آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے
ھسٹری کا شاہد. ( شاہد بخاری)
سابق سیکرٹری امور خارجہ جناب شمشاد احمد خاں کی کتاب” وٹنس ٹو ہسٹری” کی تقریب پزیرائی مولانا ظفر علی خاں فاؤنڈیشن کے اوڈیٹوریم میں دیکھنے میں آئی ۔
تعارفی کلمات میں حکیم نسیم راحت سوھدروی نے کہا کہ جناب شمشاد احمد خاں کا شمار پاکستان کے سینیئر اور نیک نام بیو رو کریٹس میں رھا ھے۔ جنرل مشرف کے دور اقتدار میں بھی انہوں نے اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں نبھائیں ۔ انہوں نے پاکستان کی تاریخ کے اس دور کو قریب سے دیکھا بلکہ تاریخ بنتی دیکھی اور تاریخ کے عمل کا حصہ رہے ۔اس طرح ان کی یہ کتاب” وٹنیس ٹو ھسٹری” ہماری تاریخ کا اہم اور معتبر حوالہ بریگیڈئیر
صدیق سالک کی” وٹنیس ٹو سرنڈر” کی طرح ہے۔
جناب شمشاد احمد خاں نے دکھ بھرے لہجے میں کہا کہ جب کتاب گھر،کباب گھر،نیوز سٹینڈ،برگر سٹینڈ، بکس ھاؤ سز،وڈیو ھاؤسز
میں تبدیل ھو چکے ھوں تو کتاب چھاپنے کا کریڈٹ پبلشر کو جاتا ھے،جو مالی نقصان کا خطرہ مول لیتا ھے۔بچپن ھی سے ڈائیری لکھ کر سونے کی عادت کی بدولت، میں کتب لکھتا رھا ھوں کیوں کہ درست میٹیر ئیل وھاں سے مل جا تاہے۔
بطور فارن سیکریٹری مفصل ڈائیری لکھتا رھا۔دوران ملازمت ڈسپلنری کوڈ کے پیش نظر ھم کوئی بات نہیں کر سکتے۔بعد از ریٹائرمنٹ Dawn اخبار میں کالمز لکھنے شروع کئیے ۔جب پنجاب کے گورنر جنرل خالد مقبول چانسلر پنجاب یونیورسٹی تھے تب انھوں نے ساؤتھ ایشین سینٹر چلا نے کی اوفر کی ،وھاں میں نے ایران نیوکلئیر ایگریمنٹ پر بھی
مذاکرہ کروایا تھا،جو اب امریکی صدر ٹرمپ نے سکریچ کر دیا ھے۔اگر جنرل مشرف کی بر طرفی سے متعلق نواز شریف مجھے بتلا دیتے تو سال1999ء
میں 12۔اکتوبر اوپر یشن کی نو بت نہ آتی۔اس تبدیلی کا علم ھوتے ھی میں نے فوراً چار سو ایممبسڈرز کا ڈنر منسوخ کروا کے پرنس عبداللہ سے کہا کہ اب مزید کوئی بد مزگی نہ ھونے دیں۔رات 12 بجے جنرل باجوہ جو ISI میں تھے نے فون پر بتلا یا کہ آپ پہلے فیڈرل سیکریٹری ھوں گے۔ صبح سویرے میں نے ملیحہ لودھی اور امریکن سفیر کو جنرل باجوہ کے کمرے سے نکلتے ھوئے دیکھا۔ابتدائی دو برس صدر مشرف نے اچھے کام کئیے پھر وہ چودھریوں کے ھتھے چڑھ گئے،جنھوں نے Qلیگ بنوائی ۔بعد از ریٹائرمنٹ
پرو جسٹس افتخار چوہدری
وکیلوں کے جلوس میں بھی شریک رھا۔ھمارے حکمرا نوں کا قائد اعظم کے تصور سے ھٹنا ملک کے لئیے نقصان دہ ھے۔فارن پالیسی کو اندر سے ٹھیک کرنے کی ضرورت ھے۔اس کتاب کو آپ بھی کامران نیاز کی طرح پڑھیں جنھوں نے اغلاط کی نشاندھی کی۔
شوکت عمر نے کہا کہ
بھارتی ایٹمی دھماکوں کے بعد بھارت کو سمجھانے میں شمشاد صاحب کا میجر رول رھا۔بھارت دوستی میں بھی ان کی کا
وشیں کامیاب رھیں جو کار گل مہم جوئی سے متاثر ھوئیں۔کتاب کے مطالعے سے اندازہ ھوتا ھے کہ سفارت کاری اور منصوبہ بندی میں ھم انڈیا سے پیچھے ھیں۔
سیاسی تنگ نظری کی وجہ سے پاکستان آدھا رہ گیا۔۔
شمس عباس نے کہا کہ فارن سروس میں رانا شمشاد جیسے مثالی سفارت کار کم ھی دیکھنے میں آئے ھیں۔سی۔ٹی۔ بی۔ ٹی۔ معاھدے کے ضمن میں بھی یہ بھت فعال رھے اور ان کی حکمت عملی کامیاب رھی ۔
میڈم سلویٰ معین نے کہا کہ ھسٹری کے ساتھ ساتھ بھی اس کتاب میں بھت کچھ ھے۔ھسٹری ری پیٹ بھی ھوتی رھتی ھے لیکن رانا صاحب ھسٹری بنانے والوں میں سے ھیں۔ھیومین سائکو لوجی اس کتاب میں یہ ھے کہ ھیو مین برج بنا کر یہ پٹیالہ سے انبالہ اور وھاں سے بذریعہ ٹرین لاھور آئے ،حالاں کہ یہ مالیر کوٹلہ میں بھی با عزت رہ سکتے تھے لیکن ان کی بیوہ والدہ نے قائد اعظم کے مشن کو کامیاب بنانے کےلئے آزاد ملک پاکستان میں جانے کو تر جیح دی ۔
اس کتاب کے باب دھم میں 6 ماہ کی عمر میں یتیم ھو
جا نے والے کی فیلنگز نظر آتی ھیں،جو 6 برس کی عمر میں لاہور آگئے تھے۔
ڈاکٹر امجد علی نے کہا کہ کہ یہ کتاب ریسرچرز کے لیئے پرائمری سورس کا کام دے گی۔ماضی کا آ ئینہ بھی اس میں دکھائی دیتا ھے۔
کوتاہیوں کے باعث پاکستان
میں آنے والوں کے خوابوں کا شیرازہ بکھرنے کا کر ب بھی اس میں موجود ھے ۔
حب الوطنی ھمیشہ ان کی ھمسفر رھی۔یہ کتاب مایوسی سے نکالتی اور امید بندھاتی ھے اور بتاتی کہ اصل طاقت عوام کی ھے،اسے ھمیشہ مدنظر رکھیں ۔
صدر سٹیزن کونسل اوف پاکستان رانا امیر احمد خاں
ایڈووکیٹ نے کہا کہ یہ شاہ کار تاریخی کتاب بیسویں اوراکیس ویں دو صدیوں پر مشتمل عالمی تاریخ اور سفارت کاری کا احاطہ کرتی ھے،جسے لائیبریریوں کی زینت بنانا چاھئیے۔G.C.
میں مجھ سے دو برس سینئیر سابق صدر یونین شمشاد احمد خاں ایک ذھین و فطین،فراست والی
ویژن کے حامل،محب وطن،پاکستان سے ٹوٹ کر محبت کرنے والے،ایک کامیاب سفارت کار ھیں جو پاکستان کے لئیے نمایاں خدمات سرانجام دیتے رھے ھیں۔ایک فرض شناس،سلیم الطبع،صراط مستقیم پر رھتے ھوئے نیک نئیتی سے ملک وقوم کے مفاد میں،سر دھڑ کی بازی لگانے والے اعلیٰ اخلاق و کردار اور جرات رندانہ کے مالک،لگی لپٹی رکھے بغیر صاف گو ئی سے دو ٹوک بات کرنے والے، مخلص انسان،الللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق سچ کو سچ اور غلط کو غلط کہنے کی جراءت رکھنے والی رانا شمشاد جیسی صفات و کردار اور علم و بصیرت رکھنے والوں کو ھی پاکستان کے اعلیٰ مناصب پر ھو نا چاھیئے تھا لیکن افسوس صد افسوس
پاکستان کا سیاسی وسما جی نظام ایسا گلا سڑا ھے،جس کا خمیر صرف جھوٹ، خوشامد اور نا اھلی پر استوار ھے،جس میں بانیان پاکستان کی وژن کے مطابق کام کرنے کی تڑپ
رکھنے والوں کے لئیے کوئی گنجائش نھیں ھے۔اس کتاب کے مطالعے سے اپنی کمیوں کوتاھیوں سے آگاہ ھوکر پاکستان کوشاھراہ ترقی پر گامزن کیا جاسکتا ھے۔
ڈاکٹر صادق نے کہا کہ مصنف کا خاندان پٹیالہ میںset تھا لیکن قائد اعظم کی آ واز پر لبیک کہتے ھوئے ان کا خاندان انڈیا سے ھجرت کرکے پاکستان میں آگیا اور اس کی تعمیر نو میں مصروف ھو گیا۔انٹر نیشنل ریسر چرز کے لئیے یہ کتاب ریفرنس بک






