پاکستان: ڈیجیٹل فراڈ کی زد میں
تحریر: خالد غورغشتی
دُنیا تیزی سے ڈیجیٹل نظام کی طرف بڑھ رہی ہے، مگر اس جدید ترقی کے ساتھ ساتھ آن لائن فراڈ اور دھوکا دہی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ بھی جنم لے چکا ہے۔ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم آج محض رابطے کے ذرائع نہیں بلکہ جعلی کاروبار، قرضوں اور مالی اسکیموں کے نام پر عوامی لوٹ مار کا میدان بن گئے ہیں۔ افسوس کہ اس صورت حال میں اکثر لوگ نہ صرف لُٹ رہے ہیں بلکہ شکایت کے باوجود کسی ادارے سے انصاف نہیں پا رہے۔
حال ہی میں مختلف متاثرین سے گفتگو کے دوران ان کے تجربات چُونکا دینے والے تھے۔ ایک خاتون نے بتایا کہ انھیں ایک آن لائن ورک گروپ میں شامل کیا گیا، جہاں مکمل قومی شناختی معلومات حاصل کرنے کے بعد انھیں کچھ رقم جمع کروانے کا کہا گیا۔ رقم جمع کروانے کے بعد مزید نیو ممبران شامل کرنے کا تقاضا کیا گیا، جو اس نے پورا کیا۔ انھوں نے یہ عمل دہراتے ہوئے تقریباً دو لاکھ روپے کا نقصان اٹھایا، جب کہ صرف تیس ہزار روپے واپس مل سکے۔
اسی طرح ایک دکان دار دوست کے ساتھ دل چسپ مگر افسوس ناک واقعہ پیش آیا۔ انھیں ان کے پڑوسی ڈاکٹر کے نام سے ایک جعلی واٹس ایپ پیغام موصول ہوا کہ گھر میں فوتیدگی ہو گئی ہے، لہٰذا فوری دس ہزار روپے بھیج دیں، صبح لوٹا دوں گا۔ دکان دار نے انسانی ہمدردی میں رقم بھیج دی، مگر اگلی صبح پتہ چلا کہ ڈاکٹر صاحب کے نمبر کا جعلی اکاؤنٹ بنایا گیا تھا۔ اطلاع دینے پر متعلقہ ادارے نے افسوس کے ساتھ کہا کہ "یہ نمبر فیک ہے”، یعنی کارروائی ممکن نہیں۔
سوال یہ ہے کہ ایسے جعلی نمبرز اور دو نمبری کے کاروبار کو کب تک پنپنے دیا جائے گا؟ عوام کی محنت کی کمائی، اس طرح ضائع ہوتی رہے اور قانون کب تک خاموش تماشائی بنا رہے گا؟
معاشرے کے کمزور اور مجبور طبقے معذور، بیمار یا بے روزگار افراد کے نام پر فلاحی تنظیموں اور آن لائن ویلفیئر گروپوں کے ذریعے بھی لوگوں کو دھوکہ دیا جا رہا ہے۔ اس کے سدباب کے لیے عوامی آگاہی ناگزیر ہے۔
ایک عالمی رپورٹ "گلوبل اسٹیٹ آف اسکیمز دو ہزار پچیس” کے مطابق پاکستان کو ہر سال تقریباً نو اعشاریہ تین ارب ڈالر کا مالی نقصان ڈیجیٹل فراڈ کی وجہ سے ہو رہا ہے، جو ملک کے مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً ڈھائی فی صد ہے۔ یہ نقصان بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے سات ارب ڈالر کے قرض پروگرام سے تینتیس فی صد زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان ان ترقی پذیر ممالک میں شامل ہے جہاں مالیاتی دھوکہ دہی معیشت کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے۔
عالمی سطح پر کیے گئے سروے میں بتایا گیا کہ دنیا کے ہر دس میں سے سات افراد گزشتہ برس کسی نہ کسی مالی اسکیم کا شکار ہوئے، جب کہ تیرہ فی صد لوگ روزانہ ایسی کوششوں کا سامنا کرتے ہیں۔
پاکستان میں فی فرد اوسط نقصان اگرچہ کم یعنی ایک سو انتالیس ڈالر ہے، مگر مجموعی طور پر یہ نقصان اربوں ڈالر کے معاشی اخراج کا باعث بن رہا ہے۔ دنیا بھر میں صرف گزشتہ برس ایسے فراڈز سے چار سو بیالیس ارب ڈالر کا نقصان رپورٹ ہوا۔
آن لائن خریداری (54 فی صد) جعلی سرمایہ کاری (48 فی صد) اور انعامی اسکیمیں (48 فی صد) سب سے عام فراڈ کی اقسام ہیں، جن میں بینک ٹرانسفرز (29 فی صد) اور کریڈٹ کارڈز (18 فی صد) کے ذریعے رقوم لوٹی گئی ہیں۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے سینئر جوائنٹ ڈائریکٹر ریحان مسعود کے مطابق، مالیاتی فراڈ اور اسکیم میں فرق سمجھنا ضروری ہے۔ اب بینک اکاؤنٹس یا والٹ اکاؤنٹس کے غلط استعمال کے امکانات کم ہو چکے ہیں، کیوں کہ سائبر سیکیورٹی کا نظام مضبوط بنا دیا گیا ہے۔ کسی بھی نئی ڈیوائس سے اکاؤنٹ استعمال کرنے کے لیے دو مرحلہ جات سے تصدیق اور بائیومیٹرک ویریفکیشن لازمی ہے۔
تاہم دھوکا دہی اکثر اسی وقت کامیاب ہوتی ہے جب صارف خود اپنی معلومات، جیسے پِن کوڈ یا او ٹی پی، کسی نامعلوم شخص کے ساتھ شیئر کرتا ہے۔ زیادہ تر متاثرین اپنی حساس معلومات خود ہی فراڈیوں کو دیتے ہیں، جو بعد میں غیر مجاز لین دین کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔
جاز کیش کے نمائندہ خیّام صدیقی کے مطابق، جیسے جیسے پاکستان کیش لیس معیشت کی طرف بڑھ رہا ہے، ویسے ویسے صارفین کا مالی تحفظ زیادہ اہم ہوتا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ فشنگ کالز، جعلی ایپس، اور آن لائن فراڈز کے طریقے روز بہ روز بدل رہے ہیں، اس لیے ٹیکنالوجی کے ساتھ عوامی تعلیم و آگاہی بھی ضروری ہے۔
اسی مقصد کے تحت اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی سرپرستی میں ایک ملکی سطح کی آگاہی مہم شروع کی گئی ہے، تاکہ عوام کو ڈیجیٹل اسکیمز، ان کے طریقہ واردات، اور بچاؤ کے اقدامات سے آگاہ کیا جا سکے۔
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاستی ادارے ڈیجیٹل فراڈ کے خاتمے کے لیے ایک جامع اور مؤثر حکمت عملی اپنائیں۔ کیوں کہ اگر یہ رجحان نہ رکا، تو آنے والے برسوں میں ڈیجیٹل ترقی کے ساتھ ڈیجیٹل تباہی بھی ہماری معیشت کا مستقل حصہ بن جائے گی۔






