#کالم

(غازی علم دین شہید کی برسی 31 اکتوبر پر خصوصی کالم)

Untitled 13 1

شمعِ رسالت کا پروانہ – غازی علم دین شہید
تحریر : رفیع صحرائی
rafisehraee5586@gmail.com
۔۔۔۔۔۔۔
صدا بصحرا
رفیع صحرائی
شمعِ رسالت کا پروانہ – غازی علم دین شہید
۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ 1927 کا ذکر ہے۔ لاہور کے ایک ہندو ناشر راج پال نے جس کا نام لکھنے کی یہاں جسارت بھی نہیں کی جا سکتی کہ حدِ ادب اور حرمتِ رسول ﷺ کا تقاضا یہی ہے۔ اس گستاخی بھری کتاب میں قرآنی آیات اور احادیث مبارکہ کی غلط تاویلات و تشریحات کے ذریعے پیغمبرِ اسلام کی شان میں گستاخی کی گئی تھی۔ اس کتاب کا مصنف روزنامہ پرتاب لاہور کا مدیر تھا مگر مسلمانوں کے ممکنہ ردِعمل کے خوف سے اس نے کتاب پر بطور مصنف اپنا نام دینے کی بجائے پروفیسر پنڈت چمپو پتی لال کا نام دیا تھا۔
جب یہ کتاب شائع ہوئی تو مسلمانوں میں بے چینی اور غصے کی لہر دوڑ گئی۔ ایک طرف انہوں نے اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے کے لیے جلسے جلوس منعقد کیے تو دوسری طرف قانون کا سہارا لیتے ہوئے راج پال پر کیس دائر کر دیا جس میں راج پال کو اس کی گستاخی پر سزا دینے اور کتاب کو ضبط کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔ سیشن کورٹ نے راج پال کو مجرم قرار دیتے ہوئے چھ ماہ قید کی سزا سنا دی مگر راج پال نے لاہور ہائی کورٹ میں اپنی سزا کے خلاف اپیل کر دی۔ اس وقت برِصغیر میں توہینِ مذہب کا کوئی قانون موجود نہ تھا جس کا فائدہ راج پال کو دے کر ہائی کورٹ نے اسے رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف پورے ہندوستان کے مسلمانوں میں اضطراب کی لہر دوڑ گئی۔ لاہور کے ایک غازی خدا بخش گجر نے 24 ستمبر 1928 کو راج پال کو اس کی دکان پر جہنم واصل کرنے کی کوشش کی مگر وہ جان بچا کر بھاگ نکلا۔ غازی خدا بخش کو سات سال قید کی سزا ہو گئی۔ افغانستان کے ایک غازی عبدالعزیز خان نے بھی راج پال ملعون کو جہنم کی طرف بھیجنے کی کوشش کی مگر راج پال کی غیرموجودگی میں اس کی دکان پر بیٹھے اس کے ایک دوست سوامی ستیانند کو راج پال سمجھ کر غازی نے قتل کر دیا۔ غازی عبدالعزیز کو 14 سال قید کی سزا ہو گئی۔
دوسرے مسلمانوں کی طرح لاہور کا بیس سالہ نوجوان غازی علم دین بھی راج پال کی ناپاک جسارت پر سخت مضطرب تھا۔ وہ ایک دین دار گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کا باپ مستری طالع مند فرنیچر بنانے کا کام کرتا تھا۔ علم دین بھی اپنے باپ کے ساتھ ہی فرنیچر سازی کا کام کرتا تھا۔ علم دین زیادہ پڑھا لکھا تو نہ تھا مگر عشقِ نبی ﷺ کے جذبے سے سرشار تھا۔ ایک احتجاجی جلسے میں اپنے بڑے بھائی مستری محمد دین کے ساتھ شریک تھا کہ مقررین کی تقریریں سننے کے بعد اس کے اندر حُبِّ رسول ﷺ کے سیلاب نے کناروں سے چھلکنا شروع کر دیا۔ 6 اپریل 1929ء کو اس نے انارکلی سے لمبے پھل والی چھری خریدی، اس کی دھار کو اچھی طرح تیز کروایا اور راج پال کے دفتر جا پہنچا۔ راج پال اس وقت دکان پر پہنچا ہی تھا۔ اس کے دو ملازم کیدار ناتھ اور بھگت رام بھی دکان میں موجود تھا۔ غازی علم دین چیتے کی طرح راج پال کے سر پر جا پہنچا اور چھری کے پے در پے وار کر کے اسے جہنم کے سفر پر روانہ کر دیا۔
شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال تک جب یہ خبر پہنچی تو وہ بے ساختہ کہہ اٹھے، "اسی سوچدے ای رہ گئے تے ترکھاناں دا مُنڈا بازی لے گیا”
(ہم سوچتے ہی رہ گئے اور بڑھئی لڑکا بازی لے گیا)
علم دین کو گرفتار کر لیا گیا۔ عدالت میں مقدمہ چلا اور صرف ڈیڑھ ماہ کے قلیل عرصے 22 مئی 1929ء کو سیشن جج مسٹر ٹیپ نے غازی علم دین کو سزائے موت کا حکم سنا دیا۔ سزا کے خلاف اپیل کے لیے محمد علی جناح کو ممبئی سے بلوایا گیا جبکہ لاہور سے فرخ حسین بار ایٹ لاء ان کے ساتھ شامل ہوئے۔انگریز سرکار ہندوؤں کو خوش کرنا چاہتی تھی۔ 17 جولائی کو ہائیکورٹ نے اپیل خارج کر کے سزا بحال رکھی۔ غازی علم دین کی سزا کے خلاف پریوی کونسل لندن میں بھی اپیل کی گئی مگر وہاں سے بھی ریلیف نہ مل سکا۔ اپیل خارج ہونے کے بعد مسلمانوں میں شدید غصے کی لہر دوڑ گئی۔ لاہور میں ممکنہ فسادات سے بچنے کے لیے غازی علم دین کو 3 اکتوبر 1929ء کو میانوالی جیل منتقل کر دیا گیا جہاں 31 اکتوبر 1929ء کو انہیں پھانسی دے دی گئی۔ غازی علم دین نے وصیت کی تھی کہ انہیں قبرستان میانی صاحب لاہور میں دفن کیا جائے لیکن ان کا جسدِ خاکی لاہور لانے کی بجائے انہیں میانوالی جیل کے اندر قیدیوں کے قبرستان میں دفن کر دیا گیا۔ سرکار کو ڈر تھا کہ میّت لاہور لائی گئی تو مسلمان جذباتی ہو جائیں گے جس کی وجہ سے ہندو مسلم فساد بھڑک اٹھے گا۔
مسلمان غازی علم دین کی وصیت پر عمل کے خواہاں تھے۔ علامہ محمد اقبال، سر محمد شفیع، مولانا غلام محی الدین قصوری، میاں عبدالعزیز اور دیگر رہنماؤں نے گورنر پنجاب سے ملاقات کی اور چند شرائط کے ساتھ غازی علم دین کے جسدِ خاکی کو لاہور منتقل کرنے کی اجازت حاصل کر لی۔
غازی علم دین کی میت 14 نومبر کو لاہور لائی گئی۔ اسی روز یونیورسٹی گراؤنڈ میں ان کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔ یہ جنازہ لاہور کی تاریخ کے بڑے جنازوں میں سے ایک کہا جاتا ہے۔ جنازہ کا جلوس ساڑھے پانچ میل لمبا تھا۔ قریباً چھ لاکھ مسلمانوں نے ان کی نماز جنازہ میں شمولیت کی۔ علامہ اقبال اور مولانا دیدار علی شاہ الوری نے شہید کو اپنے ہاتھوں سے لحد میں اتارا۔ لاہور میں بہاول پور روڈ کے کنارے غازی علم دین شہید کی آخری آرام گاہ موجود ہے۔
31 اکتوبر کا دن شمعِ رسالت ﷺ کے پروانے غازی علم دین شہید کی محبتِ رسول ﷺ میں جان کا نذرانہ پیش کرنے کی قربانی کا یادگار دن ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ایمان کا پہلا تقاضا رسول اللہ

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے