#کالم

کالم:لفظوں کا پیرہن

Untitled 17

تحریر:غلام شبیرعاصم

خزاں رسیدہ پتے

پت جھڑ کے آغاز میں میں ایک ہی شجر کے وجود کا حصہ بننے والے مختلف پتے یکساں فطرت پر وجود میں ْآنے کے باوجود اپنی اپنی مخصوص حالت کا مظاہرہ کررہےہوتے ہیں۔کچھ پتے سبز،کچھ نیم زرد،کچھ مکمل زرد اور کچھ آدھے ہرے بھرے اور آدھے خشک ہوتے ہیں۔مگر جب پت جھڑ کا موسم جوبن پر ہوتا ہے پھر توایک ایک پتا شاخوں سے لا پتہ ہوجاتا ہے۔ ہرشاخ "ہجر کی ماری ہوئی”نظر آتی ہے۔درخت گویا بے لبادہ ہوجاتے ہیں۔اوپر آسمان کی طرف اٹھتی ہوئی بے برگ وثمر باریک شاخیں دیکھ کر محسوس ہوتا ہے،جیسے درخت بازووں کو آسمان کی جانب کھول کر بین کررہے ہوں۔پت جھڑ کے موسم میں خزاں رسیدہ اور رنجیدہ درختوں اور پتوں کی مغموم اور اجڑی سی حالت دیکھ کر فوراٙٙ تصور میں اپنا معاشرہ گھوم جاتا ہے۔جس کی مثال ایک درخت کی سی ہے۔جس میں انسان درخت کے پتوں کی طرح ایک فطرت پر ہوتے ہوئے بھی اپنی اپنی مختلف کیفیت اور مزاج رکھتے ہیں۔ہمارے معاشرہ کا تقریباٙٙ ہرفرد کسی نہ کسی اخلاقی اور جسمانی و روحانی بیماری میں مبتلا ہے۔ہر دوسرے تیسرے فرد کا رویہ اور کردار دوسرے انسانوں کے لئے نقصان اور پریشانی کا سبب بنا ہوا ہے۔ملاوٹ،جھوٹ اور دھوکہ و فریب کی وجہ سے نہ ہی کسی انسان پر اعتبار آتا ہے اور نہ ہی یہاں کی اشیائے روزمرہ پر اصلی ہونے کا یقین ہوتا ہے۔اپنے ہی وطن کی مصنوعات پر ہمیں یقین نہیں کہ یہ اپنی اصل حالت میں بھی ہوسکتی ہیں۔اکثر اشیائے خورد و نوش مضرصحت اور غیر معیاری ہیں۔معیار پرکھنے والے بااختیار اور ذمہ داران خود غیرمعیاری ہو چکے ہیں۔بیماریوں کی وجہ بننے والی اشیاء گلیوں بازاروں میں سرعام فروخت ہورہی ہیں۔کیمیکل ملا ہوا دودھ سرعام فروخت ہورہا ہے۔حتّٰی کہ انسانی جان بچانے والی ادویات بھی غیرمعیاری فروخت ہورہی ہیں۔میڈیکل سٹورز پر ایکسپائر میڈیسن فروخت ہونے کی خبریں کئی دفعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوچکی ہیں۔ایسی خبروں کے کمنٹس بوکس میں کمنٹس کا تانتا بندھا ہوتا ہے،کہ ڈرگ انسپیکٹرز یا دیگر متعلقہ افسران محکمہ صحت بھاری رشوت لے کر خاموش رہتے ہیں۔صرف اتنا ہی نہیں گلی محلوں میں میٹرک پاس لوگ عطائی ڈاکٹر بن کر لوگوں کی صحت اور جان کے ساتھ طرح طرح کے تجربات کرکے اپنی روزی روٹی کے لئے اپنے ہاتھ سیدھے کررہے ہوتے ہیں۔اگر کسی پوسٹ یا خبر کے بعد کوئی ایک آدھ چھاپہ پڑتا بھی ہے تو وہ صرف وائرل یا شائع ہونے والی خبر کے زیراثر وقتی طور پر ہوتا ہے۔غیر معیاری اور ملاوٹ شدہ اشیائے خورد و نوش کو چیک کرنے کے لئے محکمہ فوڈ اتھارٹی کا بھی یہی حال ہے۔حالانکہ ہمارا اس مذہب سے تعلق ہے جس کا نعرہ حق ہے کہ”جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں”۔آج ہمارا یہ حال ہے کہ استعمال کی جانے والی ہرشے غیرمعیاری اور ملاوٹ شدہ ہے۔ہم خدا اور روز حشر کو بھول چکے ہیں۔خوفِ خدا کوہڑپ کرنے والی ہماری وحشیانہ جہالت اور لاقانونیت کے پت جھڑ نے ہمارے معاشرہ کے شجرکو اپنی لپیٹ میں لے کر گویا اس کی ہیئت ہی بدل ڈالی ہے۔ہر پتہ اور ڈالی خزاں رسیدہ ہے۔ معاشرہ کا یہ شجر”حٙجر”بن چکا ہے۔جس کے وجود میں سے سبزہ اور نسل کی بالیدگی کی صلاحیت گویا معدوم ہوچکی ہے۔ہماری دعا ہے کوئی ایسا مسیحا آئے،جو ہمارے ملک و معاشرہ کو سرسبزوشاداب کردے۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے