جاوید قاسم۔۔۔۔چند یادیں
روبرو۔۔۔۔محمد نوید مرزا
ہم سب کے دوست ،جدید غزل کے خوبصورت شاعر جاوید قاسم کو مرحوم لکھتے ہوئے انتہائی دکھ ہو رہا ہے۔قاسم ایک طویل بیماری سے لڑتے لڑتے موت کی وادی میں چلا گیا۔میرا اس سے مسلسل رابطہ رہا کہ وہ میرا بھائیوں جیسا دوست تھا۔اسے اپنی کتاب یا عشق مدد کی اشاعت کی فکر کھائے جارہی تھی۔یہ ذمہ داری ہم سب کے دوست میرے استاد بھائی نواب ناظم نے پوری کی اور کتاب شائع ہو گئی۔جس دن میں جنرل ہسپتال میں اس سے ملنے گیا اور کتاب کی چند کاپیاں اسے دیں تو اس کی خوشی دیدنی تھی۔پہلی کاپی اس نے مجھے ہی دستخط کر کے دی۔یوں لگتا تھا کہ اس کتاب کی اشاعت نے اس کے جسم میں بے پناہ طاقت بھر دی ہے۔اسی دن وہ ہسپتال سے گھر چلا گیا۔طبعیت بہتر لگ رہی تھی۔اس کے بعد میرا اس کے بھائی سے رابطہ رہا۔جس کے بعد معلوم ہوا کہ گھر آکر طبعیت پھر بگڑ گئی ہے۔میں نے اس کے بھائی سے کہا کہ آج سے تین چار ہفتے پہلے جاوید نے مجھے کہا تھا کہ کہیں اس پر کوئی جادو تو نہیں ہو گیا۔میں نے اس کے بھائی کو ایک بزرگ سے رابطہ کرنے کا کہا تو انھوں نے کہا کہ اس پر سائے کا اثر ہے ،اسے میرے پاس لائیں۔لیکن کوشش کے باوجود یہ۔ کام نہ ہو سکا اور وہ زندگی سے روٹھ گیا۔
یہ شاید آج سے تیس سال سے بھی زائد پرانی بات ہے ،جب جاوید راہی نام کا ایک نوجوان شاعر میاں چنوں سے لاہور آیا اور سب سے پہلے اس کی ملاقات میرے والد محترم شاعر درویش بشیر رحمانی مرحوم سے ہوئی۔یہ تعلق وقت کے ساتھ اتنا پختہ ہوا کہ والد صاحب نے اسے اپنا بیٹا بنا لیا یوں راہی میرا منہ بولا بھائی بن گیا۔ایک طویل عرصہ جاوید راہی کے نام سے شعر کہنے والا بعد ازاں جاوید قاسم بن گیا تھا۔اس میں تو کوئی شبہ ہی نہیں کہ وہ ایک باصلاحیت اور جدید لہجے کا شاعر تھا۔اردو کی غزلیہ شاعری میں اس کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا۔
میں لاہور میں ہوتے ہوئے بھی تقریبات میں نہیں جاتا تھا۔جاوید قاسم جب بھی گھر آتا وہ مجھے ٹی ھاؤس یا کسی تقریب میں کھینچ کر لے ہی جاتا تھا۔یوں جاوید قاسم سے میری دوستی گہری ہوتی چلی گئی اور وہ میرے لئے گھر کے فرد کی طرح ہو گیا۔لیکن اپنے آبائی گھر کو چھوڑنے کے بعد ہماری ملاقاتیں کم ہو گئیں۔فون پر بھی رابطہ کم رہا۔تاہم پچھلے چند برسوں میں اس کی بیماری کے بعد ایک مرتبہ پھر ملاقاتیں اور رابطے بحال ہوئے۔جاوید قاسم کے بھائیوں،رشتہ داروں،بیوی بچوں اور دوستوں نے اسے بیماری سے نکال کر زندگی کی طرف لانے کی بے حد کوشش کی مگر موت اس کے وجود میں اپنے پنجے گاڑ چکی تھی۔سو 15 اکتوبر اس کی زندگی کا آخری دن ثابت ہوا۔
جاوید قاسم ایک اچھا شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مخلص دوست بھی تھا۔میری پہلی کتاب ٹھنڈا سورج تو استاد صاحب علامہ ذوقی مظفر نگری کی اصلاح کے بعد شائع ہوئی،اس وقت میری عمر 22 برس تھی۔تاہم دوسری کتاب ،چہروں سے بھری آنکھیں اس کے تین برس بعد شائع ہوئی۔اجسے بے حد پذیرائی حاصل ہوئی ۔شہزاد احمد نے اس کا دیباچہ لکھا اور مظفر علی سید نے اسے سال کے تین بہترین مجموعوں میں سے ایک قرار دیا۔س سے پہلے جاوید قاسم مجھے استاد سے باغی کر چکا تھا۔میں نے اپنا کلام اصلاح کے لئے پیش کرنا چھوڑا تو استاد نے بھی مجبور ہو کر مجھے اپنے فارغ الاصلاح شاگردوں میں شامل کر لیا۔استاد کی جس قدر خدمت میرے والد بشیر رحمانی نے کی وہ کوئی سگی اولاد بھی نہیں کر سکتی۔
جاوید قاسم کے مزاج میں بظاہر تلخی نہیں تھی لیکن دنیاوی رویے اسے شاعری میں بہت کچھ کہنے پر مجبور کر دیتے تھے۔ایسی ہی کسی ساعت میں اس نے یہ خوبصورت شعر کہا۔۔۔۔
آج سے توڑ دئیے میں نے بھی رشتے سارے
آج سے میں نے بھی دیوار پہ ماری دنیا
مگر یہ شعر بھی تو اسی کا ہے۔۔۔۔۔
فراموش کر دو اب ان تلخیوں کو
کہاں دم نکل جائے کس کو خبر ہے
میری جاوید قاسم سے دوستی میں کبھی کوئی اختلاف نہیں رہا،سوائے اس بات کے کہ اس نے کئی بے بحروں کو شاعر بنا دیا اور کئی متشاعروں کو صاحب کتاب کر دیا۔مگر یہ اس کی مجبوری تھی۔وہ ایک سچا فنکار تھا اور معاشی مسائل کے حل کے لئے اس کے پاس کوئی باقاعدہ ملازمت نہ تھی۔میں نے اسے بارہا کہا کہ تم ایک سنار ہو ،اس کام کو ہی چھوٹے پیمانے پر جاری کرو،مگر وہ یہ بات نہیں سمجھا اور پہلے ایک رسالے کا مدیر بنا اور پھر خود پبلشر بن گیا۔لیکن یہ کمائی بھی ناکافی تھی۔جب وہ بیمار ہوا تو بھائیوں نے بھر پور ساتھ دیا۔تاہم میری آج سب شاعروں اور ادیبوں سے درخواست ہے کہ وہ شعر و ادب کے ساتھ اپنے روزی روٹی کے مسائل بھی حل کریں ورنہ زندگی راستے میں تنہا چھوڑ دے گی۔
جاوید قاسم کے تین شعری مجموعے شائع ہوئے لیکن اگر وہ میری بات مان لیتا تو یہ تعداد دس بارہ سے آگے نکل جاتی۔ایک تخلیق کار کا سرمایہ اگر کسی اور کے ہاتھ چلا جائے تو وہ خود بھی دکھی ہوتا ہے۔جاوید قاسم بھی دکھی رہا ہے۔ان دکھوں نے ہی شاید اسے بیمار کر دیا ہو۔
جاوید قاسم کے تین مجموعے شائع ہوئے۔ایک مجموعے کا دیباچہ مجھے بھی لکھنے کا اعزاز حاصل ہے اس نے بھی میری کئی کتب پر اپنی رائے دی۔ہمارا دوستانہ تعلق بہت مضبوط رہا۔جاوید قاسم نے شاعری کے علاؤہ ایک ناول بھی لکھا،جو یقینی طور پر شائع ہونا چاہیے لیکن میرے نزدیک وہ اول و آخر غزل کا ایک خوبصورت شاعر تھا۔آئیے اس کے چند اشعار کا لطف لیں۔۔۔۔
میرے جینے کی ایک صورت ہے
میرے سینے سے دل نکل جائے
اس سے پہلے کہ چراغوں کو ہوا لے جائے
روشنی جتنی ملے جس کو اٹھا لے جائے
سیکڑوں کافر تھے،تنہا برسر پیکار میں
بابری مسجد کی صورت ہو گیا مسمار میں
روز اول سے بوجھ ہے قاسم
چار کاندھوں پہ چارپائی مری
تجھ کو بھی ایک روز مرنا ہے
نار دوزخ سوں ڈر خدا





