#کالم

عدالتی نظام کی سست رفتاری اور انصاف کی فراہمی

WhatsApp Image 2025 10 21 at 23.56.49 1

تحریر: محمد ندیم بھٹی

پاکستان میں عدالتی نظام کو انصاف کی علامت سمجھا جانا چاہیئے، مگر افسوس کہ آج یہی نظام تاخیر، پیچیدگی اور سست روی کی علامت بن چکا ھـے۔ عدالتوں کے دروازے عوام کے لیے کھلے ضرور ہیں، مگر وہاں سے انصاف کا ملنا ایک خواب بنتا جا رھا ھـے۔ جو لوگ برسوں مقدمات کے چکر کاٹتے کاٹتے عمر رسیدہ ھو جاتے ہیں، وہ انصاف کے منتظر رہتے ہیں۔ سچ یہ ھـے کہ عدالتی تاخیر نے عوام کا بھروسہ متزلزل کر دیا ھـے۔ عدلیہ کسی بھی ریاست کا ستون ھـے۔ اگر یہ ستون کمزور ھو جائے تو پورا نظام لرز جاتا ھـے۔ پاکستان کے عدالتی نظام میں سب سے بڑی خامی یہ ھـے کہ مقدمات کی تعداد لاکھوں میں پہنچ چکی ھـے جبکہ ججوں کی تعداد اس کے مقابلے میں بہت کم ھـے۔ میں نے تحقیقات کی ہیں ایک سیشن کورٹ کا جج روزانہ درجنوں مقدمات سنتا ھـے مگر فیصلے نہیں ھو پاتے کیونکہ فائلوں کا بوجھ، دوسری پارٹی سے ملک کر گٹھ جوڑ کے بعد وکلاء کی عدم حاضری، پولیس کی تاخیر سے پیشی، اور گواہوں کی غیر موجودگی سب کچھ انصاف کی راہ میں ایک مضبوط دیوار بن جاتے ہیں۔ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ کہ عدالتوں میں زیرِ سماعت مقدمات میں زیادہ تر عام شہریوں کے ہیں، جن کا کوئی سیاسی یا مالی اثر نہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو برسوں امید لگائے بیٹھے رہتے ہیں کہ شاید کبھی اُن کا فیصلہ ھو جائے۔ کسی کے زمین کا جھگڑا ھـے، کسی کے وراثتی حق کا مسئلہ، کسی کے روزگار کا مقدمہ، مگر فیصلہ اُسی دن آتا ھـے جب وہ تھک کر ہار مان لیتا ھـے۔ عدالتوں میں مقدمات کی تاخیر کا ایک بڑا سبب تحقیقاتی اداروں کی کارکردگی بھی ھـے۔ پولیس کی ناقص تفتیش اور کمزور چالان اکثر کیسوں کو کمزور بنا دیتی ھـے۔ عدالتیں جب ثبوتوں سے محروم ھوں تو مجرم آسانی سے چھوٹ بھی جاتے ہیں جس کی مثال کمزور تفتیش ایف ائی آر نمبر 526/24 انارکلی تھانہ جس کی تفتیش انویسٹی گیشن اے ایس ائی محمد نصیر نے کی اور مدعی جونید خان اپنی ایک بہت بڑی رقم سے ھاتھ دھو بیٹھا انویسٹ گیشن افسر اے ایس ائی نصیر احمد کا کیس کے فیصلے کے بعد تھانے میی ملزمان کے ساتھ پارٹی کرنا اور کھانے می پالک گوشت بریانی ،مرغ قورمہ کا کھلا استعمال اور کھانے کے بعد نعرے بازی اس بات کا پیغام ھے کے رشوت کی رقم میں جوش و نعرے مارنا کا جشن تو بنتا ھے ۔ مجرم سے اس کیس سے بری ھونے کے 15 لاکھ روپے تین قسطوں میں وصول کئے گئے اور تقسیم کدھر کدھر کئے اس بات کا بہتر جواب انچارج انویسٹی گیشن محمد فرحان سب انسپکٹر ھی بتا سکتے ۔ اور ان دونوں سے بھی یہ سوال ایس پی انویسٹی گیشن جناب فرحت عباس جو کے ایک ایمان دار سینئر افسر ہیں وہ ھی پوچھ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ھـے کہ جرائم میں اضافہ ھو رھا ھـے کیونکہ مجرم جانتا ھـے کہ نظامِ انصاف کو سست کس ادائیگی پر کرنا ھـے، جس کے نتیجے میں وہ آسانی سے بچ سکتا ھـے۔ ایک عام شہری کے لیے عدالت جانا آسان نہیں۔ پہلے تو وکیل کی فیس، پھر تاریخوں پر تاریخ، پھر ہر پیشی پر وقت اور پیسے کا ضیاع۔ لوگ انصاف کے لیے آتے ہیں مگر نظام اُن سے اُن کا سکون چھین لیتا ھـے۔ کبھی وکیل ہڑتال پر ھوتے ہیں، کبھی عدالت میں بجلی نہیں، کبھی جج صاحب چھٹی پر۔ عوام کے لیے یہ نظام مایوسی کی علامت بن چکا ھـے۔ انصاف کی فراہمی کے لیے جدید دور میں ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ھـے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے اپنے عدالتی نظام میں ڈیجیٹل سسٹم متعارف کرا دیا ھـے۔ آن لائن سماعتیں، الیکٹرانک شواہد، اور فوری فیصلے وہاں معمول بن چکے ہیں۔ پاکستان میں بھی اس سمت کچھ پیش رفت ضرور ھـی ھـے مگر رفتار اتنی سست ھـے کہ عوام کو اس کے اثرات نظر نہیں آتے۔ عدلیہ میں اصلاحات کی اشد ضرورت ھـے۔ سب سے پہلے مقدمات کی تقسیم اس انداز سے کی جائے کہ کسی ایک جج پر زیادہ بوجھ نہ ھو۔ نئے ججز کی بھرتی کی جائے، پرانے کیسوں کے لیے خصوصی بنچ بنائے جائیں اور ہائی کورٹ میں اپیلوں کے عمل کو مختصر کیا جائے۔ جو کیس کئی سال پرانے ہیں، اُن کے لیے فوری فیصلے کے لیے الگ سیل قائم کیا جائے۔ حکومت کی بھی ذمہ داری بنتی ھـے کہ وہ عدالتی نظام کو مضبوط کرے۔ عدالتوں کو مالی وسائل فراہم کیے جائیں، جدید سہولتیں دی جائیں، اور تحقیقاتی اداروں کو تربیت دی جائے تاکہ وہ عدالتوں میں مضبوط شواہد پیش کر سکیں۔ صرف ججز پر بوجھ ڈال دینا مسئلے کا حل نہیں۔ جب تک پولیس، پراسیکیوشن، اور عدلیہ ایک مربوط نظام کے تحت کام نہیں کریں گے، انصاف خواب ھی رھے گا۔ ایک اہم پہلو یہ بھی ھـے کہ ہمارے معاشرے میں جھوٹے مقدمات کی بھرمار ھـے۔ لوگ معمولی رنجشوں پر ایک دوسرے کے خلاف کیس کر دیتے ہیں۔ اس سے عدالتوں پر مزید بوجھ بڑھتا ھـے۔ جھوٹے مقدمات کرنے والوں کے لیے سخت سزائیں مقرر کی جانی چاہئیں تاکہ عدالتی وقت ضائع نہ ھو۔ جج صاحبان اپنے فرائض ایمانداری سے ادا کر رہے ہیں، مگر اُن کی محنت کا نتیجہ تبھی نکلے گا جب پورا نظام شفاف بنایا جائے۔ صرف جج نہیں، وکلاء برادری کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھنی چاہئے۔ وکیل اگر نیک نیتی سے مقدمہ لڑیں، غیر ضروری التوا سے گریز کریں، اور عدالت کے وقت کا احترام کریں تو انصاف کی رفتار تیز ھو سکتی ھـے۔ ایک اور اہم پہلو عوامی آگاھی ھـے۔ اکثر لوگ اپنے حقوق اور قانونی چارہ جوئی کے درست طریقوں سے واقف نہیں۔ اگر عوام کو عدالتی نظام کے بارے میں شعور دیا جائے، تو جھوٹے دعوے کم ھوں گے اور حقیقی انصاف کے کیسز پر توجہ بڑھائی جا سکے گی۔ عدلیہ کو اپنا احتسابی نظام بھی مضبوط کرنا ھوگا۔ اگر کسی جج یا عدالت میں جانبداری یا غفلت ثابت ھو تو اس پر کارروائی لازم ھـے۔ انصاف کے تقاضے صرف فیصلوں سے پورے نہیں ھوتے بلکہ اُن فیصلوں پر عوامی اعتماد سے ھوتے ہیں۔ پاکستان کے آئین میں عدلیہ کو آزادی دی گئی ھـے، مگر یہ آزادی عوام کے مفاد میں استعمال ھونی چاہئے۔ اگر عدالتی فیصلے تاخیر کا شکار ھوں تو یہ آزادی بے معنی ھو جاتی ھـے۔ انصاف صرف دیا نہیں جانا چاہئے بلکہ ھوتا ہوا دکھائی بھی دینا چاہئے۔ ہمیں یہ بھی سمجھنا ھوگا کہ انصاف کی تاخیر دراصل ظلم کی ایک شکل ھـے۔ جب کسی غریب کے کیس کا فیصلہ برسوں بعد آتا ھـے تو اُس کے دل میں قانون کے لیے احترام ختم ھو جاتا ھـے۔ وہ یہی سوچتا ھـے کہ اگر طاقتور کا کیس ھو تو جلدی فیصلے آ جاتے ہیں، اور اگر غریب کا ھو تو فائلوں میں دب جاتا ھـے۔ یہی احساس محرومی معاشرتی بگاڑ پیدا کرتا ھـے۔ عدلیہ، حکومت، اور عوام — تینوں کو اپنی اپنی سطح پر کردار ادا کرنا ہوگا۔ حکومت اصلاحات لائے، عدلیہ تیزی لائے، اور عوام سچائی کو اپنا ہتھیار بنائیں۔ تبھی انصاف کی فراہمی ممکن ھو گی۔ پاکستان کے مستقبل کا انحصار انصاف کے نظام پر ھـے۔ اگر عدالتوں میں فیصلے جلد، منصفانہ اور شفاف ھوں تو قوم مضبوط ھو گی۔ انصاف صرف قانون کی بات نہیں، یہ قوم کے ضمیر کی علامت ھـے۔ ہمیں وہ وقت واپس لانا ھـے جب عوام عدالت کو امید کی جگہ سمجھتے تھے، نا کہ مایوسی کی اگر ہم نے آج اصلاحات نہ کیں تو آنے والی نسلیں بھی انہی تاریخوں کے چکر میں انصاف ڈھونڈتی رہیں . اور معاشرتی ترقی ایک خواب بن کر رھ جائے گا۔

عدالتی نظام کی سست رفتاری اور انصاف کی فراہمی

مصالحہ جات

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے