#کالم

بہاولپور میں  ڈینٹل کالج کی نوید 

Untitled 5

احساس کے انداز  تحریر :۔ جاویدایازخان

خوبصورت اور کھلے دل والوں کے شہر بہاولپور کی دھرتی ہمیشہ سے علم وادب،تہذیب وتمدن اور خدمت خلق کے حوالوں سے پہچانی جاتی رہی ہے ۔اسی لیے اس دھرتی کو "دارالسرور” بھی کہا جاتا تھا ۔یہ خطہ کبھی ایک ریاست کی صورت میں اپنی مکمل خود مختیاری کا علمبردار رہا  اور آج بھی اس کی شناخت علم وفن ،عدل وانصاف اور انسانی  خدمت کے اصولوں سے جڑی ہے ۔ یہاں کے ڈاکٹرز اور ماہرین طب نے پاکستان میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں بڑانام اورعزت  کمائی ہے ۔انہی روایات کی تازہ جھلک اس وقت دیکھی گئی جب ڈپٹی اسپیکرپنجاب اسمبلی جناب ملک ظہیر اقبال چنڑ صاحب نے حق نمائندگی ادا کرکے اسمبلی میں بہاولپور میں   ڈینٹل کالج کی آواز اٹھا کر ایک ہی لمحہ میں  پورے بہاولپو ر کے نوجوانوں اور لوگوں کی توجہ اور محبت سمیٹ لی ۔جہاں ڈینٹل کالج کے قیام کے لیے نہ صرف اعلان بلکہ اس پر فوری عملدرآمد بھی شروع کرانا ان کا وہ کارنامہ ہے جسے ہمیشہ یاد رکھا جاۓ گا ۔ان کی  بہاولپور کی پاکستان کے لیے خدمات اور اس  کالج کے بارے میں اسمبلی میں تقریر یقینا” یہاں کی تاریخ کا ہمیشہ حصہ رہے گی ۔یہ خطہ ایک عرصے سے قائداعظم میڈیکل  کے ساتھ منسلک ایک مکمل ڈینٹل انسٹی ٹیوٹ کے انتظار میں تھا ۔اور عمارت اور دیگر آلات کی موجودگی کے باوجود ایک طویل عرصے سے نامکمل یہ منصوبہ التوا کا شکار تھا ۔جو سی ایم پنجاب اور ڈپٹی اسپیکر پنجاب کی خصوصی توجہ اور کوشش سے فوری  فعال ہونے جارہا ہے ۔جو ایک قابل ستائش عمل ہے ۔بہاولپور کے لوگ سی ایم پنجاب محترمہ مریم نواز   اور ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی ظہیراقبال چنڑ کے شکرگزار ہیں کہ جن کی  کوششوں کی بدولت یہ بہت بڑا  تعلیمی تحفہ اور تاریخی اعزاز قائداعظم میڈیکل کالج  بہاولپور کو حاصل ہونے جارہا ہے ۔یہ ڈینٹل کالج صرف بہاولپور کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے جنوبی پنجاب کے عوام کے لیے بے پناہ سہولیات کا حامل ہوگا ۔اس سے قبل  جنوبی پنجاب میں یہ سہولت صرف ملتان میں میسر آتی تھی۔ 

دانتوں کی صحت اورعلاج کو دنیا بھر میں بڑی اہمیت دی جاتی ہے کیونکہ یہ مہنگا ترین علاج ہوتا ہے جو ہیلتھ انشورنس میں بھی کور نہیں ہوتا جبکہ دانت کا درد شدید ترین دردوں میں شمار ہوتا ہےاچھی صحت کی ابتدا ہمیشہ دانتوں سے شروع ہوتی ہے ۔یہ اچھی خبر بجلی کی سی تیزی سے خوشی بنکر پورے خطے میں پھیل گئی ۔وہ طلبہ جو برسوں سے دندان سازی کی تعلیم کے لیے لاہور ،ملتان ،یا اسلام آباد یا پھر بیرون ملک سفر اختیار کرنے پر مجبور تھے ۔اب اپنے  ہی شہر میں جدید سہولتوں سے آرستہ ادارے کے قیام پر خوشی سے نہال ہیں ۔والدین کے چہروں پر اطمینان کی ایک نرم روشنی جھلکنے لگی ہے ۔کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اب ان کے بچوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ مالی وسماجی تحفظ بھی میسر آسکے گا ۔ اور اس کالج سے ڈینٹل کے مختلف  شعبہ جات میں  پوسٹ گریجویشن اور اسپیشلائز  کرنے کا موقع ملے گا  ۔یہ طلبہ کے علاوہ ان باصلاحیت اساتذہ اور طبی ماہرین کے لیے بھی خوشخبری ہے جن کا تعلق بہاولپور یا جنوبی پنجاب سے ہے مگر وہ بڑے عرصے سے بہاولپور سے دور اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں ۔اب انہیں ضرور موقع ملے گا کہ وہ اپنے علاقے اور اپنے طلبہ  کی خدمت کر سکیں اور انہیں اپنے گھر میں ملازمت کے مواقع میسر آسکیں گے ۔جو یہاں کے ڈاکٹرز کے لیے پوسٹ گریجویشن اور اعلیٰ تعلیم کی سہولتیں فراہم کرنے کا باعث بن سکیں گے ۔اس کے علاوہ اس کالج کے بننے سے مختلف کیڈرز میں ملازمین کو  جابز ملنے کی توقعات ہوتی ہیں جو روزگار کے مواقع مہیا کرتی ہیں ۔

ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی نے جس جذبے اور خلوص کےساتھ یہ قدم اٹھایا ہے وہ سیاسی نہیں بلکہ خالصتا” عوامی خدمت کا مظہر ہے ۔عوامی نمائندے عموما” وعدے تو بہت کرتے ہیں مگر عمل کی زمین تک پہنچنے والے کم ہی ہوتے ہیں ۔مگر یہاں وعدہ ،نیت اورعمل تینوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لیا ہے ۔یہی وہ لمحہ ہوتاہے جب عوام سیاست پر نہیں خدمت پر یقین  کرتے ہیں۔عوامی سطح پر اس اعلان کو غیر معمولی پذیرائی ملی ہے ۔سوشل میڈیا سے لےکر گلی محلوں تک ہر زبان پر ایک ہی جملہ سنائی دیتا ہے "آخرکار بہاولپور کے طلبہ کاحق انہیں مل گیا ” لوگ اس اقدام کو جنوبی پنجاب کی محرومیاں دور کرنے کے ساتھ ساتھ یہاں کی ترقی کی سمت ایک اہم سنگ میل قرار دے رہے ہیں ۔صحت و تعلیم کے شعبے کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتے ہیں ۔اور بہاولپور کے حصے میں یہ دونوں ستون مضبوطی سے استوار نظر آتے رہے ہیں ۔ڈینٹل کالج کے قیام سے نہ صرف تعلیمی میدان میں وسعت پیدا ہوگی بلکہ طبی سہولتوں کا دائرہ بھی وسیع ہو گا ۔مستقبل میں یہاں سے فارغ التحصیل ڈاکٹرز پورے خطے میں خوشیاں اور مسکراہٹیں  بکھیرنے کا ذریعہ بنیں گے ۔یہ ادارہ ایک علمی چراغ کے ساتھ ساتھ انسانی ہمدردی اور معاشرتی خدمت کا مرکز بھی بن سکتا ہے ۔یہ بات قابل تحسین ہے کہ ڈپٹی اسپیکر صاحب نے محض اعلانات پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس منصوبے کے لیے عملی اقدامات کا آغاز بھی کردیا ہے اور اس کام کے اسٹاف اور فنڈز جاری کردئیے ہیں ۔عوام کی دعائیں ،نوجوانوں کے خواب اور علاقے کی ترقی کی امیدیں اب ایک ہی سمت میں بہہ رہی ہیں ۔بہاولپور کی تاریخ میں یہ دن ایک سنہری باب کی حیثیت سے لکھا جاۓ گا ۔جب ایک عوامی نمائندہ نے خدمت کے جذبے سے لبریز ہوکر ایک دیرینہ خواب کی تکمیل کا عزم کیا اور اس عزم کی تکمیل کےلیے اقدامات بھی کئے ۔

کہتے ہیں کہ جب نیت اچھی اور صاف ہو تو اللہ تعالیٰ بھی اپنی مدد کے  راستے کھول دیتا ہے ۔ڈینٹل کالج کا قیام صرف کسی عمارت یا چاردیواری   کا نام نہیں   بلکہ یہ ایک ترقی کے ایک عزم کی علامت ہے ۔جو کسی صدقہ جاریہ  سے کم نہیں ہے ۔ایک نئے دور کی  ایسی نوید جو بہاولپور کو پھر سے علم وخدمت  کا مرکز بنادے گا ۔ قائد اعظم میڈیکل کالج میں ڈینٹل کالج کا قیام اور شاندار آغاز صرف ایک تعلیمی منصوبہ نہیں ہے بلکہ یہ بہاولپور ی عوام کے خوابوں ،نوجوانوں کی امیدوں اورعوامی خدمت کے عزم کی تعبیر ہے ۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کالج کے لیے ملازمت کے مواقع بھی یہاں کے مقامی لوگوں کو ملیں تاکہ یہاں کی بےروزگاری  اور غربت میں کمی لائی جاسکے اور ان دوردراز علاقے میں کام کرنے والے یہاں کے مقامی اور سینئر  اساتذہ اور ماہرین کو یہاں ٹرانسفر کیاجاۓ تاکہ وہ اپنے علاقے میں اپنی صلاحیتوں کو بروکار لاسکیں ۔ ہم امید کرتے ہیں کہ  بہاولپور کی ترقی کا یہ سلسلہ یونہی جاری رہے گا  اور بہاولپور کےعوام کی خواہشات کو مدنظر رکھتے ہوے بہاولپور ائر پورٹ کی بحالی اور جنوبی پنجاب سیکٹریٹ کی تعمیر اور نئے اضلاع کی تشکیل  جیسے ادھورے کام بھی آپکی اور دیگر ایوان میں موجود نمائندگان کی توجہ  اور کوششوں سے ممکن ہو سکیں گے ۔انشاللہ ! 

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے