عدالتی ریکارڈ کو آگ لگنا نظام کی غفلت ؟
تحریر۔ محمد ندیم بھٹی
عدالتوں کو انصاف کا دربار کہا جاتا ھـے، یہ وہ مقام ھـے جہاں شہری اپنے دکھ درد ناانصافی اور ظلم کا مداوا ڈھونڈنے آتے ھیں، مگر جب انہی عدالتوں کے ریکارڈ کو آگ اپنی لپیٹ میں لے لے تو سوال یہ پیدا ھوتا ھـے کہ آخر انصاف کا ریکارڈ کس کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ھـے، لاھور کی عدالتوں میں ریکارڈ روم میں لگنے والی آگ محض حادثہ نہیں بلکہ ایک پورے نظام کی غفلت لاپرواہی اور ذمہ داری سے فرار کی عکاس منظر کشی ھـے، یہ کوئی معمولی آگ نہیں تھی بلکہ وہ آگ تھی جس نے مقدمات کی تاریخوں شواہد اور برسوں کی محنت کو چند لمحوں میں راکھ کر دیا، ان فائلوں میں وہ دعوے وہ دستاویزات اور وہ شواہد تھے جن کے بغیر کسی مقدمے کی حقیقی جانچ ممکن نہیں، جن مقدمات کے فیصلے قریب تھے اُن کا ریکارڈ جلنے سے انصاف کا عمل مزید مفلوج ھو گیا اور اس کا براہِ راست خمیازہ عام شہری کو بھگتنا پڑے گا، پہلا سوال یہ ھے کہ عدالت کے اندر اتنے اہم ریکارڈ کو محفوظ رکھنے کے بنیادی انتظامات کیوں نا تھے، فائر الارم مناسب فائر ایکسٹینگشرز ایمرجنسی ایگزٹ راستے اور ڈیجیٹل بیک اپ جیسے بنیادی اقدامات کیوں نافذ نہ تھے، یہ وہ بنیادی سوالات ھیں جن کا جواب نہ ملنا محض ایک تکنیکی قصور نہیں بلکہ نظامی غفلت کی نشانی ھـے، میں نے بارہا ایسے واقعات دیکھے جن میں شارٹ سرکٹ یا برقی خرابی کو ذمہ قرار دے کر معاملہ دفن کر دیا گیا مگر آگر یہ شارٹ سرکٹ ہر اس جگہ ھوتا ھے جہاں حساس ریکارڈ ھو تو اس پر شک کرنا لازمی ھے، کیا ممکن نہ ھے کہ بعض قوتیں مفاد پرست عناصر یا وہ لوگ جو کسی مقدمے کے نتائج سے براہِ راست متاثر ھوتے ھیں جان بوجھ کر شواہد کو تلف کرانا چاہتے ھوں، اگر اس امکان کی تفتیش نہ کی گئی تو انصاف ہمیشہ سوالیہ نشان بنا رھے گا، عدالتی ریکارڈ کی حفاظت ایک انتظامی اور قانونی ذمہ داری ھـے، یہ ذمہ داری صرف عملے تک محدود نہیں بلکہ عدالتی انتظامیہ متعلقہ محکمہ جات اور اس کے فرائض سرانجام دینے والے افسران بھی اس کے برابر ذمہ دار ھیں، اگر تفتیش سے یہ بات ثابت ھوتی ھے کہ ریکارڈ کی عدم حفاظت محض غفلت تھی تو اس غفلت کو محض ملازمت سے معطلی یا زبانی نوٹس سے نہیں نمٹانا چاہیے بلکہ قانون کے تحت مجرمانہ غفلت کا طویل اور مکمل تعاقب ھونا چاہیے تاکہ مستقبل میں کوئی بھی ادارہ اس قسم کی لاپرواہی کی جرات نہ کرے، مجرمانہ غفلت کی کارروائی کا مطلب واضح ھے کہ جب سرکاری عملہ یا افسران اپنی ذمہ داریوں سے چشم پوشی کرتے ھیں یا حفاظتی اصولوں کو نظر انداز کرتے ھیں اور اس کی وجہ سے عوامی مفاد کو نقصان پہنچتا ھے تو انہیں ان حالات کے تحت قانون کے مطابق جوابدہ لٹھہرانا ضروری ھے، لصرف نام نہاد تحقیقات اور رپورٹس جاری کر کے معاملہ طے نہیں پائے گا، ذمہ داران تک کارروائی، ثبوتوں کی بازیابی کی کوششیں اور شفاف تفتیش عوام کے اعتماد کی بحالی کے بنیادی ستون ھیں، اگر شواہد مٹ گئے ھیں تو بھی جدید فورینسک طریقہ کار اور ڈیجیٹل ریکارڈنگ گواھوں کے بیانات اور عدالت کے اندر موجود دیگر انتظامی دستاویزات سے از سرِنو شواہد حاصل کرنے کی مکمل کوشش کی جانی چاہیے، اس کے ساتھ ساتھ عدالتی عملے کے وہ افراد جنھیں ریکارڈ تک مستقل رسائی تھی اُن کا فوراً کنٹرول اور سوال جواب کیا جانا چاہیے، اگر کسی سطح پر جان بوجھ کر ریکارڈ کی حفاظت میں کوتاہی برتی گئی تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی لازمی ھے، یہاں ایک اور شق قابلِ غور ھے کہ عدالتی ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن اب کوئی نفیس دور کا خواب نہیں بلکہ ضرورت بن چکی ھے، ہر فائل ہر دستاویز اور ہر مقدمے کی ترمیم شدہ نقل کلاؤڈ اور آف سائٹ بیک اپس میں رکھی جانی چاہیے تاکہ آگ سیلاب یا کسی بھی حادثے کی صورت میں انصاف کے ثبوت محفوظ رہ سکیں، یہ عمل وقتی اخراجات مانگتا ھے مگر اس کے بغیر انصاف کمزور رہ جائے گا، عدالتی بجٹ سے مختص معمولی رقم بھی اگر اس مقصد کے لیے جاری کی جائے تو آئندہ ایسے واقعات کے تباہ کن اثرات روکے جا سکتے ھیں، ہمیں یہ سوچنا ھوگا کہ عدالت کا ریکارڈ صرف کاغذ کا ڈھیر نہیں بلکہ لوگوں کے مستقبل ان کی عزت زمین اور جان کے مقدمات کا محور ھے، جب یہ محور ہی ناقص حفاظتی اقدامات کی وجہ سے تباہ ھو جائے تو انصاف کا نظام ھی متزلزل ھو جاتا ھے، ایسے میں شفاف فوری اور کڑی کارروائی کرنا ناگزیر ھے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ھو، عدالتوں کی قیادت کو چاہیے کہ وہ نہ صرف ذاتی بیانات جاری کرے بلکہ ایک شفاف اور عوامی سطح پر نظر آنے والی تفتیشی کمیٹی بنائے جو آزادانہ طور پر ذمہ داران کا تعین کرے، اس تفتیش کے نتائج عوام کے سامنے واضح طور پر پیش کیے جائیں اور جہاں جہاں مجرمانہ غفلت ثابت ہو وہاں متعلقہ افراد کو قانون کے مطابق سزا دی جائے، سزا کی نوعیت اور شدت اس بات کی نمائندہ ھونی چاہیے کہ کسی بھی سرکاری ادارے میں لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی، اس کے علاوہ فائر سیفٹی کے تقاضے ریکارڈ کی ذخیرہ اندوزی کے معیارات اور ایمرجنسی ردعمل کے لیے ایک مربوط پلان فوراً وضع کیا جائے، ہر عدالت میں فائر ڈرل ریکارڈ بیک اپ اور ذمہ داریوں کی واضح تقسیم لازمی طور پر نافذ کی جائے، یہ اقدامات محض تکنیکی نہیں بلکہ انصاف کی بقاء کے لیے لازمی حکمتِ عملی ھیں، ہمیں یہ نہیں بھولنا چاھئے کہ انصاف کا تعلق شواہد سے گہرا ھے، اگر شواہد موجود نہ رہیں تو کوئی بھی عدالت مکمل انصاف فراہم نہیں کر سکے گی، اس لیے ریکارڈ کی حفاظت صرف تکنیکی معاملہ نہیں بلکہ اخلاقی قانونی اور سماجی فرض بھی ھے، جو لوگ اس فرض کو نظر انداز کریں انھیں قانون کے مطابق جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے تاکہ آئندہ کوئی بھی شخص یا افسر اپنے فرائض سے روگردانی کی ہمت نہ کرے، لاھور






