکار ہیں۔

جب کسی قوم میں انصاف دو حصوں میں تقسیم ہو جائے — ایک اشرافیہ کے لیے نرم، دوسرا عوام کے لیے سخت — تو وہاں بغاوت ناگزیر ہو جاتی ہے۔ عوام کا اعتماد ٹوٹ جائے تو کوئی مذہبی نعرہ، کوئی اخلاقی درس، کوئی سیاسی وعدہ انہیں واپس نہیں لا سکتا۔ یہی خطرہ ایران کے سامنے ہے۔ نوجوان نسل مذہب سے نہیں، بلکہ مذہب کے نام پر کی جانے والی منافقت سے بیزار ہو چکی ہے۔

اگر

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے