#کالم

حوصلے، وفا اور عزمِ راسخ کی علامت۔بیگم کلثوم نواز

Untitled 1

منشا قاضی حسبِ منشا

بیگم کلثوم نواز کا نام پاکستانی سیاست، تہذیب، اور نسوانی وقار کی تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا۔ وہ نہ صرف سابق وزیرِاعظم میاں محمد نواز شریف کی اہلیہ تھیں بلکہ ایک ایسی باوقار، باہمت اور اصول پسند خاتون بھی تھیں جنہوں نے زندگی کے ہر مرحلے پر وقار، صبر، اور استقلال کے ساتھ اپنی شناخت قائم کی۔ ان کی شخصیت میں ایک طرف مشرقی عورت کی شرم و حیا، قربانی اور محبت کا رنگ نمایاں تھا تو دوسری طرف ایک سیاسی رہنما کے حوصلے، تدبر اور قوتِ فیصلہ کی چمک بھی نمایاں نظر آتی تھی۔
بیگم کلثوم نواز 29 مارچ 1950 کو لاہور میں ایک تعلیم یافتہ اور متمول کشمیری گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد ڈاکٹر عبدالحفیظ نے اپنی اولاد کو نہ صرف دینی اقدار بلکہ اعلیٰ تعلیم کے زیور سے بھی آراستہ کیا۔ بیگم کلثوم نے اسلامیہ کالج لاہور سے گریجویشن اور بعد ازاں پنجاب یونیورسٹی سے اردو ادب میں ایم اے کیا۔ ان کا ادبی ذوق اور مطالعے سے لگاؤ عمر بھر ان کی شخصیت کا لازمی حصہ رہا۔
1971 میں ان کی شادی میاں محمد نواز شریف سے ہوئی، جو اس وقت ایک ابھرتے ہوئے صنعتکار تھے۔ وقت کے ساتھ جب نواز شریف سیاست کے میدان میں داخل ہوئے تو بیگم کلثوم نواز نے خاموشی سے مگر بھرپور انداز میں ان کا ساتھ دیا۔ وہ ہمیشہ پسِ پردہ رہ کر اپنے شوہر کے لیے حوصلے اور دعا کا سرچشمہ بنیں۔ شریف خاندان کی گھریلو زندگی میں وہ ایک مدبر اور محبت بھری ماں کی حیثیت رکھتی تھیں۔ ان کے بچے مریم نواز، حسین نواز اور حسن نواز اُن کی تربیت اور کردار کی گواہی دیتے ہیں۔
اگرچہ بیگم کلثوم نواز کبھی سیاسی شہرت یا اقتدار کی خواہش مند نہیں رہیں، مگر حالات نے انہیں سیاست کے میدان میں لا کھڑا کیا۔ اکتوبر 1999 میں جب جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹا، نواز شریف اور ان کے اہلِ خانہ کو قید و نظر بندی میں رکھا گیا، تب کلثوم نواز نے وہ کردار ادا کیا جو تاریخ میں مثال بن گیا۔
اس دورِ ابتلاء میں وہ ایک نڈر، باہمت اور غیرت مند عورت کے طور پر ابھریں۔ انہوں نے مسلم لیگ (ن) کو ایک متحد قوت کے طور پر قائم رکھنے کے لیے بھرپور جدوجہد کی۔ ان کا مشہور جلوس جو ماڈل ٹاؤن سے شروع ہوا اور پولیس نے ان کی گاڑی کو کرین سے اٹھوا لیا، پاکستانی سیاسی تاریخ کا ایک جرات مندانہ باب ہے۔ یہ منظر ایک علامت بن گیا — ایک عورت، ظلم کے مقابل کھڑی، اپنے شوہر کی بےگناہی کا علم اٹھائے ہوئے، اقتدار کے ایوانوں کو چیلنج کرتی ہوئی۔
کلثوم نواز کی جدوجہد محض اقتدار کی واپسی نہیں تھی، بلکہ وہ جمہوریت، آئین کی بالادستی، اور عوامی نمائندگی کی بحالی کی تحریک تھی۔ ان کے لہجے میں نرمی تھی مگر دل میں فولاد کی سی مضبوطی۔ انہوں نے قید و بند، نظر بندی اور خوف کی سیاست کے باوجود کبھی ہار نہیں مانی۔ ان کے نزدیک سیاست ایک خدمت تھی، اور وہ اس خدمت کو اپنی وفا کا حصہ سمجھتی تھیں۔
زندگی کے آخری برسوں میں، جب وہ سرطان کے مرض میں مبتلا ہوئیں، تو انہوں نے خاموشی اور وقار کے ساتھ یہ آزمائش بھی جھیلی۔ لندن کے ایک اسپتال میں ان کا علاج جاری رہا، مگر ان کی بیماری کے دوران بھی نواز شریف اور مریم نواز کو قید و مقدمات کا سامنا رہا۔ یہ ایک ایسا باب تھا جس نے پاکستانی قوم کو دکھ اور صبر کا گہرا سبق دیا۔ 11 ستمبر 2018 کو وہ اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئیں، مگر اپنے پیچھے عزم، حوصلے، اور قربانی کی ایک لازوال داستان چھوڑ گئیں۔
کلثوم نواز محض ایک سیاسی خاتون نہیں تھیں، ان کے دل میں ادب و فکر کا دریا بھی بہتا تھا۔ انہیں شاعری، کتابوں، اور روحانیت سے گہری دلچسپی تھی۔ ان کے گھر کا ماحول ہمیشہ سکون، تہذیب، اور محبت کا آئینہ دار رہا۔ وہ اکثر کہتی تھیں:
"قوت عورت کے لباس یا آواز میں نہیں، بلکہ اُس صبر میں ہے جو وہ دنیا کے طوفانوں میں قائم رکھتی ہے۔”
بیگم کلثوم نواز کا سیاسی و اخلاقی ورثہ آج بھی زندہ ہے۔ انہوں نے دکھایا کہ عورت اگر نیت صاف رکھے، مقصد بلند ہو، اور عزم مستحکم ہو، تو وہ قوموں کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ ان کی جدوجہد اس بات کا مظہر ہے کہ سیاست صرف اقتدار کا کھیل نہیں بلکہ ایک مقدس ذمہ داری بھی ہے۔
ان کی شخصیت میں خلوص، استقلال، برداشت اور وقار کا امتزاج تھا۔ وہ ایک ایسی خاتون تھیں جنہوں نے ہمیشہ وحدت، استقامت اور رواداری کا پیغام دیا۔
بیگم کلثوم نواز کی زندگی دراصل پاکستان کی خواتین کے لیے ایک درس ہے کہ عظمت صرف منصب یا اقتدار میں نہیں، بلکہ خدمت، قربانی اور وقار میں مضمر ہے۔ وہ روشنی کا وہ چراغ تھیں جو جمہوریت کے اندھیروں میں بھی بجھا نہیں۔
بیگم کلثوم نواز کی زندگی ایک عام خاتون سے ایک علامت تک کا سفر تھی۔ وہ اس بات کی زندہ مثال بن گئیں کہ ایک عورت، چاہے ماں ہو، بیوی ہو، یا رہنما اگر نیت خالص ہو اور مقصد سچا ہو تو وہ تاریخ کا دھارا بدل سکتی ہے۔
ان کی وفات کے بعد بھی، پاکستانی خواتین انہیں ایک حوصلے کی علامت کے طور پر یاد کرتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ عورت کی طاقت نعرے یا تقریر میں نہیں بلکہ اُس خاموش استقامت میں ہے جو وہ زندگی کی مشکلات کے سامنے ظاہر کرتی ہے۔
بیگم کلثوم نواز نے اپنی زندگی سے یہ پیغام دیا کہ عورت اگر حوصلہ کرے تو ظلم کے اندھیروں میں بھی چراغ جلا سکتی ہے۔ ان کی جدوجہد، ان کا وقار، ان کی محبت اور ان کا صبر آج بھی پاکستان کی سیاسی و اخلاقی تاریخ میں روشنی کی مانند چمک رہا ہے۔
ان کا نام تاریخ کے اوراق پر سنہری حروف میں لکھا جائے گا، کیونکہ وہ ایک ایسی باعزم خاتون تھیں جنہوں نے ثابت کیا کہ عورت اگر چاہے تو صبر سے انقلاب پیدا کر سکتی ہے، اور خاموشی سے تاریخ رقم کر

حوصلے، وفا اور عزمِ راسخ کی علامت۔بیگم کلثوم نواز

سو لفظوں کی کہانی

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے