تحریک لبیک پاکستان پر پابندی کی منظوری
أج کا اداری
وفاقی کابینہ نے تحریک لبیک پاکستان( ٹی ایل پی ) پر پابندی عائد کرنے کی منظوری دے دی، ٹی ایل پی پر انسداد دہشتگردی ایکٹ 1997 کے تحت پابندی لگانے کی منظوری دی گئی، حتمی فیصلے کے لیے ریفرنس سپریم کورٹ بھیجا جائے گا
وزیراعظم شہبازشریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس کے ایجنڈے میں ٹی ایل پی پر پابندی لگانے کی سمری شامل تھی، پنجاب حکومت کی درخواست پر وزارت داخلہ نے سمری وفاقی کابینہ میں پیش کی۔
پابندی کی یہ سفارش تحریک لبیک کی جانب سے پنجاب میں کیے گئے حالیہ پُرتشدد مظاہروں کے بعد کی گئی تھی۔ ان پرتشدد مظاہروں میں پولیس کے ایک ایس ایچ او سمیت پانچ افراد کی قیمتی جانیں گئیں جبکہ درجنوں زخمی ہوئے تھے۔
ٹی ایل پی نے غزہ امن معاہدہ طے پا جانے کے بعد اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کے سامنے احتجاج کرنے کے لیے لاہور سے اسلام آباد کی جانب ’غزہ مارچ‘ کا آغاز کیا تھا اور لاہور میں پرتشدد جھڑپوں کے بعد مریدکے کے مقام پر پولیس اور مظاہرین کے مابین دوبارہ شدید جھڑپیں ہوئیں جس کے نتیجے میں جانوں کا زیاں ہوا۔
سانحہ مریدکے کے بعد ٹی ایل پی کی قیادت اور کارکنان کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا آغاز کیا تھا اور پنجاب پولیس کے مطابق اب تک صوبے بھر سے اس جماعت کے سینکڑوں کارکنان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ تحریکِ لبیک پاکستان کو پابندی کا سامنا ہے۔ قبل ازیں 2021 میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اس جماعت کو کالعدم قرار دیتے ہوئے پابندی عائد کی تھی۔ تاہم صرف سات ماہ کے عرصے کے بعد ٹی ایل پی کے احتجاج کے نتیجے میں ایک معاہدے کے تحت یہ پابندی ہٹا دی گئی تھی۔
قبل ازیں گزشتہ ہفتے پنجاب کابینہ بھی تحریک لبیک پاکستان ( ٹی ایل پی ) پر پابندی عبئد کرنے کی منظوری دے چکی ھے اور اپنی سفارشات وفاقی حکومت کو ارسال کر دی تھیں ۔
جسکے بعد وزیر مملکت طلال چوھدری کا کہناتھا کہ حکومت ٹی ایل پی کی سرگرمیوں کا بغور جائزہ لے رہی ھے اور پابندی پر غور کیا جاسکتا ہے
واضح ہو کہ بطورِ سیاسی جماعت تحریکِ لبیک الیکشن کمیشن آف پاکستان میں رجسرڈ ہے اور 2024 کے انتخابات میں بھی حصہ لیا تھا
وفاقی کابینہ کو بتایا گیا کہ 2016 میں قائم ہونے والی اس تنظیم نے پورے ملک میں شر انگیزی کو ہوا دی۔ تنظیم کی وجہ سے ملک کے مختلف حصوں میں شر انگیزی کے واقعات بھی ہوئے۔ 2021 میں بھی اس وقت کی حکومت نے ٹی ایل پی پر پابندی لگائی، جو چھ ماہ بعد اس شرط پر ہٹائی گئی کہ آئندہ ملک میں بدامنی اور پر تشدد کاروائیاں نہیں کی جائیں گی۔ تنظیم پر پابندی کی وجہ 2021 میں دی گئی ضمانتوں سے روگردانی بھی ہے۔‘
اعلامیے کے مطابق وفاقی کابینہ متفقہ طور پر اس نتیجے پر پہنچی کہ ٹی ایل پی دہشت گردی اور پرتشدد کاروائیوں میں ملوث ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان میں وفاقی حکومت کسی بھی سیاسی جماعت پر آئین کے آرٹیکل 17 کے تحت پابندی عائد کرنے کی کارروائی کر سکتی ہے اور اس ضمن میں وفاقی کابینہ کی منظوری درکار ہوتی ہے۔
کابینہ سے منظوری کے بعد 15 دن میں سپریم کورٹ میں ایک ریفرنس دائر کرنا ہوتا ہے اور اگر سپریم کورٹ یہ سمجھتی ہے کہ حکومت کے پاس موجود ثبوت کسی جماعت کو کالعدم قرار دینے کی کارروائی کے لیے کافی ہیں تو وہ الیکشن کمیشن کو حکم دے سکتی ہے کہ اس سیاسی جماعت کو تحلیل کر دیا جائے۔
تحریکِ لبیک کے علاوہ ماضی میں حکومت کی جانب سے سیاسی جماعتوں پر پابندی لگانے کی مثالیں موجود ہیں۔
جولائی 1954 میں کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان پر ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کی حکومت کا تختہ الٹنے کے الزام میں پابندی عائد کی گئی تھی۔
جماعت اسلامی بھی ماضی میں پابندی کی زد میں آ چکی ہے۔ پاکستان کے پہلے فوجی صدر ایوب خان کے دور میں جماعت اسلامی کو بھی پابندی کا سامنا کرنا پڑا جب 1964 میں حکومت نے ریاست مخالف سرگرمیوں اور غیر ملکی فنڈنگ کے الزام میں جماعت اسلامی کو کالعدم قرار دے کر اس کے اہم رہنماؤں کو گرفتار کیا۔
جماعت اسلامی کی جانب سے اس پابندی کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا اور عدالتِ عظمیٰ نے یہ پابندی ختم کر دی تھی۔
اس کے علاوہ 1971 میں صدر جنرل یحییٰ خان نے شیخ مجیب الرحمان کی عوامی لیگ اور نیشنل عوامی پارٹی پر بھی پابندی عائد کی تھی۔
نیشنل عوامی پارٹی کا قیام 1967 میں عمل میں آیا تھا اور قیام کے ابتدائی آٹھ برس میں ہی اسے دو مرتبہ پابندی کا سامنا کرنا پڑا۔ جنرل یحییٰ کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے بھی 1975 میں نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی عائد کی تھی۔
ماضی قریب میں جن جماعتوں کو پابندی کا سامنا کرنا پڑا ان میں سندھی قوم پرست جماعت جسقم بھی شامل ہے جس پر مئی 2020 میں پابندی عائد کی گئی تھی۔
’آئین کا آرٹیکل 17 یہ کہتا ہے کہ اگر کوئی سیاسی جماعت پاکستان کی خودمختاری یا ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہو تو اس سیاسی جماعت پر پابندی لگائی جا سکتی ہے






