سو لفظوں کی کہانی فریب
شاہد کاظمی
جو برا لگا،
دل میں رکھنے کے بجائے،
سچائی سے دوسو کو کہہ دیا،
خیال تھا سچائی کا برا نہیں منائے گا،
اور شائد اچھا لگے گا اسے،
مجھے حیرانگی ہوئی
کہ وہ مجھ سے ناراض ہو گیا،
پرخلوص سچائی یقیناً اسے پسند نہ آئی تھی۔۔۔
میں نے مشکل سے اسے راضی کیا۔
مجھے تم میں کچھ برا لگتا ہے تو وہ دل میں رکھ لیتا ہوں،
تمہیں بتاتا نہیں،
میں نے اب اسے بتایا،
سوچا اس پہ یقیناَ وہ ناراض ہو گا۔۔۔
ہاں، کوئی بات نہیں،
وہ قہقہ لگاتے ہوئے بولا۔۔۔
جھوٹ میں لپٹی منافقت اسے بہت پسند آئی۔





