#کالم

تبدیلی موسم کے اثرات اور احتیاطیں

WhatsApp Image 2025 10 21 at 23.36.23

حکیم حارث نسیم سوہدروی

harrisnaseem080@gmail.com
وقت کا ہوائی گھوڑا لمحوں کی روش پر ہمیشہ رواں دواں رہتا ہے۔ یہ روانی گرمی کو سردی، سردی کو گرمی، بہار کو خزاں اورخزاں کو بہار کے رنگوں میں تبدیل کرتی رہتی ہے۔ ہمارے ہاں عام طور پر یہی چار موسم ہوتے ہیں۔ ہر موسم کے اپنے تقاضے، اپنی خوبصورتی اور رنگینی ہوتی ہے۔ ہر موسم اپنے اندر اپنی منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ موسم کی مناسبت سے جسم انسانی کی طبعی اور فطری ضرورتیں بھی تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ غذا، لباس اور طرز زندگی بھی تبدیل ہوجاتے ہیں۔ موسم سرما کے بعد موسم بہار پھر موسم گرما اور پھر خزاں کا موسم اور پھر لوٹ کرموسم سرما آجاتا ہے۔ اس طرح موسم اپنے معمول کے مطابق بدلتے ہیں۔ البتہ ہر موسم کے درجہ حرارت کے مطابق تقاضے ہوتے ہیں۔ اور انسان ان کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال لیتا ہے۔ جب موسم بہار کے بعد موسم گرما آتا ہے توجسم انسانی فطری طور پر رد عمل رہتا ہے۔ اور اس موسم میں ہلکی غذا، سادہ اور باریک لباس اور ٹھنڈی آب و ہوا کا متقاضی ہوتا ہے۔ اس لیے بدلتا موسم جسم میں تبدیلیاں چاہتا ہے۔اگر ایسا نہ کیا جائے تو طبیعت میں بے چینی اور اضطراب پایاجاتا ہے۔ مرغن اور گرم اشیاء تلخی کا سبب بنتی ہیں۔ جب کہ ہلکی اور سادہ غذا جسم کی ضروریات پورا نہیں کرتیں۔ اس طرح موسم کے ناموافق اثرات سے صحت جسم متاثر ہوتی ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ موسم گرما سے موسم سرما اور موسم سرما سے موسم گرما کا درمیانی عرصہ صحت کے حوالے سے جسم میں پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے۔ اگر موسم کی تبدیلی کے اثرات سے جسم کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو ہم اپنی جسم کی ضروریات اورموسمی تقاضوں میںتوازن کی کوشش کریں۔ جسے موسم سردی سے گرمی کی طرف مائل ہو تو فورًا ہی نمی اور ٹھنڈک کی طرف نہ جائیں۔ جسے پنکھے کی ہوا اور ٹھنڈے پانی اور ہلکے کپڑوں کا استعمال ہے۔ ایسا مکمل موسم بدلنے پر مئی کے بعد کرنا چاہیے۔ اگرچہ مارچ /اپریل کا موسم جسے بہار کا موسم بھی کہاجاتا ہے۔ میں مرطوب ہوا دل افروز اور مسحور کن ہوتی ہے۔ مگر صحت کے حوالے سے ہوا کی نمی اور خنکی مضر بھی ہوسکتی ہے۔ اسی طرح ٹھنڈا پانی بھی جسم کے لیے تسکین کا باعث ہوتا ہے۔ مگر جسم کا درجہ حرارت متوازن نہ ہونے کی وجہ سے بخار، جسمانی ٹوٹ پھوٹ اور اضمحلال جیسی کیفیت کا باعث بن سکتاہے۔ اس لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ باقاعدہ موسم گرما کے شروع ہونے تک نیم گرم پانی سے غسل کیاجائے۔ موسم کی اس تبدیلی کے دوران اگر احتیاط نہ کی جائے تو نزلہ زکام، ورم حلق، موسمی بخار، کھانسی،الرجی، اور نظام ہضم کے مسائل ہو سکتے ہیں۔ ان میں نزلہ زکام اور فلو کثرت سے ہونے والے مسائل میں سے ہیں۔ آج کل تو یہ وبائی اور وائرل مرض کے طور پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ جن کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے۔ وہ جلد اس کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اس لیے ان سے محفوظ رہنے کے لیے جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔ بدلتے موسم کو کچا پکا موسم بھی کہاجاتا ہے۔ یعنی مکمل سردی ہوتی ہے اور نہ گرمی۔ اس طرح عدم توازن کا رویہ صحت جسم کو مسائل کا شکار کر سکتا ہے۔ جن میں سستی، کاہلی اور تھکاوٹ نمایاں ہیں۔ مطب کے مشاہدات کے مطابق ورم حلق کی وجہ سے نزلہ زکام، فلو اور کھانسی کی علامات سامنے آتی ہیں، اور بچے اور بوڑھے زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ کیونکہ ان کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے۔ ورم حلق کی وجہ سے یہ ہوتی ہے کہ حلق کی نالیاں حساس اور نازک ساخت کی ہوتی ہیں اور تھوڑی سی بے احتیاطی جس طرح گرم، سرد، ترش اور چکنی اشیاء سے مستورم ہوکر نزلہ، زکام، فلو اور کھانسی کے حملے کا باعث بن جاتی ہیں۔ اس کے لیے درج ذیل نسخہ بہت موثر ثابت ہوا ہے۔ بہدانہ تین گرام، عناب پانچ دانے، سپستاں (لسوڑیاں)تین گرم اور ملٹھی تین گرام کا جوشاندہ بنا کر پینا مفید ہے۔ بخار کی صورت میں خاکسی تین گرام کا اضافہ کر لیا جائے، گرم، تلی ہوئی، ترش اور ٹھنڈی اشیاء سے پرہیز کیا جائے۔ بڑا گوشت، بینگن، دال مسور، ضرورت سے زیادہ چائے، کافی اور قہوہ سے احتیاط کی جائے۔ کولا مشروبات، بیکری اور تیز مصالحہ جات سے پرہیز کریں۔ ہلکی غذا لیں، دیسی چوزہ کی یخنی، چربی سے صاف بکرے کے گوشت اور چنوں کا شوربہ مفید ہے۔ کھچڑی اور جو کادلیہ بھی فائدہ مند ہے۔ ادرک والی چائے کااستعمال کریں۔ بلغم کی صورت میں دودھ سے پرہیز کریں۔ سائیکل یا موٹر سائیکل چلاتے وقت مکمل گرمی کا موسم آنے تک گرم کپڑوں کا استعمال جاری رکھیں۔ خاص کر صبح اور شام اس کا اہتمام ضرور کریں۔ جاتی سردی اور آتی سردی سے بچاؤ کے لیے بچوں اور بوڑھوں کو خاص کر احتیاط کرنی چاہیے کہ ان کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے۔ اگر علامات برقرار رہیں تو جلد معالج سے رجوع کریں۔

جاوید قاسم۔۔۔۔چند یادیں

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے