بسنت: ایک خونی تفریح کی واپسی؟
تحریر: صفدر علی خاں
پاکستان، خصوصاً پنجاب میں بسنت کا تہوار کبھی رنگ، خوشی اور بہار کا استعارہ سمجھا جاتا تھا۔ آسمان پر رنگ برنگی پتنگیں، چھتوں پر قہقہے اور دوستی و محبت کے پیغام کے ساتھ یہ دن منایا جاتا تھا مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ تہوار ایک خونی کھیل میں تبدیل ہوگیا ۔ ایک ایسا کھیل جس نے نہ صرف درجنوں قیمتی جانیں نگلیں بلکہ سماجی بگاڑ، شور و غل اور قانون شکنی کا ایک سلسلہ بھی شروع کیا۔حکومت پنجاب کی جانب سے حالیہ خبریں کہ بسنت یا پتنگ بازی کو “محدود پیمانے” پر دوبارہ اجازت دی جائے گی، ایک بار پھر وہی خدشات زندہ کر رہی ہیں جنہوں نے پہلے ہی ہزاروں گھرانوں کو سوگوار کیا تھا۔ کیا چند دن کی تفریح کی خاطر ہمیں دوبارہ وہ منظر دیکھنے چاہییں جہاں کسی ماں کا لختِ جگر ایک دھاتی ڈور سے کٹ کر دم توڑ دے، بسنت پر پابندی محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں تھا بلکہ یہ ایک انسانی ضرورت تھی۔ جب دھاتی اور کیمیکل ملی ڈوریں انسانی گلے کاٹنے لگیں، جب موٹر سائیکل سوار اپنے خون میں نہائے نظر آنے لگے، جب معصوم بچوں کی جانیں پتنگ بازی کے جنون کی نذر ہونے لگیں ، تو حکومت کو مجبوراََ اس “تہوار” پر پابندی لگانا پڑی۔
جو لوگ آج اس کے احیاء کے حامی ہیں وہ یا تو ان اندوہناک حادثات کو بھول چکے ہیں یا پھر انہیں محض تجارتی مفاد نے اندھا کر دیا ہے۔ بسنت کے نام پر لاکھوں روپے کا کاروبار، ہوٹل انڈسٹری، ٹورزم، اور پریمیئم ایونٹس کا لالچ یقیناً موجود ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا انسانی جان سے بڑھ کر بھی کوئی مفاد ہو سکتا ہے؟ یہ کہنا کہ بسنت کو محدود پیمانے پر منانے کی اجازت دی جائے گی، ایک خوش فہمی کے سوا کچھ نہیں۔ ایک بار اگر لوگوں کو یہ اجازت دے دی گئی تو شوق دوبارہ زندہ ہو جائے گا۔ گلی محلوں میں پتنگ بازی کے مقابلے، ڈور فروشوں کی سرگرمیاں اور کیمیکل ڈور کے خفیہ استعمال کی نئی لہر شروع ہو جائے گی۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس کا پیچھا کرتے رہیں گے، چھاپے پڑیں گے، لوگ بھاگیں گے اور پولیس و عوام کے درمیان ٹکراؤ کے نئے مناظر سامنے آئیں گے۔ یعنی ایک تہوار کے نام پر ایک نیا انتظامی بحران جنم لے گا۔ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارے ہاں محدود اجازت کبھی محدود نہیں رہتی۔ چند علاقوں سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ جلد ہی پورے صوبے میں پھیل جائے گا۔ پھر پولیس کو ہر گلی محلے میں کارروائی کرنی پڑے گی، لوگ گرفتار ہوں گے، احتجاج ہوں گے اور نتیجہ ایک بار پھر تصادم، بدامنی اور قانون شکنی کی صورت میں نکلے گا۔ حکومت کے لیے یہ ایک نیا امتحان بن جائے گا کہ وہ تفریح اور تحفظ میں توازن کیسے قائم کرے اور افسوس کہ ماضی میں یہ توازن کبھی ممکن نہیں رہا کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ بسنت ایک ثقافتی علامت نہیں بلکہ ایک خطرناک رجحان بن چکا تھا اور نوجوانوں میں یہ مقابلے کا نہیں بلکہ لاپرواہی اور قانون شکنی کا ذریعہ بن چکا تھا۔اسی طرح پتنگ بازی کے ساتھ بجلی کے تاروں سے حادثات، فائرنگ، شور شرابا اور چھتوں سے گرنے کے واقعات بھی معمول بن جاتے ہیں۔ لہذا یہ تہوار اب خوشی نہیں بلکہ خطرہ بن چکا ہے۔اگر حکومت واقعی عوامی تفریح کے مواقع پیدا کرنا چاہتی ہے تو بہتر یہ ہوگا کہ وہ محفوظ، صحت مند اور تعمیری تفریح کے راستے نکالے- جیسے اسپورٹس فیسٹیولز، کلچرل میلے یا خاندانوں کے لیے تفریحی پارکس۔ لیکن ایک ایسے عمل کو بحال کرنا جو ماضی میں درجنوں جانوں کے ضیاع کا سبب بن چکا ہو، دانشمندی نہیں بلکہ غفلت ہوگی۔پنجاب حکومت کو یاد رکھنا چاہیے کہ بسنت کے نام پر اگر ایک بھی جان ضائع ہوئی تو یہ فیصلہ خوشی کا تہوار نہیں بلکہ افسوس کے دن میں بدل جائے گا۔ ہمیں اپنی روایات ضرور زندہ رکھنی چاہییں، مگر وہ روایات جو زندگی کو مسکراہٹ دیں، نہ کہ چھین لیں۔






