#کالم

سو لفظوں کی کہانی طمانچہ

111

دوسو دیہاڑی دار مزدور تھا،
حالات کا مارا ہوا،
کام ملتا نہیں تھا،
مدد دینے کو کوئی تیار نہیں تھا،
محلے والے بھگاتے، رشتے دار دھتکارتے۔۔۔
حالات کا دباؤ سہہ نہ سکا، مر گیا۔۔۔
جس کا کوئی نہیں بنتا تھا،
اب کسی کا چاچا، کسی کا ماموں، کسی کا فلاں کسی کا فلاں۔۔۔۔
ناک بچانے کے لیے، دیگیں پکوانے کا اعلان باٹو نے کیا۔۔۔
کوئی کھانا نہیں پکے گا،
کفن بھی خیراتی ادارے کا ہو گا،
خیر دین بولا۔۔۔
کیونکہ،
دوسو کی وصیت ہے، جو زندگی میں مجھے دھتکارتے رہے،
مر کر میں انھیں دھتکارتا ہوں
وصیت کیا تھی، طمانچہ تھا۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے